پاکستان میں قید سے رہائی پانے والا بھارتی جاسوس اپنے ملک واپس جاکر منظر عام پر آگیا، ایسی بات کہہ دی کہ بھارتی حکومت کو شرم سے پانی پانی کردیا

پاکستان میں قید سے رہائی پانے والا بھارتی جاسوس اپنے ملک واپس جاکر منظر عام ...
پاکستان میں قید سے رہائی پانے والا بھارتی جاسوس اپنے ملک واپس جاکر منظر عام پر آگیا، ایسی بات کہہ دی کہ بھارتی حکومت کو شرم سے پانی پانی کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دہلی(نیوزڈیسک) حال ہی میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کے پکڑے جانے کے بعد را کے نیٹ ورک پر کافی باتیں سامنے آچکی ہیں جو کہ پاکستان کے خلاف کام کررہا ہے۔ کئی دوست نما دشمن لوگ اسے تصوراتی کہانیاں کہہ کر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن اب ایک بھارتی سابق جاسوس نے را کے پوشیدہ عزائم سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

انڈیا ٹائمز کے مطابق 61سالہ ونودساہنی 1988ءمیں 11سال کی جیل کاٹ کر پاکستان سے واپس گیا۔یہ را کا اصول ہے کہ اس کے ایجنٹوں کا نام نہیں بتایا جاتا لیکن ونود ایسا واحد شخص ہے جس کی شناخت کا بتایا گیا ہے۔

بھارتی کرنسی تیزی سے گرنے لگی، مودی کی ہوائیاں اڑ گئیں

اس کا کہنا ہے ”ہماری زندگی فلموں میں دکھائے جانے والے ماحول سے بھی زیادہ مشکل ہوتی ہے۔پکڑے جانے کی صورت میں فلموں میں دکھایا جانے والا تشدد کچھ بھی نہیں اور ہم پر اس سے بھی زیادہ تشدد کیا جاتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت تھا کہ واپس آگیا کیونکہ اس کے ساتھ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کی جیلوں میں ہی موت واقع ہوگئی تھی۔“اس کا کہنا ہے کہ جاسوسی کرنے سے پہلے وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا اور ایک دن نامعلوم مسافر اس کی گاڑی میں بیٹھا اور اسے وطن کی خاطر کام کرنے کی ترغیب دینے کے ساتھ بھاری معاوضہ دینے کا بھی کہا،وہ راضی ہوگیا اور پھر اسے ٹریننگ کے بعد 1977ءمیںپاکستان بھیج دیا گیا۔اسی سال وہ گرفتار ہوا اور الزام ثابت ہونے پر اسے 11سال کی سزا سنائی گئی۔وہ مارچ 1988ءمیں رہا ہوا اور بھارت جاکر ایک نئی مصیبت میں پھنس گیا۔جس وطن کی خاطر اسے کام کرنے کا کہا گیا اور ساتھ ہی پرکشش معاوضہ کی آفر ہوئی تھی،اسی ملک نے اسے پیسے نہ دئیے اور وہ در در کی ٹھوکریں کھانے لگا۔اس کا کہنا ہے کہ اس کی طرح کے کئی لوگوں کو وطن واپسی کے بعد در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔”مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ پکڑے جانے کی صورت میں حکومت ہمیں پہچاننے سے انکار کردے لیکن کم از کم ہمارے خاندان کا تو خیال کیا جائے،ہم اپنی جوانی ملک کے لئے برباد کرکے دشمن ملک میں جاتے ہیں لیکن ہمارے خاندانوں کے ساتھ ایسا سلوک کوئی اچھی بات نہیں، ہمیں بھی فوجیوں کی طرح عزت دی جانی چاہیے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس