پیرس میں دہشت گردی اور ماحولیاتی سربراہ کانفرنس

پیرس میں دہشت گردی اور ماحولیاتی سربراہ کانفرنس

  



دنیا میں دہشت گردی کے عفریت نے جہاں پاکستان ، افغانستان ، عراق اور شام سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنا نشانہ بنایا اور تاحال بنایا جا رہا ہے، وہاں یورپ بھی دہشت گروں سے محفوظ نہ رہ سکا، پیرس میں رواں سال ہونے والے دوسرے بڑے د ہشت گردی کے حملے نے دنیا کو خون کے آنسو رْلا دیا ،لیکن ساتھ ہی ساتھ یورپ کے لئے ایک نئے نظام کے دروازے کھولنے کی نوید بھی سنا دی ہے، امریکہ نائن الیون کے باعث گزشتہ پندرہ سال سے دنیا کے خلاف حالت جنگ میں ہے، امریکہ کو کامیابی ملی یا نہیں ، یہ ایک سوالیہ نشان ہے لیکن امریکہ نے اپنے اہداف کو حاصل کیا ہے ،یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا، فرانس میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں سے پیرس کی خوشبویں لہو کی بو ضروربن گئی ہیں، دنیا میں دہشت گردی کے حملوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو نیویارک اور واشنگٹن میں گیارہ ستمبر 2001ء کو طیارے ہائی جیک کرنے کے بعدکے حملے جن میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کے باعث دو ہزار نوسو ترانوے افراد کی ہلا کت رپورٹ ہوئی ،جسے دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جاتاہے، جس نے دنیا کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا،بورنو نائیجیریا میں26 جولائی2009ء کو ہونے والا حملہ دوسرا بڑا واقعہ تھا جس میں سات سو اسی افراد ہلاک ہوئے،جبکہ تیسرا بڑا حملہ بھی نائیجیریا کے شہر ڈورو گون میں تین جنوری کو پیش آیا جس میں سات سو افراد ہلاک ہوئے،چوتھا بڑا حملہ چودہ اگست 2007ء کوتکریت عراق میں ہوا جس سے پانچ سو بیس افراد کی ہلاکت ہوئی،جبکہ یکم ستمبر 2004ء کوروس کے شہر بیسلان میں ہونے والے سکول حملے اور فائرنگ کے واقعہ نے تین سو بہتر افراد کی جان لے لی۔

26 نومبر 2008ء کو ممبئی حملوں میں ایک سو چوہتر افراد کی ہلاکت کی خبر دی گئی جو بھارت کی سیکورٹی فورسسز کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے،اور جس کے نتیجے میں پاکستان پر بھارتی الزامات کی بوچھاڑ کی گئی لیکن بھارت کی علیحدگی پسند تنظیمیں ہی اس حملے میں شامل نظر آئیں جو بھارت کی جمہوریت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔سولہ دسمبر2014ء دنیا کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ،جس روز معصوم بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، اورایک سو اڑتالیس افراد جان جانِ آفرین کے سپرد کر گئے، یہ واقعہ پشار میں پیش آیا اور پاکستان کی تاریخ کا بڑا سانحہ بن گیا، بھارتی ایجنسی را کی شمولیت کے ثبوت اور حملے میں شامل دہشت گردوں کو پاک فوج نے گرفتار بھی کیا لیکن شاید دنیا کی آنکھیں بھارت کے جرائم سے پردہ پوشی چاہتی ہیں،دس اکتوبر 2015ء ترکی کے شہر انقرہ میں ایک ریلی پر دہشت گردی کے حملے میں ایک سو اٹھائیس افرادجان کی بازی ہار گئے، دہشت گردی کا ایک اور بڑا واقعہ دس جنوری 2013ء کو پیش آیا جب پاکستان کے دوشہروں کوئٹہ اور مینگورہ سوات دھماکوں سے گونج اٹھے جس میں ایک سو بیس افراد جاں بحق ہوئے،دس اکتوبر2008ء کو اورکزئی ایجنسی میں دہشت گردی کے حملے کے باعث ایک سو دس افراد جان سے گئے۔

فرانس کے شہر پیرس میں ہونے والے بم دھماکوں سے ایک سو پچاس افراد کی ہلاکت کے بعد پورا یورپ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، پاکستان سمیت پوری دنیا دہشت گردی کے اس حملے کی مذمت کر رہی ہے،نومبر2015ء پیرس کے لئے اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں" COP21 " کانفرنس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے اور پوری دنیا کی نظریں پیرس پر لگی ہیں جہاں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کی سربراہی میں پوری دنیا کی اقوام اکٹھی ہو کر اپنی آنے والی نسلوں کی بقاء کے لئے سنجیدہ کوشش میں مصروفِ عمل ہیں، موجودہ وقت میں پیرس میں دہشت گردی کے واقعہ سے نہ صرف عالمی امن کو درپیش خطرات میں بھی اضافہ ہو ا ہے بلکہ پوپ فرانسس کی جانب سے جاری بیان جسے اہمیت دی جارہی ہے کہ یہ تیسری عالمی جنگ کی نشاندہی ہے ایک خطرے کی گھنٹی کے طور پر سامنے آیا ہے جس سے پوری دنیا کو نبٹنا ہو گا، امریکی صدر اوباما نے فرانس حملوں کے بعدپیرس کانفرنسCOP21""میں شمولیت کا عندیہ دے دیا ہے جو ایک اچھا تاثر ہے، جس سے عالمی امن کو تقویت ملے گی، فرانس میں ہونے والے حملے سے جہاں ایک تاثر یہ ملا کہ یورپ بھی غیر محفوظ ہے وہاں اقوامِ عالم پر یہ بھی واضح ہوا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جتنی کوششیں پاکستان نے کی ہیں شاید ہی کسی ملک نے کی ہوں، اور اس ضمن میں پاک فوج کو جتنا خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے،پیرس حملے جہاں عالم اسلام پر ایک بارپھر بھاری محسوس ہو رہے ہیں وہاں عالمی طاقتوں کو یہ پیغام بھی دے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں امن کے لئے اسلامی ممالک پیرس حملوں کی مذمت کر رہے ہیں اور دنیا کو اپنا کردار جلد از جلد ادا کرنا ہو گا ورنہ وہ دنیا جس کی ترقی اورحفاظت کے لئے تمام مذاہب اور اقوام کے لوگ مل بیٹھ کر انتیس نومبر سے پیرس COP21 میں سوچنے جا رہے ہیں وہ دنیا دہشت گردی کے خطرات میں مزید گھر سکتی ہے،فرانس حملوں میں نقصان کا خمیازہ تو کوئی نہیں ادا کر سکتا ہاں اور تمام دنیا اس غم میں برابر کی شریک ہے ،لیکن اگر رواں ماہ ہونے والی کانفرنس میں ماحولیات آلودگی سے دنیا کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اگر دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے بھی فرانس اپنا کردار ادا کرئے تو دنیا حقیقت میں امن کا گہوارا بن سکتی ہے۔

مزید : کالم