اہم معاشی قدم؟

اہم معاشی قدم؟
 اہم معاشی قدم؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 8نومبر کی رات 8بجے بھارتی قوم سے اپنے خطاب کے دوران، رات 12بجے سے 500اور 1000 روپے کے نوٹوں کومنسوخ کرنے کا اعلان کر کے ایک بڑا معاشی قدم اٹھایا۔بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے اثرات کئی ماہ تک معیشت کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھیں گے۔یہ گزشتہ 25سال میں کیا جانے والا سب سے اہم معاشی فیصلہ ہے۔ اس سے پہلے 1991ء میں نرسیماراؤ حکومت نے نہروین سوشلزم کا راستہ چھوڑتے ہوئے معیشت کو آزاد منڈی کے اصولوں کے تابع کرنے کا فیصلہ کیا تو اسے بھی ایک معاشی انقلا ب قرار دیا گیا تھا۔آج بھی بھارتی معیشت 1991ء میں کئی گئی انہی معاشی اصلاحات کے تحت چل رہی ہے۔ اب مودی سرکار نے معیشت میں کالے دھن ، کرپشن ، کا لا بازاری ، ٹیکس چوری اور جعلی کرنسی پر زبردست یلغار کرتے ہوئے اچانک اتنا بڑا معاشی قدم اُٹھا یا جس سے پوری بھارتی معیشت متاثر ہوئی۔بھارتی حکومت کا یہ فیصلہ اس حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اب 31دسمبر تک تمام بھارتی شہریوں کو اپنے پاس رکھے گئے 500اور 1000کے نوٹوں کو بینک اکاؤنٹس میں جمع کروانا ہو گا یا ان نوٹوں کے عوض 2000 کے نئے نوٹوں کو حاصل کر نا ہو گا۔ جس بھی شہری نے اپنا ٹیکس ادا کیا ہے اور اس دولت کو ایمانداری سے کمایا ہے، اس کے لئے اپنی رقم یا کیش کو بینک میں جمع کروانا کو ئی مسئلہ نہیں ہو گا، مگر جن افراد کے پاس500اور 1000 روپے کے نوٹوں کی صورت میں کالے دھن، ٹیکس چوری، کرپشن اور دھوکہ دہی سے بنا یا گیا کیش موجود ہے، ایسے افراد کو اس دولت کے لئے جوابدہ ہونا پڑے گا یا پھر ان کا سارا کیش ردی بن کر رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی تما م اہم اپوزیشن جماعتوں کانگرس،عام آدمی پارٹی، سماج وادی پارٹی اور با ئیں بازو کی مخالفت کے با وجود بھارتی مڈل کلاس کے کئی حلقوں کی جانب سے مودی سرکار کے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے۔ بھارت کے تما م نیوز چینل جہاں بینکوں کے با ہر لمبی لمبی قطا روں کو دکھا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ان قطاروں میں لگے اکثر افراد وقتی مشکلات ہونے کے با وجود اس فیصلے کی حما یت کرتے نظر آرہے ہیں۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام پر بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ما ہر معیشت کئی بنیا دی سوال بھی اُٹھا رہے ہیں ۔ جیسے بھارتی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ اس فیصلے سے کالے دھن کے خلاف ایک بڑا حملہ کیا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں موجود کالے دھن میں کیش کا حصہ بہت کم ہے۔ 2013ء۔2014ء میں انکم ٹیکس چوری یا ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد کے خلاف جو کارروائی ہوئی اس میں صرف6فیصد حصہ ہی کیش پر مبنی تھا، کیو نکہ ٹیکسوں سے بچائے گئے اس کالے دھن کو لوگوں نے سونے، بیرون ممالک کے اکاونٹس اور پراپرٹی پر لگا دیا ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ جو رقم کیش کی صورت میں پڑی رہے، اس کی قدر گرتی رہتی ہے، مگر سونے اور جائیداد وں میں دھن لگا نے سے منا فع بھی ہوتا رہتا ہے اور کیش کی طرح سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ بھارتی ماہرین معیشت کے مطابق بھارتی جی ڈی پی میں کالے دھن کا حصہ 20فیصد کے لگ بھگ ہے، یعنی کالے دھن کا حصہ 30لاکھ کروڑ ہے،جبکہ بھارتی معیشت میں کیش کا حصہ 90لاکھ کروڑ سے بھی زائد کا ہے ۔اس کیش میں 86فیصد حصہ 500اور1000کے بڑے نوٹوں کا تھا۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ محض نوٹوں پر پا بندی سے کالے دھن پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ نریندر مودی نے اس فیصلے کو جعلی کرنسی کے خلاف بھی ایک جنگ قرار دیا، مگر 2015ء میں بھارتی شہر کولکتہ میں قائم بھارتی شماریاتی ادارے کی تحقیق کے مطابق بھارتی معیشت میں 400کروڑ کے جعلی نوٹ پھیلے ہوئے ہیں،جبکہ 2015ء میں بھارت کے کل بجٹ کا حجم 19.7لاکھ کر وڑ تھا، یوں اس حساب سے جعلی نوٹوں کا حصہ صرف 0.025 فیصد ہی ہے۔ اسی طرح مودی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اقدام کو انتہائی رازداری کے ساتھ برتا گیا اور 8نومبر کی شام تک وزیراعظم اور چند افراد ہی ایسے تھے، جن کو اس فیصلے کا علم تھا۔ اگر بھارتی اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کو دیکھا جا ئے تو معلوم ہوگا کہ اس سال اپریل میں لوگوں نے بڑی تعداد میں چھوٹے نوٹوں کو اپنے اکاونٹس سے با ہر نکالا، کیونکہ یہ افواہیں پھیل رہی تھیں کہ حکومت 500 اور 1000 کے نوٹوں پر پابندی لگانے والی ہے۔ ریاست گجرات کے مقامی اخبا روں میں ایسی خبریں اور رپورٹس بھی شائع ہوئیں کہ حکومت بڑے نوٹوں پر پا بندی لگانے والی ہے۔سب سے بڑھ کر بھارتی بینکوں کے ڈیٹا سے معلوم ہو رہا ہے کہ گزشتہ تین ما ہ میں لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنی رقوم بڑے نوٹوں کے ساتھ بینکوں میں جمع کر وائیں، بینکوں کے ڈیپازٹ میں اس حقیقت کے با وجود اضافہ ہوا کہ بھارتی معیشت کے کسی خاص شعبے نے کوئی ترقی نہیں کی اور صنعتی پیداوار بھی سست رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ خبر پھیل چکی تھی کہ حکومت بڑے نوٹوں کو ختم کرنے والی ہے، اس لئے کسی جوابدہی سے بچنے کے لئے اس فیصلے سے پہلے ہی اپنی ناجائز دولت کو بڑے نوٹوں کے ساتھ ہی بینکوں میں منتقل کر دیا گیا۔

اس فیصلے سے ذرا پہلے حکمران جماعت بی جے پی کے مغربی بنگال یونٹ کے بینک اکاؤنٹ میں ایک کروڑروپیہ بھی منتقل ہوا۔ اس وقت بھارت کے بینکوں کے باہر لاکھوں افراد قطار بنا کر کھڑے ہیں، مگر ان میں سے کتنے فیصد افراد بڑے سرمایہ دار، کارپوریٹ سیکٹر کے مالک، بڑے بڑے سیٹھ ، بڑے بزنس مین اور امیر سیاست دان ہیں؟ ایسے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ایسا دکھا ئی دیتا ہے کہ راز داری کے دعووں کے باوجود بہت سے افراد کو اس فیصلے کی پہلے سے خبر تھی۔مودی سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارتی معیشت کو ترقی یا فتہ ملکوں کی معیشت کی طرح ’’کیش لیس ‘‘یعنی کیش پر کم سے کم انحصار کی طرف لایا جائے ۔ بینکوں، چیک سسٹم، ڈاکومینٹیشن اور ڈرافٹ سسٹم کو فروغ دیا جا ئے، مگر زمینی صورت حال یہ ہے کہ بھارت میں بینکوں کی لگ بھگ 10لاکھ برانچیں ہیں ،جن میں سے اکثر بینکوں کی کئی کئی شاخیں بڑے بڑے شہروں میں ہی ہیں،جبکہ بھارت میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد دیہات ہیں اور اکثر دیہاتوں میں بینک سرے سے موجود ہی نہیں۔ دیہی معیشت کا بڑا حصہ کیش کی بنیا دپر ہی چل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کے اس فیصلے سے دیہی معیشت ایک طرح سے جامد ہو کر رہ گئی ہے، چنانچہ ان حقائق کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ مودی سرکار کالے دھن کو روکنے میں زیادہ کامیاب ہوگی۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام کے بعد پا کستان کے کئی حلقوں کی جانب سے بھی یہ با ت کی جارہی ہے کہ اگر حکو مت پاکستان بھی بڑے نوٹوں خاص طور پر 5000 کے نوٹ پر پا بندی لگا دے تو کالے دھن کو کنٹرو ل کیا جا سکتا ہے۔ اگر چہ وفا قی وزیر خزانہ اسحق ڈار واضح کر چکے ہیں کہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا یا جا رہا، مگر اس کے باوجود ایسا اقدام اُٹھانے کی حمایت کرنے والوں کو یہ جاننا چاہئے کہ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی کالے دھن کو کیش میں کم اور جائیدادوں اور بیرون ممالک اکاؤنٹس میں ہی زیا دہ رکھا جا تا ہے۔ پاکستان میں کتنے افراد ایسے ہیں، جنہوں نے اپنی ناجائز آمدن کے کروڑوں روپے اپنے گھروں میں رکھے ہو ئے ہیں؟ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے،پھر کیاپرانے نوٹ ختم ہونے اور نئے نوٹوں کے آنے سے رشوت بازاری، ٹیکس چوری اور غبن ختم ہو جائیں گے؟ بھارت میں 2ہزار کے نوٹ آنے سے کرپشن ختم نہیں ہو گی، بلکہ ان نوٹوں کے پھیلاؤ کے بعد دو، دو ہزار کے نوٹوں کے ذریعے ہی کرپشن اور کالا دھن اکٹھا کیا جائے گا۔ کالے دھن کو موثر انداز سے روکنے کے لئے سب سے اہم قدم یہ ہو تا ہے کہ کالے دھن کو سرے سے پیدا ہی نہ ہونے دیا جا ئے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ اقتدار کو دولت کے کھیل سے با لکل الگ تھلگ رکھا جائے۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا ہو تا ہو یا نہ ہوتا ہو، مگر بر صغیر کی حقیقت تو یہی ہے کہ یہاں پر سیاست اور اقتدار کو زیا دہ سے زیادہ دولت بنانے کے لئے استعمال کیا جا تا ہے۔جوہری تبدیلی کے بغیر محض علامتی نوعیت کے اقدامات اٹھانے سے کالے دھن کا خاتمہ قطعی طور پر ممکن نہیں۔

مزید : کالم