ہوس کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اجتماعی سوچ کو جنم دینا ہوگا :مجیب الرحمٰن شامی

ہوس کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اجتماعی سوچ کو جنم دینا ہوگا :مجیب الرحمٰن شامی

 لاہور(خبر نگار خصوصی)پاکستان بنانے کا مقصد ایک دوسرے کے ساتھ جینا تھا مگر ہم نے اپنے آپ کو ہواؤں کے سپرد کر دیا ہے ۔یہ روش انفرادی و اجتماعی سطح پر تبدیل کرنا ہوگی۔جعفر قاسمی جیسے بزرگوں کی یادوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ان خیالات کا اظہار روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے گزشتہ روز جعفر قاسمی میموریل لیکچر میں کیا۔وہ تقریب کی صدارت کر رہے تھے جس میں بیرسٹر ندرت مجید نے تفصیلی لیکچر دیا جبکہ کامل خان ممتاز، مدثر حسن قاسمی،رؤف طاہر، ہارون اکرم گل اور دیگر نے شرکت کی ۔اس موقع پر مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ سارا زور عالم اجسام پر ہو گیا ہے ہم ہوس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو ہماری انفرادی واجتماعی زندگی میں شامل ہو گئی ہے۔اندرون ملک دولت اکٹھی کر لیں یا آف شور کمپنیاں بنا لیں جب اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے توپاس کچھ بھی نہیں ہونا۔انہوں نے کہاہم جس دنیا میں کھو گئے ہیں اس سے واپس آنا ہو گا۔ علی ہجویری جیسے بزرگوں کوکیا اس لیے یاد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے محلات بنائے تھے بلکہ انہیں اللہ کی موجودگی پر پختہ یقین تھا ہمیں جس دن یقین آجائے گا تبدیلی خود بخود آجائے گی۔امید ہے کہ قاسم جعفری جیسے بزرگوں کی یادوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ہم اپنے بنائے پنجرے سے باہر نکلیں گے۔بیرسٹر ندرت مجید نے تفصیلی لیکچر میں عالم اجسام سے عالم خیال تک کے سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی اور انسان کے دنیا میں آنے کا مقصد بیان کیا انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں انسانی زندگی کے مختلف پہلو اجاگر کیے اور مغرب میں اسلام پھیلانے والے رہنماؤں کی مثالیں پیش کیں ا ور کہا کہ انسان کو اپنے اندر جھانکنا چاہیے خدا کی زمین پر اکڑ کر چلنے کے بجائے نظریں نیچی رکھنے کی ضرورت ہے جس نے اپنے آپ کوزمین کی طرف جھکایا اس نے اتنی بلندی پائی ۔مدثر حسن قاسمی نے جعفر قاسمی پرلکھا جانے والا ڈاکٹر امجد ثاقب کا کالم پڑھ کر سنایا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1