قانونی اور فقہی موشگافیاں

قانونی اور فقہی موشگافیاں
 قانونی اور فقہی موشگافیاں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

خواہشیں اور شواہد ،خواب اور سراب میں کچھ تو فرق کیا ہوتا محروم اور مقدر کے ماروں نے ۔ہر فن مولا اور ہزار شیوہ شخصیات کا ماتم اور غم تو دیکھو خزاؤں میں۔آدمی حیرت و تاسف کے ساتھ سوچتا اور ششدر و شرمندہ رہ جاتا ہے کہ کس شبھ گھڑی یہ شگوفہ یا شعبدہ ان کے دماغ میں پھوٹا۔پی ٹی آئی کے پختہ و تجربہ کار سیاست دانوں کو تو چھوڑیئے کہ علیم خان اور جہانگیر ترین ایسے لوگ سیاست دان کہاں۔اس جماعت میں کوئی ڈھنگ کا یا معاملہ فہم وکیل بھی نہیں؟جب دماغوں میں کپتان کی تقدیس و تعظیم کا جادوسا پڑ گیا ہو تو صاف اور سامنے کی حقیقت وکلا کو بھی دکھائی کیوں دے ۔بھائی وکلا بادشاہ گر ہیں جسے چاہیں نہال کریں اور چاہیں تو پامال کریں۔ادھر اسلامی نظریاتی کونسل کے فقہا کو بھی دیکھ رکھو کہ مردوں کے حقوق کا علم لے کے نکلے ہیں۔ جی ہاں جنگل میں شیر اورسمندر میں مگرمچھ کے تحفظ کے لئے بھی کوئی قانون ڈھونڈا چاہئے۔

سرسری ،سطحی اور سیاسی اخباری تراشے یا کتب عدالت میں کیا وقعت پائیں گے،ان کا اصل مقا م تو تاریخ کا کوڑے دان ٹھہرا۔البتہ مخصوص پس منظر میں واقعاتی ،حقیقی یا چشمی خبر و تحریر کی بات چیزے دیگر است۔ایک پی ٹی آئی کا حامی اگر شیخ رشید کا بیان پڑھے تو یہ دراصل اس کے اپنے ذاتی رجحانات اور تعصبات کا ہی آئینہ دار ہے۔کوئی جائے او ر جا کران خود فریبوں کو بتائے کسی فریق کی گواہی خود اس کے اپنے حق میں حجت ہو نہیں سکتی۔امیر حمزہ کی داستان،ٹارزن کی کہانیاںیا ممتاز مفتی و قدرت اللہ شہاب ٹائپ قصے سیاست وعدالت کو راہ نہیں دکھا سکتے ۔اردو کی مشق یا حسرت موہانی کی اتباع میں ممکن ہے یہ مفیدو معروف ہوں۔سچائی کے سرائے بازار میں مگر ان کا دور سے بھی کبھی گزر نہیں ہوا۔کپتان اور ان کے اعوان و انصار کی میڈیا میں اچھل کود تو بے پایاں لیکن عدالت تو صداقت، شہادت اور ثبوت مانگتی ہے،جذبات تھوڑی دیکھا کئے۔ طاہرالقادری ایسے زود رنج آدمی کو داد دیجئے جس نے شواہدو قرائن دیکھ کر کہہ ڈالاکہ پانامہ اور نیوز لیکس پر عدالت سے کلین چٹ مل جائے گی۔دھرنے کا دفتر ابتر کرتے ہوئے بھی انہوں نے سچائی بیان کی تھی کہ اللہ پاک نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتا۔

پی ٹی آئی کے تمام وکلا مل کر اپنی فنی و قانونی موشگافیوں کا اعلیٰ اور انتہائی مظاہرہ کریں گے؟ فرض کرو سب اپنی د ماغی صلاحیتوں کا آخری ذرہ تک صرف کرڈالیں تو ۔۔۔تو کیاحکومت کو گرامریں گے؟جی نہیں کہ ان کا مقدر و مقسوم محض اپنی موشگافیوں کا مظاہرہ کرنا اور نت نئے انکشاف کرناہے۔تصوف کے شیخ اکبر جنہیں دنیا ابنِ عربی کے نام سے جانتی اور پہچانتی آئی ہے۔وہ پہلے آدمی رہے جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کانظام چلانے کے لئے اللہ نے روحانیوں کی ایک ٹیم تشکیل دے رکھی ہے ۔اس میں قطب سب سے اونچے مقام پر فائز ہے ،اس کی ماتحتی میں دو ائمہ ،چار اوتاد،سات ابدال،آٹھ نجبا اور بارہ نقبا کام کیا کئے ۔کہا جاتا ہے سید علی ہجویری نے بھی تین سو اخیار ،چالیس ابدال ،سات ابراراور تین نقبا کو قطب کی نگرانی میں متحرک بتایاہے۔کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ حضور!آپ کے انکشافات اور معلومات کا ماخذ کیا ہے؟ہماری گمراہی کا بنیادی سبب اس کے سوا کیا رہا کہ ہم بڑے بڑے ناموں کے پیچھے چلنے کے عادی رہے ۔خاص طور پر جب ان ناموں کے گرد پارسائی اور تقدس کا ہالہ سابُن دیا گیا ہو ۔

ذکراسلامی نظریاتی کونسل کا جس کی نامطلوب سفارشات کا تذکرہ پھر کبھی سہی۔مولوی زاہد قاسمی کی وہ درخواست جو مولانا شیرانی نے بحث کے لئے منظور کی کہ عورتیں بھی شوہروں کے ہاتھ توڑ دیتی ہیں۔توڑ دیتی ہوں گی سو میں سے آدھ ایک مگر 99فیصد مرد ہی ہاتھ اور ہڈیا ں توڑتے آئے ہیں۔مولانا مد ظلہ العالی سے پوچھا جانا چاہئے کہ 99فیصد کے سدھار کے لئے سفارشات کب مرتب کیجئے گا؟حیرت ہے جن نورانی ہستیوں اور بھاری بھر کم عماموں کو فقہ کی شناوری او ر ماہری کا دعوی ہو،وہ اس اصول کو بھول بیٹھے کہ فرامین و قوانین اکثریت کے لحاظ سے تشکیل و تدوین پاتے ہیں،استثنائی مسائل ومعاملات کے حساب سے نہیں۔لیکن نہیں جاننے والے جانتے ہیں کہ اہل جبہ و دستار کے فقہی پیمانے نرالے ٹھہرے۔فضول و مجہول سفارشات کے دفتروں کے دفتر اور لایعنی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ذی شعور و سنجیدہ حلقوں کا یہ مطالبہ کہ کونسل کی بساط لپیٹ دی جائے ۔۔۔سچ پوچھئے تو عجب نہیں لگتا۔عامیوں کا تو خیر ذکر کیا!بعض اہل علم بھی اس التباس فکری کا شکار رہے کہ مختلف امور میں فقہا کی رہنمائی اگر میسر نہ ہوتو مسلمانوں کی عملی زندگی انتشار کا شکار ہو جائے گی۔اس خیال کے مطابق فقہ گویا مسلم معاشرے کو باہم جوڑے رکھنے کی عملی اساس فراہم کیا کئے ۔لیکن جو لوگ فقہی موشگافیوں کے دوررس مضمرات اور مضر اثرات سے واقف ہیں۔۔۔وہ خوب با خبر کہ مسلکی اختلافات نے ہی ہمارے تنازعات میں کلیدی کردار اد اکیا ۔بار ہا ایسا ہوا کہ فقہا کی شخصی موشگافیوں میں شریعت کے مطالب ہی رخصت ہوئے ۔وکلا کی قانونی مو شگافیوں میں تو آئین کی روح رخصت ہوتی ہے لیکن فقہا کی فنی مو شگافیوں میں تو غایتِ وحی ہی دم توڑ دیتی ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ کبار فقہا ئے کرام کی ایک مجلس میں امام سفیان ثوری،امام ابن ابی لیلیٰ،امام شریک اور امام ابو حنیفہ ایسے ارباب فن جمع تھے ۔مسئلہ یہ زیر بحث تھا کہ اگر چند آدمی ایک جگہ جمع ہوں اور دفعتاً سانپ نکل آئے اور ایک شخص پر چڑھنے لگے اور وہ گھبرا کر اسے اس طرح پھینکے کہ دوسرے شخص پر جا گرے۔اور وہ بھی گھبراکر کچھ اسی طرح کرے ۔یہاں تک کہ مختلف لوگ ایک دوسرے کے جسم پر سانپ پھینکتے جاویں اور آخر میں جس شخص کے جسم پر سانپ گرے اور وہ سانپ کے ڈسنے سے مر جائے تو ایسی صور ت میں دیت کس پر لازم آئے گی؟کسی نے کہا دیت سب کو دینا ہو گی اور کسی نے صرف پہلے شخص کو ذمہ دار قرار دیا۔کبار فقہا کی اس محفل میں لوگ مختلف الرائے پائے گئے ۔ابوحنیفہ جو خاموش بیٹھے تھے اور مسکراتے جاتے تھے ۔۔۔کہنے والے نے کہا آپ بھی تو کچھ بولئے ۔گویا ہوئے کہ جب پہلے آدمی نے دوسرے پر سانپ پھینکا اور وہ محفوظ رہا تو وہ بری الذمہ ہے ۔بعینہٖ دوسرا اور تیسرا بھی۔اب مسئلہ صرف آخری آدمی کا ٹھہرا جس نے سب سے آخر میں پھینکا۔اب اس میں بھی دو مسائل ہیں۔اگر اس کے پھینکتے ہی سانپ نے کاٹ لیا تو دیت لازم اور اگر کچھ وقفہ آیا تو وہ بھی بری الذمہ ہوا۔ایسی صورت میں سانپ کا کاٹنا اس کی اپنی غفلت کے سبب ہے کہ اس نے بھی اپنی حفاظت میں دوسروں کی طرح تیز دستی اور چستی کیوں نہ دکھائی۔(تاریخ بغداد،خطیب بغدادی: سیرت النعمان،شبلی نعمانی)دیکھاآپ نے کہ سیدھی سادی بات کس طرح فقہی موشگافیوں کے شکنجے میں جکڑی گئی!

مزید : کالم