سفارشات برائے انتخابی اصلاحات

سفارشات برائے انتخابی اصلاحات
 سفارشات برائے انتخابی اصلاحات

  

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں آج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان پر پہلا بڑا اعتراض ہمیشہ پولیس اور حکومتی الیکشن مشینری کے غلط استعمال اور الیکشن کمیشن کے غلط اور کمزور رویئے کے باعث انتخابات کا صاف وشفاف نہ ہونا، دھاندلی زدہ یا انجنیرڈ (engineered) ہونا رہاہے۔ 1985ء کے بعد ہونے والے انتخابات میں پہلے کے بعد دوسرا بڑا اعتراض ممبرانِ اسمبلی کے انتخابات پر اُٹھنے والے کروڑو ں کے اخراجات ہیں،جن کے باعث قومی انتخابات صرف اشرافیہ کا شُغل بن کر رہ گئے ہیں۔متوسط تعلیم یافتہ سیاسی کارکنان، کسان، مزدور، خواتین، اقلیتوں، وکلاء پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دیگر پروفیشنل حلقوں سے وابستہ لوگوں کے لئے انتخابات میں حصہ لینا خواب بن کر رہ گیا ہے۔ اس طریقِ انتخاب کی تیسری بڑی خرابی یہ رہی کہ اس میں ا نتخابی نتائج عوامی رائے کی دُرست عکاسی نہیں کرتے۔ یہاں اکثر اوقات ڈالے گئے ووٹوں کا 35/40فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی اسمبلی ممبران کی دوتہائی اکثریت حاصل کرلیتی ہے جبکہ اس سے تھوڑے تھوڑے کم ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی یا پارٹیاں اپنے حاصل کردہ ووٹوں کی نسبت بہت کم نشستیں حاصل کرپاتی ہیں۔ اور یوں اسمبلی میں کسی مخصوص نظریے یا خیال سے وابستہ عوام اور سیاسی پارٹیا ں اپنے حُجم اور مقبولیت کے مطابق نمائندگی نہیں حاصل کرپاتیں۔ گذشتہ انتخابات 2013ء میں مسلم لیگ (ن) ، تحریکِ انصاف اور پیپلز پارٹی کو ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد اور اُس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نشستوں کی تعداد اِس خرابی پر واضح دلیل ہے ۔

مندرجہ بالاتینوں عوامی اعتراضات کے توڑ اور آئندہ انتخابات کو شفاف تر اور دھاندلی سے پاک تر بنانے، الیکشن اخراجات کو کم کرنے اور اِن الیکشن سے درست اور حقیقی نتائج حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے مشہور تھنک ٹینک ’’سٹیزن کونسل آف پاکستان‘‘ نے پورے غوروخوض کے بعد کچھ قابل عمل سفارشات مرتب کی ہیں جنہیں کونسل کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان، اکابرینِ حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو غوروخوض ،تجاویزاور عمل درآمد کے لئے بھجوایاگیا ہے ۔ روزنامہ پاکستان کے باشعور قارئین اور اہلِ علم وقلم کی توجہ و تجاویز کے لئے یہ سفارشات اس کالم کی زینت بنائی جارہی ہیں۔

(1)آئندہ پاکستان میں عام انتخابات کے لئے ’’پارٹی لسٹ طریقہ متناسب نمائندگی‘‘اختیار کیاجائے جو برطانیہ اور اس کے سابقہ کالونی ممالک پاکستان، انڈیا، آسٹریلیا وغیرہ کے علاوہ تمام یورپی ،لاطینی امریکہ اور دنیا کے 115ممالک میں مستعمل ہے ۔

پاکستان میں اس الیکٹرول طریقہ کار کے عملی اطلاق کے لئے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء کو یکسر تبدیل کرکے نیاقانون بنانا ہوگا۔الیکشن کمیشن پورے ملک میں قومی اسمبلی کے ملٹی ممبران حلقے بنائے گا ۔یہی طریقہ کار صوبائی اور لوکل باڈیز کے انتخابات کے لئے بھی اپنایاجائے گا۔ پانچ پانچ ممبران کے لئے ایک حلقہ انتخاب بنایاجائے گا۔ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے انعقاد سے چار ماہ قبل رجسٹر ڈ قومی ،صوبائی اورعلاقائی سطح کی پارٹیوں سے ان کے قومی اور صوبائی حلقوں کے لئے امیدواران کے ناموں کی لسٹ طلب کرے گا۔ الیکشن کمیشن پارٹی ریلیوں اور پبلک جلسوں کی اجازت دینے کی بجائے الیکٹرونک میڈیا پر ہر صوبے میں مباحثوں کا انتظام کرے گا۔ جس میں تمام پارٹیوں کے سربراہان حصہ لیکر اپنی اپنی پارٹی کے پروگرام اور منشور کی تفصیلات پر روشنی ڈالیں گے۔ تمام پارٹی سربراہ ایک دوسرے کے آئندہ پروگرام اور ماضی کے کردار /کنڈکٹ کے بارے میں سوالات اورجرح کرنے کے مجاز ہونگے۔ اس طرح الیکشن سے پہلے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے محاسبے کا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اور عوام اس پوزیشن میں ہوں گے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور قائدین کو بہتر طور پر جانیں اور پرکھیں اور اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے کا فیصلہ آزادانہ اور بہتر طور پر کرسکیں۔اس طرح تمام سیاسی نظام اور سیاسی پارٹیا ں عوام کے سامنے جوابدہ ہوسکیں گی۔ امریکہ میں ایسے مباحثے بے حد کامیاب ہوتے ہیں۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کے پبلک جلسوں اور ریلیوں پر اُٹھنے والے بے تحاشا اخراجات کو کم کیاجاسکے گا۔ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابات میں قومی اور صوبائی سطح پر پارٹیوں کو پڑنے والے ووٹوں کی شرح تناسب کے مطابق سیاسی جماعتوں کی دی ہوئی لسٹ میں سے اُتنے اُمیدوار کامیاب قرار دیئے جائیں گے۔

(2)صوبائی سطح پر دس فیصد سے کم ووٹ لینے والی پارٹیوں کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نااہل قراردے دیاجائے۔ ا س طرح انتخابات میں حصہ لینے والی غیرنمائندہ اور نمائشی سیاسی جماعتوں کی تعداد خود بخود کم ہوتی جائے گی۔

(3)متناسب طریقہ نمائندگی کے اس نظام کے تحت افراد نہیں بلکہ سیاسی پارٹیاں اپنے اُمیدواران کی لسٹ شائع کرکے اور الیکشن کمیشن میں جمع کرواکرالیکشن لڑیں گی۔

(4)سیاسی جماعتوں کے لئے لازم ہوگا کہ الیکشن کمیشن کو پیش کی جانے والی الیکشن امیدواران کی لسٹ تعلیم یافتہ سیاسی کارکنان، کسان، مزدور، وکلاء، پروفیسرز، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر پرفیشنل حلقوں میں سے ایسے ارکان پر مشتمل ہوجنہیں اِن کی ضلعی اور تحصیلی تنظیموں نے بطورُ امیدوار منتخب کیاہو۔

(5)پاکستان کی سیاسی جماعتیں فیملی کلبوں اور فیملی لمیٹڈ کمپنیوں کا روپ دھارچکی ہیں۔یہ حقیقی سیاسی جمہوری پارٹیا ں نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے لئے لازم ہوگا کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے انتخابات اپنی نگرانی میں کروائیں۔

(6)انتخابات میں صرف الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ آزاد امیدواران الیکشن نہیں لڑ سکیں گے۔ اس سے سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی۔

(7)الیکشن کمیشن کے لئے ہر حلقۂ انتخاب سے ووٹو ں کے اکاؤنٹ کو منظر عام پر لانا لازمی قرار دیا جائے۔ انتخابی نتائج کو میڈیا اُس وقت تک نشر نہ کرے جب تک الیکشن کمیشن نتائج کو اپنی ویب سائٹ پر نمایاں نہ کردے۔

(8)مستقبل میں ہونے والے تمام انتخابات کے لئے الیکٹرونک بائیومیٹرک طریقہ ووٹنگ کو لازمی قرار دینے کے لئے ضروری قانون سازی کی جائے۔

(9)انتخابی اخراجات کو کم کرنے کے لئے بڑے بڑے عوامی جلسے اور ریلیاں منعقد کرنے، بڑے بڑے ہورڈنگزاوربینر زلگانے اورامیدواران کی جانب سے ووٹروں کو لانے لیجانے کے لئے ٹرانسپورٹ مہیا کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایاجائے۔

(10)الیکشن کمیشن کے لئے لازم ہو کہ وہ ووٹرز کو اس بات کا حق دے کہ وہ پارٹی لسٹ میں سے اگر کسی بھی امیدوار کو اپنے ووٹ کا حقدار نہیں سمجھتے تو وہ 5فیصد ووٹوں سے ایسے امیدواران کو ان کے نام کے سامنے (X)یا( نہیں) لکھ کر پارٹی لسٹ سے خارج کرواسکتے ہوں۔

(11)الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام سیاسی پارٹیوں کو یکساں ووٹر لسٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

(12)الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انڈیا الیکشن کمیشن کے سے اختیارات دے کر آزاد، مضبوط اور فعال بنایاجائے۔

(13)الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین اور ممبران کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو دیاجائے ۔

(14)ریٹرنگ آفیسرز/پولنگ آفیسرز اور دیگر عملے کی تقرری گورنمنٹ ملازمین کے بجائے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور پرائیویٹ سیکٹر کے پرفیشنلز میں سے کی جائے اور سیشن ججوں کوبطور ریٹرنگ آفیسر لگانے کاموجودہ طریقہ ختم کیاجائے۔

(15)الیکشن کمیشن یانادرہ کی جانب سے ووٹروں کے ووٹ نمبراور پولنگ اسٹیشن وغیرہ کے بارے میں ضروری معلومات بذریعہ موبائل فون ووٹر کو مہیاکردی جائے تاکہ سیاسی پارٹیوں کے امیدواران کی جانب سے قائم کئے جانے والے الیکشن کیمپ، شامیانوں، کناتوں، فرنیچروغیرہ پر اُٹھنے والے اخراجات کو ختم کیاجاسکے۔

(16)الیکشن 2013ء کی انکوائری کمیشن رپورٹ کی سفارشات سے پاکستان الیکشن کمیشن اور حکومت پاکستان استفادہ کرے تاکہ گذشتہ الیکشن کے انعقاد میں جن کمزوریوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کا ازالہ کیاجاسکے اور آئندہ الیکشن 2018ء کی منصوبہ بندی اور اس کے عملی اطلاق میں کوئی کمزوری نہ رہے۔انتخابات 2018ء ا مرحلہ خوش اسلوبی اور شفاف طریقہ سے مکمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انتخابی اصلاحات کو فوری اہمیت کا اہم ترین مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت اور تمام سیاسی جماعتیں کل جماعتی کانفرنس کی شکل میں سرجوڑ کر بیٹھیں اور آئندہ تین یا چھ ماہ کے دوران اس ایشو کو قومی سطح پر بحث کا موضوع بناکر بین الجماعتی اور قومی اتفاق رائے پیدا کرکے اصلاحات اور قانون سازی کے تمام مراحل کو خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچائیں۔

(17)پاکستان میں پنجاب کی آبادی 53فیصد ہونا اورفاٹا اور بلوچستان کا پچھلے 68سالوں میں پسماندہ رہنا، صوبوں کو جسامت میں غیرمتوازن بناتاہے اور اس کا جواز مہیاکرتاہے کہ صوبوں کا سائز چھوٹا کیاجائے اور جہاں ضرورت ہونئے صوبے بنائے جائیں۔ اس ضمن میں سیاسی پارٹیوں سے ہٹ کر ایسے انتظامی ماہرین پر مشتمل ایک مستقل قومی کمیشن بنایاجائے جس کے آدھے ارکان ہردوسال بعد ریٹائرہوتے جائیں اور یہ کمیشن آبادی/عوامی مطالبے اور دیگر ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی اسمبلی کونئے صوبے بنانے کی سفارش کرے جو اس مقصد کے لئے اگر ضروری ہوتو آئینی ترامیم کرکے نئے صوبے بنانے کی منظوری دے۔

اُمید کی جاسکتی ہے کہ اِن سفارشات پر عمل درآمد سے خرابیوں سے بھرپور موجودہ انتخابی نظام کی جگہ ایک بہتر نظامِ انتخاب لایاجاسکتاہے ۔

اِن سفارشات کے مرتب کرنے میں سٹیزن کونسل آف پاکستان اور سول سوسائٹی کے ان نمائندہ اراکین نے حصہ لیا :جسٹس (ر) میاں اللہ نوازسابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، راناامیراحمد خاں ایڈوکیٹ سپریم کورٹ،محمد الطاف قمرریٹائرڈ آئی جی پولیس،میجرجنرل (ر)راحت لطیف خواجہ، ظفر علی راجہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ،محترمہ ثروت روبینہ کالم نگار، ڈاکٹر محمد صادق صدرپاکستان ویژنری فورم، قیوم نظامی مصنف،کالم نگار، میجر (ر) محمد شبیر احمدسابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پاکستان انٹیلی جنس بیورو، ایم اکرام چوہدری زونل ہیڈ، سنچری انشورنس کمپنی،احمد وسیم چیف ایڈیٹر ماہنامہ افکارِ جدید، ڈاکٹر محمد انوار احمد بگوی مصنف، سابق ڈی جی ہیلتھ پنجاب۔

مزید : کالم