بھارت سے کشیدگی نہیں چاہتے ،جارحیت کا منہ توڑ جواب دینگے :پاکستان

بھارت سے کشیدگی نہیں چاہتے ،جارحیت کا منہ توڑ جواب دینگے :پاکستان

 اسلام آباد( آن لائن ) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتا مگر ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا ، بھارت کے جارہانہ اقدامات دنیا کے امن کیلئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں ، افغانستان میں داعش کے پھیلاؤ اور طالبان کی سرگرمیوں پر تشویش ہے افغانستان میں قیام امن کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے ۔ جمعہ کے روز اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری قوم کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور کرتا رہے گا برادر اسلامی ملک ترکی کے صدر کا مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے بائیکاٹ بارے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان باہی عزت و احترام پر مبنی تعلق ہیں ۔ ترکی کے صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر کیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم بھارتی مظالم کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے ہماری موجودہ جدوجہد آزادی کی تحریک کو آگے لے گئی ہے اللہ کی مدد سے فتح ہماری ہوگی پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کو سلام پیش کرتی ہے انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض فوج مقبوضہ کشمیر میں شہری اوردیہی آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر کے ابتر حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے کشمیری عوام عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتا البتہ ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا بھارتی جارحیت نہ صرف دنیا بلکہ خطے میں قیام امن کیلئے خطرہ ہے بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کا ایٹمی ڈاکٹرائن پر بیان دہرا معیار ہے ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحانہ اقدامات بھارتی وزیر کے بیان کی نفی کرتے ہیں دنیا کے کئی ممالک نے ایل او سی اور کنگ باؤنڈری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں داعش کے پھیلاؤ اور طالبان کی سرگرمیوں سے بخوبی آگاہ ہیں افغانستان اور بالخصوص خطے میں قیام امن کیلئے اقدامات کررہے ہیں پاکستان افغانستان اور خطے میں قیام امن کیلئے کوششیں جاری رکھے گا وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش اور طالبان کی سرگرمیوں پر تشویش ہے افغانستان کے حالات کے حوالے سے پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ میں اجاگر کیا اور دنیا کو آنے والے خطرے سے آگاہ کیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشتگردی کے چیلنجز کا سامنا ہے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج اور عوام نے ستر ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن ضرب عضب جاری رکھیں گے ضرب عضب نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کے ثمرات سب کے سامنے ہیں ،انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ کے گیارہ نومبر کے آسٹریا میں ویانا اجلاس میں بیشتر ممالک کی جانب سے پاکستان کے موقف کی تائید کی گئی ہے گروپ کی رکنیت میرٹ پر ہونی چاہیے اور اس میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس ملک کو رکنیت نہ دی جائے جو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا ہو انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اور روس کی جانب سے افغانستان کے حوالے س یجو گروپ تشکیل دیا جارہا ہے امید ہے اس سے افغانستان میں قیام امن میں مدد ملے گی امریکہ کے نو منتخب صدر کو وزیراعظم اور صدر ممنون حسین کی جانب سے مبارکباددی گئی اور پاکستان امریکی نو منتخب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے ۔

مزید : صفحہ اول