پُرامن بلدیاتی انتخابات کے لئے حکومتِ پنجاب کے اقدامات

پُرامن بلدیاتی انتخابات کے لئے حکومتِ پنجاب کے اقدامات

  

صوبہ پنجاب کے 12 اضلاع کے شہری بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں آج اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے امیدواروں کو ووٹ ڈالیں گے۔ پہلے مرحلے میں پولنگ کا عمل تو پرامن منعقد ہوا، مگر جیت کی خوشی میں نکالی جانے والی ریلیوں کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند واقعات رونما ہوئے، جس کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق ہوئے۔ حکومت پنجاب نے دوسرے مرحلے میں انتخابات کو مکمل طور پر پُرامن بنانے کے لئے جامع ٹھوس اور فول پروف انتظامات کئے ہیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو اور عوام پرسکون اور پرامن ماحول میں اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں۔ پنجاب کے 12 اضلاع میں 11ہزار 862پولنگ سٹیشن اور 34ہزار 883پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں، جن کو اے پلس، اے اور بی کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔ ان اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے ایک لاکھ 5ہزار پولیس افسران و اہلکاران فرائض سرانجام دیں گے۔ ان میں ایلیٹ فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے جوان بھی شامل ہوں گے، جبکہ پاک فوج کی 40 کمپنیاں اور رینجرز کی 8کمپنیاں بھی سول انتظامیہ کی معاونت کریں گی۔

25اہلکار اے پلس کیٹگری ، 13اے اور 9اہلکاران بی کیٹگری کے پولیس اسٹیشنوں پر تعینات کئے گئے ہیں۔اسی طرح 25پولنگ اسٹیشنوں کو ایک سب انسپکٹر سپروائز کرے گا۔50پولنگ اسٹیشنوں کا ایک سیکٹر بنایاگیا،جس پر ڈی ایس پی اور 300پولنگ اسٹیشنوں پر مشتمل زون بنایاگیا، جس پر ایس پی رینک کا افسر پٹرولنگ کرے گا۔ ضلع کی سطح پر 15سے 20ریزرو پولیس رکھی گئی ہے اور سہ پہر 4بجے کے بعد ساڑھے پانچ ہزار پولیس کی تازہ دم نفری ڈیوٹی سنبھال لے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ہدایت جاری کی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کوئی بھی ممبر قومی و صوبائی اسمبلی پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ نہیں کریں گے۔ حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا ہے تمام بلدیاتی امیدوار فوری طور پر اپنا لائسنسی اسلحہ اپنے متعلقہ تھانے میں جمع کرائیں جو الیکشن کے تین دن بعد واپس کر دیاجائے گا۔ اگر کوئی امیدوار لائسنس جمع نہیں کرائے گا اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ اسلحہ کی نمائش پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کو ہرصورت میں ہنگامے اورتصادم سے پاک بنایا جائے گا تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔کسی سیاسی امیدوار کو پولنگ اسٹیشن کے اندر گن مین لے جانے پر پابندی ہوگی۔پولنگ اسٹیشن سے 300میٹر تک ووٹرز کے علاوہ کسی بھی گروپ کی صورت میں داخلے پر پابندی ہوگی۔سیاسی جماعتوں کا اپنے بالمقابل کیمپ قائم کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔اس موقع پر تمام سیکیورٹی انتظامات کا درجہ محرم الحرام کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کے برابر ہوگا۔اس امر کا بالخصوص خیال رکھا جائے گا کہ سیکیورٹی انتظامات کے دوران عوام الناس کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہواور لوگ آزادانہ طور پر اپنا حق رائے دیہی استعمال کرسکیں۔تمام امیدواران کے دفاتر کی بلاامتیاز چیکنگ کی جائے گی اور آتشیں اسلحہ کے برآمد ہونے کی صورت میں سخت قانونی قدم اٹھایا جائے گا۔حکومت پنجاب کی مانیٹرنگ ٹیمیں پولنگ اسٹیشن پر سیکیورٹی انتظامات کا مسلسل جائزہ لیں گی۔انتخابی قوانین کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز ایف آئی آر درج کی جائے گی۔صوبے بھر میں دفعہ 144کے تحت 13نومبر 2015ء سے لے کر 12دسمبر2015 ء تک 30دنوں کے لئے ہر قسم کے آتشیں اسلحے کی نمائش اور ہوائی فائرنگ پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔تمام حساس مقامات پر خصوصی نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔مقامی سطح پر تمام امیدواران کو سیکیورٹی ایشوز کے متعلق آگاہی فراہم کی گئی ہے ۔پولنگ ا سٹیشن تک غیر قانونی اسلحہ پر نظر رکھنے کے لئے ناکے لگائے گئے ہیں۔ عوام الناس تک اپنی بات پہنچانے کے لئے ضلعی اور پولیس کے افسران کو میگافونز فراہم کئے گئے ہیں۔ 12 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں پولنگ سٹیشن کے قریب 5یا 5سے زائدافراد کے اجتماع پر پابندی ہو گی اورپولنگ کے روزکسی بھی پولنگ سٹیشن کے قریب 300میٹر کی حدود میں 5یا 5سے زائد افرادجمع نہیں ہوسکیں گے۔ضلع کی سطح پر ایک افسر فوکل پرسن کا رول ادا کرتے ہوئے تمام تعلق داران (Stakeholders )کے ساتھ مسلسل رابطہ ہوگا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پہلے مرحلے کے دوران فائرنگ ، اسلحہ کی نمائش اور قانون شکنی کے دیگر واقعات پر بلاامتیاز 34 مقدمے درج ہوئے اور 107 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، یہ امر قابل ذکر ہے کہ گرفتار شدگان میں مسلم لیگ (ن) کے 23 حامی ، پیپلز پارٹی کے 10، آزاد 16 اور پی ٹی آئی کے 20 جبکہ دیگر 36 افراد شامل ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قانون شکنی کرنے والے تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی گئی۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ہدایت کی کہ12 اضلاع میں دوسرے مرحلے کے دوران بلدیاتی انتخابات کا پُرامن انعقاد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔بلدیاتی انتخابات والے 12اضلاع میں امن عامہ کی فضا برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور انتظامیہ اپنے فرائض جانفشانی سے سرانجام دے۔قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لئے پولیس کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔پرامن ماحول میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد ایک قومی ذمہ داری ہے ۔قانون اور انصاف کی عملداری یقینی بنانا پولیس اورانتظامیہ کا فرض اولین ہے۔پولیس اورانتظامی افسران پولنگ ڈے پُر امن عامہ برقرار رکھنے کے لئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں۔پرامن فضا یقینی بنانے کے لئے پیشگی حفاظتی اقدامات مکمل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جیت کی خوشی میں فائرنگ کرنے والوں کی جگہ جیل ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، قانون سب کے لئے برابر ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ قانون کی عمل داری یقینی بنانے کے لئے پہلے کبھی سمجھوتہ کیا نہ آئندہ کروں گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب بھر میں اسلحہ کی نمائش اور اسلحہ ساتھ رکھنے پر پابندی کے قانون پر سختی سے عمل در آمد کرایا جائے اورلائسنس یافتہ اسلحہ بھی ساتھ رکھنے پر بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ امن عامہ کی فضاء کو یقینی بنانے کے لئے ان اقدامات پر عملدر آمد انتہائی موثر انداز میں ہونا چاہئے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں سے لائسنس یافتہ اسلحہ متعلقہ تھانے میں جمع کرایا جائے اوراسلحہ جمع نہ کرانے والے بلدیاتی امیدواروں کے لائسنس منسوخ کر دیئے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ الیکشن جیتنے کی خوشی میں ریلی یا جلوس نکالنے اور ہوائی فائرنگ پر پابندی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ وضع کردہ پلان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور دوسرے مرحلے میں بلدیاتی الیکشن کا پرامن انعقاد یقینی بنانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ امن وامان کے حوالے سے اچھی کارکردگی دکھانے والے اضلاع کے انتظامی اور پولیس افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ کے روز فرائض سرانجام دینے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے لئے کھانے کا مناسب انتظام ہونا چاہئے۔کابینہ کمیٹی وضع کردہ سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کیل ئے تمام اقدامات کی مانیٹرنگ کرے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ شرپسندوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے۔

پنجاب میں پہلے مرحلے میں پرامن بلدیاتی انتخابات کا کریڈٹ لازماً وزیراعلی محمد شہبازشریف اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف امن وامان کی بحالی ، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف انداز میں بروقت تکمیل، لوگوں کامعیار زندگی بلندکرنے ، عوام کو صحت عامہ ، تعلیم اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے دن رات محنت کررہے ہیں ۔ اس بات کا ثمر انہیں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں ملا ہے۔شہریوں نے ثابت کردیاہے کہ مسلم لیگ (ن) ہی حقیقی معنوں میں عوام کی جماعت ہے اور ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ گذشتہ آٹھ سال کے دوران عوامی فلاح و بہبود کے بے شمار کام کئے گئے ہیں ۔تعلیم ، صحت، روزگار، امن و امان کا قیام کوئی شعبہ ہائے زندگی ایسا نہیں، جس میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع نہ کئے گئے ہوں۔ عوام کو جدید معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے میٹروبس منصوبہ شروع کیاگیاہے اور اب لاہور میں اورنج میٹروٹرین پر کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ یقیناًیہ منصوبہ زندہ دلان لاہور کی زندگیوں میں آسانیاں لا ئے گا ۔ زندہ دلان لاہور نے بھی مسلم لیگ (ن) کو کامیاب کرکے اپنا حق وفاداری ادا کردیاہے ۔ لہٰذا امید کی جاتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ بھی عوامی فلاح کاکام جاری وساری رکھے گی ۔

مزید :

کالم -