مجھے شرم نہیں آتی

مجھے شرم نہیں آتی
مجھے شرم نہیں آتی

  

مُلک عزیز میں گزشتہ تین ماہ سے اظہار رائے کی مادر پدر آزادی ہے، خاص طور پر قائد انقلاب و آزادی عمران خان کوLicence to Killکی حد تک آزادی حاصل ہے۔ موصوف کو ہر شخص کے خلاف بولنے کی آزادی ہے چاہے جس کے خلاف جو الزامات لگائیں یا بہتان تراشیں، کیونکہ ہر روز بولنا ہے اور ہر شخص کے بارے میں بولنا ہے تو پھر یہ بھی ہے کہ جو دل میں آئے بولنا ہے۔گزشتہ روز اپنے ایک چہیتے ٹیلی وژن اینکر کے خلاف عدالتی کارروائی کا غصہ کچھ اس طرح نکالا کہ پاکستان بھر کے میڈیا ہاوسز، ٹیلی ویژن اینکرز اور کالم نگاروں کو بکاؤ مال قرار دے دیا اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے اُن افراد کو شرم آنی چاہئے، جو تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف بات کرتے ہیں یا تحریر کرتے ہیں۔

قصور عمران خان کا نہیں، بلکہ میڈیا کا ہی ہے۔ جب آپ کسی کو حد سے زیادہ کوریج دیں گے، تو جواب تو یہی آئے گا۔ حضرت علیؓ کا مشہور قول کہ ڈرو اس سے جس پر احسان کرو، غلط تو ہو نہیں سکتا، تو اب میڈیا اس محسن کشی کو برداشت کرے، لیکن عمران خان کیا حقائق بیان کرنے اور صحیح بات عوام کو پہنچانے والوں کو شرم آنی چاہئے یا شرم انہیں آنی چاہئے، جنہیں پاکستان بھر کے عوام نے پیسے لے کر ٹی وی پر ٹاک شو کرتے دیکھا اور ان لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی کہ جو روزانہ گھنٹوں چینل پر بیٹھ کر خود ساختہ خبریں چلاتے رہے، جو چند منٹ بعد ہی غلط ثابت ہو گئیں۔

عمران خان صاحب شرم انہیں آنی چاہئے جو جھوٹے الزامات لگاتے ہیں، آپ اپنے آپ کو بہادر اور سچ کا علمبردار کہتے ہیں، تو پھر آپ اپنے کنٹینر سے یہ اعلان بھی فرما دیں کہ میڈیا کے کون سے افراد بابکاؤ مال ہیں، لیکن اگر آپ میں سچ سننے اور سچ برداشت کرنے کا حوصلہ ہے، تو پھر سب سے پہلے آپ اپنے اردگرد ضرور نظر دوڑا لیں۔ آپ کو ضرور یہ حق حاصل ہے کہ آپ اسحاق ڈار، نواز شریف اور آصف علی زرداری سے ان کی دولت اور ان کے کاروبار کے بارے میں دریافت کریں، نہ میڈیا کو اعتراض ہے اور نہ ہی کسی کالم نگار کو، لیکن تحریک انصاف کے قائد اور انصاف کے علمبردار کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے کنٹینر پر موجود اور اس کی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے پاس آنے والی دولت کے ذرائع کیا ہیں۔

کیا کبھی قائد آزادی و انقلاب نے جہانگیر ترین،عبدالعلیم خان اور اعظم سواتی سے بھی یہ دریافت کیا کہ وہ اتنے دولت مند کیسے ہو گئے۔ آپ ساری دنیا کو ضمیر فروش اور ضمیر کا سوداگر کہتے ہیں، کبھی اپنے اردگرد کھڑے ان لوگوں سے بھی دریافت کیا کہ وہ گزشتہ دس سال میں کتنی بار پارٹیاں تبدیل کر چکے ہیں۔ آپ ہر کاروباری شخص سے اس کے کاروبار میں اضافے کے بارے میں تو دریافت کرتے ہیں، لیکن کبھی جہانگیر ترین سے بھی معلوم کیا کہ وہ شوگر کنگ سے لے کر ماربل کنگ کس طرح بن گیا۔

جہانگیر ترین کا تعلق تو کسی کاروباری خاندان سے بھی نہیں تھا۔ موصوف کے والد اللہ نواز ترین فوج میں بطور میجر ملازمت کرتے تھے، جب ایوب خان سے دور کی رشتہ داری کے عوض پولیس میں بطور ایس پی ملازمت اختیار کر لی اور یہی اللہ نواز ترین تھے، جنہوں نے کراچی میں پولیس افسری کے دوران محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں ایوب خان کے حق میں بھرپور دھاندلی کرانے کی کوشش کی، لیکن اس میں ناکام رہے اور اہل کراچی نے دھونس اور دھاندلی کو مسترد کرتے ہوئے فاطمہ جناح کے حق میں ووٹ ڈالے۔ انتخابات کے نتائج کے بعد یہ اللہ نواز ترین ہی تھے، جن کی سرپرستی میں گوہر ایوب نے وہ بدنام زمانہ جلوس نکالا، جس کی یاد آج بھی اہل کراچی کے دِلوں میں موجود ہے۔ اسی خاص کارکردگی کے انعام میں ایوب خان نے اللہ نواز ترین کو غیر ملکی بیوریج فیکٹری کا پرمٹ عنایت کیا تھا۔ یہی وہ بیوریج فیکٹری ہے، جس کے ملتان میں قائم ہونے پر جہانگیر ترین اور ان کا خاندان کاروبار میں آیا۔

آج پورے ملک کو ٹیکس چوری کا طعنہ دینے والے قائد انقلاب اپنے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کے بارے میں معلوم کر لیں کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کن فیکٹریوں میں چوری کیا جاتا ہے۔ آپ ہر کاروباری شخص سے ضرور دریافت کریں کہ اس کے کاروبار اور اس کے کارخانوں میں اضافہ کس طرح ہوا، لیکن جہانگیر ترین سے بھی معلوم کریں کہ پولیس کی نوکری سے پہلی فیکٹری اور اس کے بعد لاتعداد بیوریج فیکٹریاں، شوگر ملیں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین اُن کے پاس کہاں سے آئی؟

آپ کا تو دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا میں شفاف حکمرانی کا دور دورہ ہے، تو پھر ایک فردِ واحد جہانگیر ترین مانسہرہ میں موجود پتھر کی تمام قیمتی کانوں کے مالک کیسے بن گئے۔ ایک سرکاری ملازم کا بیٹا جس کا کوئی کاروباری بیک گراؤنڈ بھی نہیں تھا۔ آج کیسے بیوریج، شوگر، ڈیری اور ماربل انڈسٹری میں کھربوں روپے کے کارخانوں کا مالک ہے۔ رہ گئے عبدالعلیم خان اور اعظم سواتی تو اُن کے بارے میں جو کہانیاں موجود ہیں، وہ عمران خان صاحب آپ کے کانوں تک بھی ضرور پہنچی ہوں گی، لیکن مَیں آج اس لئے یہاں تحریر نہیں کر رہا، کیونکہ مَیں مکمل تحقیق کے بغیر لکھنا قابلِ تعزیز سمجھتا ہوں۔ یہ آزادی صرف عمران خان کو حاصل ہے کہ ان کے کان میں آ کر جو کہا جائے وہ پوری قوت کے ساتھ بیان فرما دیتے ہیں ایک سانس میں چیف جسٹس (سابق) تصدق جیلانی کی تعریف کرتے ہیں اور دوسرے سانس میں انہیں دھمکیوں سے نوازتے ہیں۔ افتخار چودھری نے درست فرمایا کہ عمران خان پورے پاکستان میں صرف اپنے آپ کو عزت دار سمجھتے ہیں، اُن کی نظر میں اور کوئی عزت دار نہیں۔ قائدِ انقلاب آپ کو ہر جماعت میں بینک ڈیفالٹر اور قرض ہڑپ کرنے والے نظر آتے ہیں، ذرا اپنے صوبائی صدر اعجاز چودھری کے بارے میں ضرور معلوم کر لیں کہ2013ء میں ان کے کاغذات کیوں مسترد کئے گئے تھے۔ آپ کے صوبائی صدر نہ صرف بینکوں کے نادہندہ، بلکہ زرعی ادویات کے کاروبار کے حوالے سے موصوف نے عوام کا بھی کروڑوں روپیہ ادا کرنا ہے۔

عمران خان آپ کا قصور نہیں، آپ کے اردگرد ٹیکس چوروں اور بنک ڈیفالٹرز کا ہجوم ہے، آپ میڈیا کو بکاؤ مال کہتے ہیں، لیکن آپ کو اپنے کنٹینر پر سوار بکاؤ ٹولہ نظر نہیں آتا، اس ٹولے میں شامل افراد پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں سے اپنی قیمت وصول کرنے کے بعد آپ تک پہنچے ہیں۔ آپ کے اردگرد بکاؤ مال کا ہجوم لگا ہے اس لئے آپ کو ہر کوئی بکاؤ مال نظر آتا ہے۔ میڈیا کا کام حقائق بتاتا ہے، آپ کو صرف وہ بات اچھی لگتی ہے، جس میں آپ کی تعریف بیان کی جائے۔ اگر ٹی وی چینل آپ کو گھنٹوں گھنٹوں لائیو دکھائے، تو میڈیا اور اس کے اینکرز قابل تعریف۔ اگر کوئی یہ بات کرے کہ عمران خان روز ایک ہی بات دہراتے ہیں یا دھرنا اب صرف تفریحی پروگرام بن گیا ہے، تو پھر بکاؤ مال۔

محترم قائد انقلاب کالم نگاروں کی اکثریت اپنے ضمیر کی پابند ہے اور وہ جو تحریر کرتے ہیں قارئین اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ آپ کو پسند آئے یا نہ ہمارا کام ہے حقائق بیان کرنا اسی لئے مجھے شرم نہیں آتی، نہ بطور اینکر اور نہ ہی بطور کالم نگار شرم انہیں آنی چاہئے، جو پیسے لے کر پروگرام کرتے پکڑے گئے، لیکن آپ تو اُن کی خاطر عدلیہ کی دھمکیوں دیتے ہیں۔

مزید :

کالم -