روسی قوم کا ذوقِ مطالعہ

روسی قوم کا ذوقِ مطالعہ
روسی قوم کا ذوقِ مطالعہ

  

روسی قوم کو مطالعہ کا بے حد شوق ہے۔ کُتب بینی ان کی ایک شناخت اور خصوصیت کا درجہ رکھتی ہے۔ ہر گلی، محلے میں حکومت کی طرف سے قائم کردہ کُتب خانے موجود ہیں۔ ان کُتب خانوں میں سینکڑوں موضوعات پر ہزاروں کُتب دستیاب ہیں۔ ان کُتب خانوں کا انتظام و انصرام حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔ کُتب خانوں کی انتظامیہ کُتب خانے کو جاذب اور پُر کشش بنانے کے لئے ہر ہفتہ رنگا رنگ پروگرام ترتیب دیتی ہے اور مطالعہ اور کتاب کا ذوق اُبھارنے کے لئے دسیوں طریقے اور نئے نئے انداز ڈھونڈتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔

آپ خاص طور پر روس کے بڑے بڑے شہروں ماسکو وغیرہ میں دیکھیں گے کہ لوگ پارکوں، ریلوے سٹیشنوں، میٹرو بس اور گاڑیوں میں بھی کُتب بینی کے شوق سے حظ اُٹھاتے نظر آئیں گے۔ آپ اگر ریل گاڑی یا میٹرو میں سفر کر رہے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ مسافروں کی اکثریت کُتب بینی میں مصروف ہوتی، حتیٰ کہ آپ روسیوں اور غیر ملکیوں خاص طور پر مسلمان ممالک کے باشندوں اور ایشیائی لوگوں کو فارغ بیٹھے یا خراٹے بھرتے دیکھ کر بخوبی ان کی قومیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

روسی قوم کس طرح کی کُتب پڑھتی ہے؟ روسی خاص طور پر معیشت، کمیونزم، تاریخ، ناول، سیاست، ادب، سوانح عمریاں یا رسالے، میگزین اور اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ظاہر ہے سب کی پسند الگ الگ ہے ،لیکن عموماً لوگ مذکورہ بالا موضوعات پر بھی کُتب بینی اور محو مطالعہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک روسی باشندہ معلومات عامہ کا ادراک بھی رکھتا ہے اور تاریخ سے بھی واقفیت بھی۔ عظیم ہستیوں کے کارناموں سے آگاہ رہتا ہے اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی سے پیوستہ بھی۔

اگرچہ آج کا دور انٹرنیٹ، موبائل، آئی پیڈ اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ،لیکن ان جدید سہولیات کے باوجود روسی قوم نے کتاب کا ساتھ نہیں چھوڑا، حتیٰ کہ وہ اپنے کمپوٹر، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ اور موبائل سے بھی اپنے ذوق مطالعہ کی تشنگی مٹاتے نظر آتے ہیں۔ سیڑھیاں چڑھتے یا اُترتے، ٹریفک اشاروں پر چند سیکنڈز کے لئے رکتے وقت یا گلی میں چلتے ہوئے جب بھی اُنہیں فرصت ملتی ہے، روسی باشندے کُتب بینی مشغول نظر آتے ہیں۔ اگر آتے جاتے اس دوران آپ سے ٹکرا جائیں تو معذرت کر کے دوبارہ غرقِ مطالعہ ہو جاتے ہیں۔ کاش اچھی اور بہترین کُتب روسی زبان میں ڈھال کر وہاں کی لائبریریوں یا کُتب خانوں میں موجود ہوں تو اس سے روسی لوگوں کو اپنی تہذیب و ثقافت اور تمدن سے آگاہ کیا جا سکتا ہے اور تبلیغ و اشاعت کا کام بڑی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ دوسری طرف ہم پاکستانی قوم ہیں جن کا بسوں، بس سٹاپ، ریل گاڑی، ہوائی جہازوں اور پارکوں میں زیادہ تر وقت گپ شپ، کھانے پینے، سونے یا فارغ بیٹھنے میں گزر جاتا ہے۔ کُتب خانے ویران ہوتے جا رہے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو پبلک لائبریریوں کا رخ کر کے دیکھ لیں۔ کُتب پڑی پڑی خراب ہو رہی ہیں۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی کُتب بینی اور ذوق مطالعہ کو بڑھانے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ روس میں سکولوں میں باقاعدہ کُتب بینی کا ایک الگ پیریڈ اور وقت وقف کیا ہوتا ہے جس کے دوران تمام طلبہ و طالبات کو لائبریری میں جانا ہوتا ہے ،جہاں انہیں اپنی پسند کی کُتب کے مطالعہ کا موقع ملتا ہے۔

روس کے سکولوں میں سب سے زیادہ پر کشش پیریڈ لائبریری کا پیریڈ ہی ہوتا ہے جس میں طلبہ و طالبات بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سکول انتظامیہ اور لائبریری کا عملہ بھی اس دورانیہ کو بہترین بنانے کے لئے ہر ہفتہ نئے نئے پروگرام ترتیب دیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ مطالعہ کا ذوق اُبھارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس میں مطالعہ کا شوق نسل در نسل منتقل ہور ہا ہے اور ایک عام روسی باشندہ ایک مہینے میں کم از کم سینکڑوں صفحات اور کئی کُتب کا مطالعہ کر لیتا ہے اور اپنے ذہن کو جلا بخش کر متحرک رکھتا ہے۔ روسی قوم کی کُتب بینی کی اس عادت سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، کیونکہ وحی کے سب سے پہلے الفاظ ’’اقرا‘‘ یعنی ’’پڑھ‘‘ یا ’’پڑھو‘‘ کے بارے میں ہی تھے ۔دینِ اسلام میں علم کا حصول مرد اور عورت دونوں پر لازم ہے، یعنی بطور مسلمان کُتب بینی اور ذوقِ مطالعہ ہمارے لئے ایک مذہبی اور دینی فریضے کا درجہ رکھتا ہے۔

مزید :

کالم -