ناکام بغاوت کے بعد ترک فوجی افسران کی نیٹو ممالک میں پناہ کیلئے درخواستیں

ناکام بغاوت کے بعد ترک فوجی افسران کی نیٹو ممالک میں پناہ کیلئے درخواستیں

برسلز(اے این این )نیٹو کے سیکرٹری جنرل سٹالن برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی میں جولائی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد فوجی افسران نیٹو ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ کچھ ترکی فوجی افسران نے جو نیٹو کے کمانڈ سٹرکچر میں کام کرتے ہیں پناہ کی درخواست کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افسران نے پناہ کی درخواستیں دی ہیں انھوں نے کہا کہ جن ممالک میں ان ترکی فوجی افسران نے پناہ کی درخواست دی ہے ان کی درخواست کا فیصلہ وہ ملک ہی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ناکام بغاوت کے بعد سے ترکی نے نیٹو میں تعینات افسران میں کافی ردو بدل کی ہے۔ واضح رہے کہ ترکی میں حکام کے مطابق 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں تقریبا نو ہزار فوجیوں نے حصہ لیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ بغاوت میں حصہ لینے والے فوجی اہلکاروں کے پاس 35 جہاز، 37 ہیلی کاپٹر، 74 ٹینک اور تین بحری جہاز تھے۔ یاد رہے کہ ترکی میں ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد 18 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی گئی تھی۔ پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66 ہزار افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

مزید : صفحہ اول