دنیا کی پہلی لڑکی جسے عدالت نے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اجازت دے دی

دنیا کی پہلی لڑکی جسے عدالت نے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اجازت دے دی
دنیا کی پہلی لڑکی جسے عدالت نے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اجازت دے دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک (نیوز ڈیسک) مغرب کے کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آنے والے دور میں میڈیکل سائنس کی ترقی اس درجے کو پہنچ جائے گی کہ مردہ لوگوں کو بھی زندہ کیا جاسکے گا۔ اس خوش گمانی میں مبتلا سائنسدانوں نے کرایو جینکس ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی ہے، جس کے تحت مردہ جسم کی مکمل صفائی کرنے کے بعد اسے منجمد کردیا جاتا ہے اور اس امید پر ایک فریزر ٹینک میں ڈال کر محفوظ کردیا جاتا ہے کہ کبھی اس لاش کو دوبارہ زندہ کیاجاسکے گا۔ امریکہ اور برطانیہ میں اب تک متعدد افراد اپنی لاشوں کو محفوظ کرواچکے ہیں، مگر پہلی بار برطانیہ کی ایک 14 سالہ بچی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر یہ حق حاصل کر لیا ہے کہ اسے بھی دوبارہ زندہ ہونے کے لئے اپنی لاش محفوظ کروانے کی اجازت دی جائے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ بچی ایک عرصے سے کینسر میں مبتلا تھی اور گزشتہ ماہ اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کی لاش کو بھی کرایو جینک ٹیکنالوجی سے محفوظ کردیا جائے تاکہ مستقبل میں اسے بھی دنیا میں دوبارہ لوٹنے کا موقع مل سکے۔ اس لڑکی کے والدین کی آپس میں علیحدگی ہوچکی تھی اور اس کے والد اس فیصلے کے سخت خلاف تھے۔ ان کا موقف تھا کہ یہ لاشوں کو محفوظ کرنے کا بہیمانہ طریقہ ہے اور وہ اس کام کے لئے 37 ہزار پاﺅنڈ (تقریباً 56 لاکھ پاکستانی روپے) کی بھاری فیس ادا کرنے کے حق میں بھی نہیں تھے۔ لڑکی کی والدہ اپنی بیٹی کے فیصلے سے متفق تھیں اور یہ معاملہ اس وقت بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب لڑکی نے اپنی لاش محفوظ کروانے کا حق حاصل کرنے کے لئے عدالت کا رُخ کرلیا۔

ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر خاتون کی سیلفی، لیکن پھر موبائل میں تصویر دیکھی تو اپنی شکل کے ساتھ ایسی خوفناک چیز نظر آگئی کہ خوف کے مارے دم بخود رہ گئی

اس نے بستر مرگ سے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کو ایک خط لکھا جس میں کہا ”میں صرف 14 برس کی ہوں اور میں مرنا نہیں چاہتی، لیکن مجھے معلوم ہے کہ میں مرنے والی ہوں۔ میں زندہ رہنا چاہتی ہوں اور لمبی عمر پانا چاہتی ہوں اور میرا خیال ہے کہ مستقبل میں وہ میرے کینسر کا کوئی علاج دریافت کرلیںگے اور مجھے پھر سے زندہ کرلیں گے۔ میں یہ موقع حاصل کرنا چاہتی ہوں، یہ میری آخری خواہش ہے۔ میں مٹی کے نیچے دفن نہیں ہونا چاہتی۔“

ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس جیکسن نے 18 اکتوبر کو اس بچی کی وفات سے کچھ وقت پہلے ہسپتال جاکر اس سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ انہوںنے اس امید کا اظہار کیا کہ اپنی آخری خواہش پوری ہونے کی امید کے ساتھ وہ سکون سے دنیا سے رخصت ہوئی ہوگی۔

عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ لڑکی کے حق میں کیا اور اسے اپنی لاش کرایوجینک ٹیکنالوجی سے محفوظ کروانے کی اجازت دے دی۔ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد اب اس کی لاش کو امریکہ پہنچادیا گیا ہے جہاں ڈیٹرائٹ شہر کے قریب واقع کرایونکس انسٹی ٹیوٹ میں اس کی لاش کی صفائی کے بعد اسے ایک نائٹروجن ٹینک میں ڈال کر گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اس کا درجہ حرارت بتدریج کم کرتے ہوئے -196 ڈگری سیلسیس پر لایا جا چکا ہے۔

واضح رہے کہ متعدد عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔ ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آج تک کسی بھی جاندار کو مرنے کے بعد پھر سے زندہ کرنے کے تجربات کامیاب نہیں ہوئے۔ کرایوجینکس ٹیکنالوجی کو صرف نامور سائنسدانوں کی تنقید کا ہی سامنا نہیں ہے بلکہ سماجی اور اخلاقی بنیادوں پر بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس