ریکارڈ میں کوئی فرد ترمیم یا ردوبدل نہیں کرسکتا: ایف بی آر

ریکارڈ میں کوئی فرد ترمیم یا ردوبدل نہیں کرسکتا: ایف بی آر

لاہور(پ ر)فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے ایک سینئر سیاست دان کی طرف سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ بعض افراد جن کے نام پاناما لیکس میں شائع ہیں، کی طرف سے ٹیکس ریکارڈز میں چھیڑ چھاڑ کے حوالے سے الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہوا ہے ۔ ایف بی آر تمام ٹیکس گزاروں کے ٹیکس ریکارڈز ایک مقدس امانت کے طور پر سمجھتا ہے اور انکم ٹیکس آرڈیننس ،2001 کے تحت ، ٹیکس ریکارڈ میں موجود معلومات کوافشاء کرنے کی ممانعت ہے ۔ ایف بی آر کے پاس ریکارڈ کی بحالی اور اپڈیشن کے لیے فول پروف خودکار طریقے ہیں ۔ قانون کے تحت فراہم کردہ اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے بغیر کوئی شخص ریکارڈ میں تبدیلی ، ترمیم یا رد وبدل نہیں کر سکتا ۔ ریکارڈ محفوظ ڈیٹا بیس میں رکھا جاتا ہے اور کسی کی بھی اس تک رسائی خودکار طریقے سے ریکارڈ ہو جاتی ہے ۔

لہٰذا ، کسی طرح بھی ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ یہ الزامات مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں اور ایک ذمہ دار قومی ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایف بی آر توقع کرتا ہے کہ ہمارے سیاست دان اس طرح کے بیان جاری کرتے وقت سیاسی تنازعات میں غیر جانبدار اداروں کوبے وجہ ملوث کرنے سے اجتناب کریں ۔

.3 یہ بات بہترین قومی مفاد میں میں ہو گی کہ اگر یہ الزامات واپس لے لیے جائیں اور ایف بی آر کی ذمہ داریوں اور افعال نبھانے کو جاری رکھے ۔

مزید : کامرس