حکومتیں عوام کے اعتماد سے چلتی ہیں ۔۔۔!

حکومتیں عوام کے اعتماد سے چلتی ہیں ۔۔۔!
حکومتیں عوام کے اعتماد سے چلتی ہیں ۔۔۔!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ترکی کے صدر طیب اردگان پاکستان کے دو روزہ دورے کے بعد واپس جا چکے ہیں انکے دورہ پاکستان کو ہر شخص نے اپنی اپنی عینک کے ساتھ دیکھا، وجہ کچھ بھی ہو طیب اردگان کے دورہ پاکستان کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ یہ اہمیت اس لئے اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ ترکی اور پاکستان کے جمہوریت کے حوالے سے حالات کافی ملتے جلتے ہیں اور ترکی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد طیب اردگان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ طیب اردگان نے ایک ایسے وقت میں پاکستان آکر کشمیر کی آزادی اور جدوجہد کی حمایت کی ہے جب امریکہ ‘ بھارت اور اسرائیل پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ‘ طیب اردگان کے دورہ پاکستان سے بھارت سمیت پوری دنیا کو ایک واضح پیغام گیا ہے کہ پاکستان تنہا نہیں ہے ترکی کا ایسے وقت میں جب دنیا واضح طور پر دو بلاکوں میں تقسیم ہو رہی ہے پاکستان کے ساتھ کھڑنے ہونے کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ ترکی برادر اسلامی ممالک کے ساتھ ملکر مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ترکی کی معاشی ترقی کے ماڈل سے استفادہ کرے اور اپنے ملک کو قرضوں کی دلدل سے نجات دلائے۔ طیب اردگان کے استقبال سے واضح ہے کہ ہمارے حکمران طیب اردگان کی شخصیت سے خاصے متاثر ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ترکش صدر کے وژن کو بھی فالو کرنا چاہئے اور اس کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ‘ سیدھا سادہ فارمولا ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر کونسے ایسے اقدامات ہیں جو کئے گئے ہیں ‘ قرضوں میں ڈوبا ترکی اب ترقی یافتہ ممالک کو قرضے دے رہا ہے یہ ہے وہ ڈلیوری جس نے طیب اردگان کو اعتماد کی دولت سے مالا مال کر دیا ہے ‘ عوام کا اپنے لیڈر پر اس حد تک اعتماد پیدا ہوا کہ امریکہ جیسی سپر پاور کی سازشوں کو ترکی کے عوام نے حوصلے اور جذبے سے شکست دیکر دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ‘ ترکی کی ناکام بغاوت کی افسانوی کہانی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو رشک آتا ہے کہ کس طرح ایک لیڈر جرأت و بہادری سے اپنی جان کو رسک میں ڈال کر استنبول واپس آتا ہے اور کس طرح عوام گھروں سے نکل کر فوجی ٹرکوں اور ٹینکوں سے ٹکرا جاتے ہیں، یہ کون سا جذبہ اور جرأت تھی جو عوام کے اندر پیدا ہو چکی تھی یہ دراصل ترکش عوام کا اپنے بے مثال لیڈر کے ساتھ لازوال اعتماد کا رشتہ ہے جو لیڈر نے اپنے عمل سے اپنے عوام کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔ یہی وہ عمل اور ڈلیوری ہے جس نے ترکی کے سسٹم سے آرمی کے اثرو رسوخ کو تقریباً ختم کر دیا ہے اور یہی وہ عمل ہے جس نے ترکش فوج کی بغاوت کو ناکام بنایا ہے۔ قوموں کی زندگی میں عوام کا اپنے لیڈر پر اعتماد وہ بنیادی عنصر ہے جس کی وجہ سے ملک اور قومیں ترقی کے زینے طے کرتی ہیں اور یہ اعتماد کا رشتہ جو عوام کا اپنے لیڈر سے بنتا ہے یہ عوام نہیں بلکہ لیڈر اپنے عمل سے عوام کے ساتھ استوار کرتا ہے ‘ معروف چینی دانشور کنفیوشس سے وقت کے حکمران نے پوچھا کہ وہ کونسی ایسی تین اشیا ہیں جن کے بغیر مملکت کو نہیں چلایا جا سکتا ‘ دانشور کنفیوشس نے کہا کہ ’’ روٹی ‘ فوج اور عوام کا اعتماد‘‘ ان تین چیزوں کے بغیر ریاست نہیں چل سکتی ‘ بادشاہ نے دوبارہ عرض کیا کہ اگر ریاست بحالت مجبوری ایک چیز نہ دے سکے تو وہ کونسی ہوگی جس کے بغیر ریاست چل سکے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے بغیر ریاست چل سکتی ہے ‘ بادشاہ نے پھر پوچھا اگر ریاست دو اشیا نہ دے سکے تو عظیم دانشور نے کہا کہ روٹی کے بغیر بھی مملکت چل جائیگی لیکن اگر اعتماد کا فقدان ہوا تو کسی صورت ریاست اور کاروبار ریاست نہیں چل سکتا۔ میرے خیال میں ہم جب ترکی کا دورہ کرتے ہیں طیب اردگان کو ملتے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اس وقت یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ طیب اردگان نے اپنے عوام کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کیلئے بہت محنت کی ہے ‘ کیا ہمارا فوکس اس بات پر نہیں ہونا چاہئے کہ ہم طیب اردگان اور ترکی کے عوام سے جاننے کی کوشش کریں کہ حکمرانوں اور عوام کے مابین دوستی اور اعتماد کا رشتہ کیسے پیدا ہوتا ہے اور اس کو لازوال کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے موجودہ حالات میں اسلامی دنیا میں ترکی ایک واحد مثال ہے جہاں کے عوام کا اپنے لیڈر کے ساتھ اعتماد کا رشتہ ہے ورنہ باقی اسلامی ممالک میں عوام کا حکمرانوں کے ساتھ مجبوری کا تعلق نظر آتا ہے ‘ دلوں پر حکومت کرنا مشکل کام ہے مگر اس حقیقت کو ماننا پڑیگا کہ طیب اردگان نے یہ کام خون جگر دیکر سرانجام دیا ہے۔ دنیا کی سپر پاور امریکہ پوری کوشش کے باوجود ترکی کے عوام اور طیب اردگان کو الگ نہیں کر سکا۔ ترکی میں بغاوت عروج پر تھی سرکاری میڈیا اور استنبول ایئر پورٹ پر باغیوں کا قبضہ ہو چکا تھا فیملی کے ساتھ دور دراز ایک جزیرے پر سالانہ چھٹیاں گزارنے میں مصروف طیب اردگان کو انکے ایک رشتہ دار کے ذریعے بغاوت کی خبر ہوتی ہے تو وہ اپنے قریبی آرمی اور پولیس آفیسرز سے خبر کی تصدیق کرتے ہیں ‘ استنبول ایئر پورٹ پر قبضے اور بغاوت کی خبر کی تصدیق کے باوجود طیب اردگان اپنی فیملی کو اعتماد میں لیتے ہیں کہ وہ ہر حال میں استنبول جائیں گے ‘ فیملی کی شدید مخالفت کے باوجود ترکش صدر اپنے عملہ کو بلاتے ہیں ان سے حتمی میٹنگ کرتے ہیں ‘ حالات و واقعات سے آگاہ کر کے جب عملہ کو استنبول واپسی کیلئے تیاری کا حکم دیتے ہیں تو عملہ چونک جاتا ہے ایک پائلٹ مشورہ دیتا ہے کہ سر میں آپ کو ترکی کے ساتھ ایک ریاست میں بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچا سکتا ہوں ‘ طیب اردگان اسکو ڈانٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں جیؤں ‘ مروں میں ہر حال میں استنبول جاؤں گا ‘ میرے عوام میرے ساتھ ہیں اس کے بعد وہ عملے سے پوچھتے ہیں ہمارے پاس انتظامات اور سامان کی کیا صورتحال ہے ان کو بریف کیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس دو ہیلی کاپٹر ‘ ایک جہاز اور 4 گھنٹے تک سفر کرنے کیلئے فیول موجود ہے ‘ طیب اردگان فیس ٹائم پر عوام کے نام پیغام دیتے ہیں اور بذریعہ جہاز استنبول کیلئے فیملی کے ہمراہ روانہ ہو جاتے ہیں ‘ راستے میں وہ پہلے اپنے سٹاف آفیسر کو کاک پٹ میں پائلٹ کی نگرانی کیلئے بھیج دیتے ہیں اور بعد میں خود کاک پٹ میں جا کر استنبول کے پولیس چیف سے بات کرتے ہیں ‘ پولیس چیف وفا داری کا یقین دلاتا ہے مگر استنبول ایئر پورٹ پر باغیوں کے قبضے میں توپیں ‘ ٹینکوں وغیرہ کی موجودگی کی اطلاع بھی دیتا ہے ‘ فیملی دوران سفر ایک بار پھر احتجاج کرتی ہے مگر طیب اردگان سفر جاری رکھتا ہے ایئر پورپ پر چار چکر کاٹنے کے بعد جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اندھیرے میں ہی جہاز کو لینڈ کرنے کا حکم دیتا ہے تو اتنے میں لاکھوں کی تعداد میں عوام گھروں سے نکل کر ایئر پورٹ اور سڑکوں پر فوجی گاڑیاں اور ٹینکوں سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں ‘ طیب اردگان کے جہاز کو باغی فوجی ایف 16 طیاروں کے ذریعے نشانہ بنانے کی بھی کوشش کرتے ہیں مگر عوام کا سمندر دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں ۔ اس کو کہتے ہیں عوام کا اعتماد مگر یہ حاصل کیسے کیا جاتا ہے یہ وہ سوال تھا جو طیب اردگان سے پوچھنے کی ضرورت تھی میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ عوام کے ساتھ اعتماد اور محبت کے رشتہ کا اگر طیب اردگان کو یقین نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی استنبول واپسی کا رسک نہ لیتا۔ اگر ہمارے حکمران صرف اس باریک سے نقطے کو سمجھ جائیں تو پاکستان میں نہ کبھی مارشل آئیگا اور نہ ہی جمہوریت کو روزانہ کی بنیاد پر خطرہ رہے گا۔

مزید : کالم