پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں منفرد مقام بنا سکتا ہے، جسٹس خلیل الرحمان خان

پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں منفرد مقام بنا سکتا ہے، جسٹس خلیل الرحمان خان

اسلام آباد(کامرس ڈیسک )پنجاب حلال ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چئیرمین جسٹس خلیل الرحمان خان نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی حلال مارکیٹ میں منفرد مقام بنا سکتا ہے جسکے لئے حکومت اور نجی شعبہ کو مل کر کوششیں کرنا ہونگی۔اس وقت پاکستان کی حلال برامدات پوٹینشل سے کافی کم ہیں جبکہ غیر ملکی پاکستانی گوشت کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے گوشت سے بہتر معیار کا قرار دیتے ہیں۔ پاکستان اسلامی ملک ہوتے ہوئے اس شعبہ میں پیچھے ہے جبکہ متعدد غیر مسلم ممالک اس سیکٹر میں مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔انھوں نے یہ بات ایف پی سی سی آئی کیپیٹل ہاؤس میں کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پرایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرؤف عالم اور دیگر تاجر رہنما بھی موجود تھے۔

پنجاب حلال ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چئیرمین جسٹس خلیل الرحمان خان نے کہا کہ ملیشیاء پاکستان سے حلال درامدات بڑھانا چاہتا ہے اور کئی ممالک پاکستان میں حلال صنعتیں قائم کرنے کے خواہاں ہیں جنھیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حلال شعبہ صرف گوشت تک محدود نہیں بلکہ اس میں ادویات، مشروبات اور بہت کچھ آتا ہے۔حلال مصنوعات برامد کرنے والے ممالک نے بہت عرصہ قبل ریگولیٹری ادارے قائم کئے تھے جبکہ ہم نے اس سلسلہ میں تاخیر کی تاہم امید ہے کہ رہے سہے قانونی امور جلد نمٹا لئے جائینگے۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرؤف عالم نے کہا کہ اس وقت مسلمان کھانے پینے پر دو کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں جبکہ 2050 تک مسلمانوں کی آبادی 2.8 ارب ہوجائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں میں بھی حلال تیزی مصنوعات مقبول ہو رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری پاکستان کو حلال مصنوعات کا علاقائی مرکز بنا دے گی۔اس وقت عالمی حلال مارکیٹ کا حجم 3.66 کھرب ڈالر ہے جس میں خوراک، فنانس اور لائف سٹائل کے شعبے شامل ہیں اور پاکستان کے پاس اس مارکیٹ کا بڑا حصہ قابو کرنے کے تمام اجزاء موجود ہیں ۔ انھوں نے کہ کہ حلال سیکٹر کے سلسلہ میں اکثر اسلامی ممالک کی کوششیں اطمینان بخش نہیں۔۔#/s#

مزید : کامرس