کشمیر کے معاملے پر صدر اردوان کا صائب مشورہ

کشمیر کے معاملے پر صدر اردوان کا صائب مشورہ

ترکی کے صدر رجب طیبّ اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر کے دُکھ کا احساس ہے مسئلے کا فوری بامعنی حل چاہتے ہیں، ترکی کو کشمیر میں بھارتی مظالم پر گہری تشویش ہے اور وہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا خواہاں ہے اور اِس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے گا، دونوں ممالک(پاکستان اور بھارت) کو مذاکرات کے ذریعے اِس مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔ بین الاقوامی طاقتوں کو بھی اِس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ اور اچھے تعلقات خطے کے لئے ضروری ہیں۔ ترک صدر نے پارلیمینٹ سے اپنے خطاب میں مسلم اُمہ کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے اتحاد و یگانگت پر زور دیا۔

ترک صدر رجب طیبّ اردوان عالمی سطح پر مسلم جہاندیدہ سیاست دان اور سٹیٹسمین ہیں پاکستان کے ساتھ اُن کے خصوصی دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں ،اِس لئے وہ پاکستان کو وہی مشورہ دیں گے جو پاکستان کے حق میں مفید ہو گا،اِس لئے وہ اگر کشمیر کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے پُرامن طور پر حل کرنے پر زور دیتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہیں جدید دور میں جنگ کی تباہ کاریوں کا ادراک ہے۔ مشرق وُسطیٰ کا جنگی تھیٹر ترکی کے بہت قریب ہے اور وہاں ہونے والی تباہ کاریوں کا وہ بنظرِ غائر مشاہدہ کر رہے ہیں، اِس لئے وہ جنگ کی حمایت تو نہیں کر سکتے، قبرص کے مسئلے پر انہوں نے ہمیشہ اصولی موقف اپنایا تاہم اس کی وجہ سے جنگ چھیڑنے سے گریز کیا،اِس لئے اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کشمیر کا تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل کریں تو اس میں بڑی حکمت پوشیدہ ہے تاہم اِس ضمن میں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر کیسے لایا جائے،کیونکہ بھارت اِس سے گریز پا ہے اور حیلوں بہانوں سے راہِ فرار اختیار کرتا رہتا ہے۔

گزشتہ برس بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا، جو اب تک شروع نہیں ہو سکے، اِس دوران پٹھان کوٹ ائر بیس اور مقبوضہ کشمیر میں اُڑی جیسے واقعات کی بنیاد پر نہ صرف مذاکرات سے گریز کی پالیسی اپنائی گئی، بلکہ پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی دراز کیا گیا۔بعد کے واقعات میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ پٹھان کوٹ اور اُڑی کے واقعات میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، خود بھارتی اداروں نے بھی یہ بات تسلیم کی،لیکن بھارتی میڈیا یک طرفہ الزام تراشی کی روش پر اڑا رہا اور بھارتی حکومت کشمیر کی کنٹرول لائن پر کشیدگی پیدا کرتی رہی۔ ایک موقع پر تو ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کا ڈرامہ بھی رچا دیا گیا،لیکن اِس سلسلے میں جو بھی سوالات اُٹھے بھارتی حکومت اور اس کے ذمہ دار اداروں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، جس فورم پر بھی سوال کئے گئے یہی جواب دیا گیا کہ سوال نہ ہی کریں گویا بھارتی حکومت اپنے ڈرامے کو سوالات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

چند روز قبل کنٹرول لائن کے بھمبھر سیکٹر میں بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاکستان کے سات فوجی شہید کر دیئے، پاکستان میں جہاں جہاں اِن شہدا کی تدفین ہوئی اُن کی تمام تر تفصیلات محفوظ ہیں، تصویریں موجود ہیں اور پاکستانی قوم اپنے اِن شہدا کے جنازوں میں شریک ہوتی ہے اور اس پر فخر کرتی ہے کہ وہ وطن کی حُرمت پر قربان ہو گئے۔ اِس واقعہ کے جواب میں پاکستانی فوج نے حملہ کر کے 11بھارتی فوجی ہلاک کر دیئے اور تین چیک پوسٹیں تباہ کر دیں،لیکن بھارتی سورماؤں کو سانپ سونگھ گیا اور انہوں نے اپنی افواج کے نقصانات کا کسی جگہ تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔کسی اخبار میں اپنے مرنے والوں کا ذکر تک نہیں کیا، کسی ٹی وی چینل پر اس کی خبر نہیں چلی، وجہ غالباً یہ ہے کہ بھارتی حکومت اور فوج نے اپنے مُلک میں یہ جعلی اور مصنوعی تاثر قائم کر رکھا ہے کہ اس کی فوج علاقے کی بالادست قوت ہے اور کوئی اس کا مدمقابل نہیں، اگر وہ اپنی اموات کو کھلے عام تسلیم کرتے ہیں تو اِن سارے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے،اِس لئے بھارتی فوج اور حکومت اپنے نقصانات کو چھپاتی پھرتی ہے اور اپنی خیالی ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کے چرچے کرتی ہے، چند روز قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی اس کا تذکرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت جرأت کے ساتھ اپنے نقصانات کو تسلیم کرے۔ اس کے بعد بھارت نے اپنی افواج کی تردید کر دی۔

جنگ یا جنگی کارروائیاں ایسی چیز نہیں ہیں جن میں کسی ایک فریق کا تو نقصان ہوتا رہے اور دوسرا مزے سے چین کی بنسری بجاتا رہے،بھارت اگر اشتعال انگیزی کرے گا، پُرامن ماحول کو خراب کرے گا اور پاکستانی پوزیشنوں پر گولہ باری کرے گا تو اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا جواب بھی اسی شدت سے آئے گا۔پاکستان نے ہمیشہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم جہاں جواب دینے کی ضرورت محسوس کی ہے وہاں پوری طاقت سے جواب بھی دیا ہے اور یہ پیغام بھی دیا ہے کہ کنٹرول لائن پر اگر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی تو پھر اسی زبان میں جواب بھی ملے گا، اِس لئے بہتر یہی ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے اور جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرے اس کی مخالفت سے بھارت کا بھی نقصان ہو گا اور خطے کا امن بھی غارت ہو گا۔

صدر رجب طیبّ اردوان نے مقبوضہ کشمیر کے حالات اور کشمیریوں کے دُکھوں پر جائز طور پر تشویش ظاہر کی ہے اور بڑی طاقتوں کو مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہا ہے،جو اِس صورت میں ادا ہو سکتا ہے کہ بڑی طاقتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔پاکستان نے تو ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ہے اور کبھی اِس سے راہِ فرار اختیار نہیں کی۔ یہ بھارت ہے جو ہمیشہ مذاکرات سے بھاگتا ہے اور کبھی شروع بھی ہو جائیں تو جب بات کشمیر کی ہوتی ہے تو طرح دے جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اِس سلسلے میں اپنی خدمات کئی بار پیش کر چکے ہیں،لیکن بھارت نے ہمیشہ اِس کا جواب نفی میں دیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر باہمی مسئلہ ہے اِس پر بات چیت کے لئے کسی تیسری قوت کی ضرورت نہیں، تو پھر سوال یہ ہے کہ تیسری قوت کے بغیر بھارت مذاکرات شروع کیوں نہیں کرتا؟ اب ترکی کے صدر نے مسئلہ کشمیر کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے پر جو زور دیا ہے وہ خطے کے امن کے لئے بہت اہم ہے اور اِس پر لبیک کہتے ہوئے دونوں ممالک کو مسئلے کا پُرامن حل تلاش کر کے آگے بڑھنا چاہئے تاکہ خطہ خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ البتہ بھارت کو اب سمجھ جانا چاہئے کہ وقت گزاری کا رویہ نہیں چلے گا اور مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو گا۔

مزید : اداریہ