کسانوں کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیح نہیں ہے،میاں مقصود

کسانوں کے مسائل کا حل حکومت کی ترجیح نہیں ہے،میاں مقصود

لاہور(پ ر)امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کسانوں کے مسائل پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حکمرانوں کی ترجیحات میں کاشتکاروں کی مشکلات کاازالہ شامل نہیں ہے۔ 15اکتوبر سے پندرہ اپریل تک ہر سال کرشنگ کا سیزن ہوتا ہے لیکن افسوس ناک امریہ ہے کہ ابھی تک شوگر ملیں پورے پاکستان میں بند پڑی ہیں اور کسانوں سے گنا نہیں خریداجارہا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 90فیصد شوگر ملیں حکمران طبقے کی ہیں ۔پنجاب اورسندھ سمیت دیگر صوبوں میں کسانوں سے گنا نہ خرید کر زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایاجارہا ہے۔گنے کے بعد گندم کی فصل کاشت ہونی ہے ،گنے کی فروخت میں تاخیر سے پورے ملک میں ایک چوتھائی گندم کی فصل کاشت نہیں ہوسکے گی جس سے اگلے سال 2017میں قحط سالی کا خدشہ بھی موجود ہے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت گنے کے کاشتکاروں کو شوگر ملوں کے مالکان کی ظلم وزیادتی سے بچائے اور انہیں پابند کیاجائے کہ وہ فوری طور پر گنا کسانوں سے سرکاری ریٹ 180روپے فی من کی صورت میں خریدیں۔انہوں نے کہاکہ شوگر ملوں کے مالکان گنے کی وصولی میں بھی کٹوتی کرتے ہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے چاروں صوبوں میں کسانوں کی اربوں روپے کی ادائیگیاں بھی نہیں کررہے۔حالانکہ حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ کسانوں کو گنے کی وصولی کے چودہ دن تک ادائیگی کرنا لازمی ہے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ زراعت سے وابستہ افراد حکمرانوں کی بے حسی اور انتظامیہ ومتعلقہ اداروں کی نظراندازی کے باعث کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ گنے کے کاشتکار وں کا استحصال بند کیا جانا چاہے۔ حکومت شوگر ملوں سے گنے کے کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا انحصار زیادہ ترشعبہ زراعت پرمنحصر ہے۔یہ شعبہ خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ ملکی صنعت کوخام مال مہیاکرتا ہے۔پاکستان کی کل آبادی کے67فیصد لوگ شعبہ زراعت سے وابستہ ہیں۔حکومت اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار خطے کے دوسرے ممالک سے 4سے5گناکم ہے۔ فی ایکڑپیداوار کوبڑھانے کے لیے ہمیں زراعت کے لئے نئے طریقے آزمانے ہوں گے تب ہی فی ایکڑپیداوار کوبڑھایاجاسکتا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1