سموگ؟ احساس زیاں جاتا رہا؟

سموگ؟ احساس زیاں جاتا رہا؟
 سموگ؟ احساس زیاں جاتا رہا؟

  

ابھی کوئی زیادہ دن تو نہیں گزرے۔ ہمارے میڈیا والے بھائیوں کو نیا مسئلہ مل گیا تھا، دو تین دن اسی پر کام چلتا رہا، شہریوں میں بھی احساس پیدا ہوا، پھر دور کی کوڑی بھی لائی گئی کہ فضا میں دھند نے آلودگی اختیار کرلی۔ کہا گیا کہ دھند کی سفیدی میں دھوئیں کی ملاوٹ ہو گئی اور یہ اب ’’فوگ‘‘ نہیں ’’سموگ‘‘ ہے یعنی دونوں کا مجموعہ پھر خبر چلی کہ بھارتی پنجاب (مشرقی) اور ہریانہ کے کسانوں نے چاول کی فصل کاٹ کر چھانٹ لی اور اس کے بھوسے کو کھیتوں میں آگ لگا دی جس سے بہت زیادہ گاڑھا دھواں اٹھا اور ساری فضا کو آلودہ کر دیا بات صرف بھارتی پنجاب کے دو تین شہروں تک نہ رہی اس نے دلی سے لاہور تک کے علاقے کو سموم کر دیا اور یہاں سے بھی یہ پھیل کر ہمارے وسطی پنجاب کے کئی اور شہروں کو بھی متاثرکر گئی، یہ دھند اور دھواں اتنا کشیف تھا کہ سورج کی شعاعیں بھی معدوم ہو گئی تھیں۔ اس کی وجہ سے سانس، گلے اور چھاتی کے امراض پھیلنا شروع ہو گئے۔ ہسپتالوں میں یکایک مریضوں کی تعداد بڑھی، میڈیا نے کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا، تعداد بارہ سو (صرف لاہور میں) تک پہنچی تو حکومت بھی چوکس ہو گئی۔ سویا ہوا محکمہ ماحولیات کروٹ لے کر جاگا اور محکمہ صنعت سے مل کر آلودگی پھیلانے والی سٹیل ملوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی یہ الگ بات ہے کہ بند کی جانے والی ملوں کی تعداد دس سے پندرہ تک رہی اور ہینڈ آؤٹ میں یہ چالیس بتائی گئی اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ محکمہ پورے صوبے میں سروے کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے خصوصی نوٹس لیا اور ہدائت کی کہ جو بھی صنعت ماحولیات کے قواعد کی پابندی نہیں کرتی اور قانون پر پورا نہیں اترتی اسے بند کر دیا جائے۔بات یہاں تک نہ رہی وزیراعظم محمد نوازشریف کو بھی نوٹس لینا پڑا اور انہوں نے ہدائت کی کہ پورے ملک میں گاڑیوں کی فٹنس چیک کی جائے۔ دھواں کا سدباب کیا جائے چاہے سختی کرنا پڑے کہ شہریوں کی صحت سے کوئی امر افضل نہیں۔

یہ ہنگامہ (معذرت) چلا اور سموگ نے بھی قریباً ایک ہفتے تک لوگوں کو خوب پریشان کیا، بیمار بھی ہوئے۔ ہسپتالوں میں گئے اور گھریلو ٹوٹکے آزمائے گئے ہر تیسرے شہری کے منہ پر میڈیکل ماسک نظر آنے لگا۔ شہر کے مصروف چوراہوں پر کھڑے ہو کر موٹرسائیکل اور سکوٹر سواروں کو راغب کرکے ماسک بیچنے والوں کی روزی کھل گئی۔ میڈیکل سٹور والوں کو نئے آرڈر دے کر ماسک منگوانا پڑے ۔ پھر اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ موسمیات والے پنڈتوں کی پیش گوئی کے برعکس اللہ کو رحم آیا اور مغرب کی طرف سے نمی والی ہوائیں بھیج دیں، دور دور تک بارش ہوئی اور ہوا بھی چلی، لاہور میں تو بونداباندی ہی ہوئی لیکن یہاں اس کے ساتھ ہوا نے مل کر سموگ کے عذاب سے جان چھڑائی اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔

خیال تھا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں متحرک ہو جانے والے شعبے پھربھی حرکت میں رہیں گے اور ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہو جائے گا، لیکن یہ صرف خواہش اور آرزو ہی رہی کہ جونہی اللہ کی قدرت سے بارش اور ہوا کے باعث یہ ’’سموگ‘‘ ختم ہوئی۔ ہمارے محکمے پھر سے خراٹے لینے لگے اور مزے کی نیند سو گئے اب ہنگامی حالات نہیں رہے تو میڈیا اور سرکار سب چپ ہوگئے ہیں حالانکہ آلودگی پھیلانے والا ایک بھی محرک درست نہیں کیا جا سکا، اب بھی رکشے اور چنگ جی (چاند گاڑی) کی بڑی تعداد کشیف دھواں پھینکتی ہے۔ ڈیزل سے چلنے والی بسیں بھی یہی خدمت کر رہی ہیں اور پھر نجی کاریں بھی اضافے کا باعث ہیں، اکثر پرانی گاڑیوں میں سے گاڑھا اور کالا دھواں نکلتا ہے یہ تو سڑکوں کی حالت ہے، کارخانے اور صنعتیں پھر سے پرانی ڈگر پر چل رہی ہیں۔محکمے والے معمول پر آ گئے اور صنعت کار ’’ٹریٹمنٹ‘‘ کے بغیر ہی صنعتیں چلائے جارہے اور آلودگی پھیلا رہے ہیں۔

اور تو اور شہر کے ہر علاقے میں کوڑا جلایا جا رہا ہے۔ اس کوڑے میں پلاسٹک والے شاپر بھی جلتے ہیں اور آلودگی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آج کل خزاں ہے۔ پت جھڑ لگی ہوئی۔ ہر سبز جگہ پر یہ پتے اکٹھے کرکے آگ دکھائی جا رہی ہے اور یہ سب دھوئیں (سموگ) کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کئی بار نشان دہی کی گئی کہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن سے جناح ہسپتال کی طرف نکالی جانے والی نئی سڑک کے ایک طرف کھیتوں میں کوڑے کے ڈھیر لگائے جاتے ہیں، ان میں آگ لگائی جا چکی ہے اور یہ مستقل دھونی ہے چوبیس گھنٹے کشیف دھواں پوری قضا میں پھیلتا ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کی اراضی ہے جو لیز پر دی گئی ہے۔ اردگرد آبادی، یونیورسٹی کے شعبے اور رہائش گاہیں ہیں۔ آج تک کسی نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا، وحدت کالونی کے دو تین کونوں میں بھی کوڑا اور درخت کے پتے اور ٹہنیاں جلا کر دھواں پھیلا جاتا ہے۔ کوڑا تو شہر کے ہر علاقے میں جلایا جاتا ہے۔ کوئی نوٹس نہیں لیتا اور یہ سب مل کر آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں، چین کا دارالحکومت بیجنگ آلودہ ترین شہر گنا گیا،چینوں نے بڑے بڑے اونچے پنکھے لگا کر ’’ایئر فلٹریشن‘‘ شروع کر دی ہے اور یہ نظام پورے ملک میں پھیلا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں تو کوڑا جلنے سے نہیں روکا جا سکا اور نہ ہی صنعتوں اور کارخانوں سے قانون و قواعد پر عمل کرایا جا سکا ہے اور اب تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ہدایات کو بھی نظر انداز کر دیا گیا کہ بقول اہل کار حضرات وہ تو بھول بھی گئے ہوں گے۔ اللہ حافظ ہے اس گڈگورنس کا۔

مزید : کالم