تول کر بولنا اچھا ہوتا ہے، نہال ہاشمی پہلے بھی کہا چبا چکے

تول کر بولنا اچھا ہوتا ہے، نہال ہاشمی پہلے بھی کہا چبا چکے

تجزیہ :چودھری خادم حسین

برادر ملک ترکی کے صدر طیب اردوان پاکستان کا دو روزہ دورہ کرکے وطن واپس چلے گئے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ان کی آمد اور مصروفیت بہت ہی ہمہ گیر رہی اور لاہور میں ان کی راہ میں آنکھیں بچھانے کے ساتھ جس اعلیٰ اور نفیس عشائیہ کا اہتمام کیا گیا یہ بھی اپنی نوعیت کی تقریب تھی، اس عشائیہ میں سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ، بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے علاوہ گلگت، بلتستان کے وزیراعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم بھی شریک تھے، البتہ کے پی کے والے پرویز خٹک نہیں تھے کہ تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ محترم طیب اردوان نے بڑے کھلے دل اور صاف انداز میں پاکستان کے ساتھ حق دوستی نبھایا اور کشمیر کے تنازعہ پر حمایت کی۔

ترکی کے صدر کے اس دورے میں وزیراعظم کے ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب بھی میزبان کی حیثیت رکھتے تھے اور لاہور کا استقبال انہی کی نگرانی میں تھا اگرچہ عشائیہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی طرف موسوم کیا گیا لیکن انتظام انہی نے کیا تھا اور اسی حیثیت سے وہ اسلام آباد میں بھی موجود تھے۔ اس پر سید خورشید شاہ کی طرف سے اعتراض ہوا کہ چھوٹے صوبوں کو اہمیت نہیں دی گئی اگرچہ انہوں نے عمران خان پر بھی اعتراض کیا کہ تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی جس سے طیب اردوان نے خطاب کیا اور تنازعہ کشمیر پر غیر لچکدار موقف اختیار کیا۔

یہ سب یوں لکھنا پڑا کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار تنازعہ پیدا کرنے کے ماہر ہیں۔ محترم نہال ہاشمی نے خود ساختہ ترجمان کے طور پر جوابی بیان داغ دیا تھا کہ وزراء اعلیٰ کو مدعو کیا گیا تھا، ان حضرت کی طرف سے تو دفاع کیا گیا اگرچہ وفاقی حکومت یا پنجاب کی طرف سے ایسی بات نہیں کی گئی اور خاموشی کو بہتر جانا گیا۔ محترم نہال ہاشمی کے بیان سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ وزراء اعلیٰ دعوت کے باوجود نہیں آئے حالانکہ لاہور کے عشائیہ میں یہ سب موجود تھے۔ یہاں تو آ گئے کیا ان کو شاہی قلعہ اور اچھے کھانے مرغوب تھے؟ کہتے ہیں بولنے سے پہلے تولنا چاہیے، محترم نہال ہاشمی کو بھی پہلے تول لینا چاہیے تھا کہ وہ پہلے ہی سابق گورنر سندھ عشرت العباد کے حوالے سے بیان دے کر اسے واپس چبا چکے ہیں، کہتے ہیں ایسے ہی حضرات کے دم سے بعض غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں، حالانکہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ جب جہانگیر بدر کے جنازے میں شرکت کے لئے آئے تو وہ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے مل کر گئے اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا، یہ سیاسی روابط ہی نہیں ریاستی روابط بھی ہوتے ہیں اور ان کا احترام واجب ہے۔ تحریک انصاف والے اگر خیال نہیں کر رہے تو ان کے اس عمل کو اچھا بھی نہیں کہا جا رہا۔

بہرحال ترکی ہمارا آزمودہ برادر ملک ہے، ہر ضرورت میں کام آیا، حتیٰ کہ جنگ ستمبر 65 میں بھی بھرپور تعاون کیا تھا اور اب تنازعہ کشمیر پر بھارت کی پرواہ کئے بغیر بہت واضح موقف اختیار کیا ہے۔ بہتر ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما باوقار انداز سے سیاست کریں اور بات کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں۔

ملک میں پاناما لیکس زیر بحث ہے۔ کارروائی ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ہے اور تجزیئے، تبصرے باہر ہو رہے ہیں حتیٰ کہ فریقین باہر آکر عدالتی کارروائی کی اپنے پیمانے سے تشریح کرتے ہیں۔ ابھی تک عدالت نے کسی کو روکا نہیں، حالانکہ زیر سماعت معاملے پر ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تو عدالت کے باہر پارلیمنٹ ہاؤس کی طرح پریس گیلری بن چکی اور جو بھی باہر آتا ہے۔ ارشاد فرما کر چلا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جو کارروائی عدالت میں فاضل بنچ اور وکلاء کے درمیان ہو صرف وہی نشر یا اشاعت پذیرہو، یہاں الٹا ہو رہا ہے، بہرحال ہم تو انتظار کریں گے، کارروائی کے بعد فیصلہ آیا تو بات کریں گے۔ یہ اپیل بھی کرتے ہیں کہ عدالت کو کام کرنے دیں اور سب انتظار کریں، ماحول کو ٹھنڈا رکھیں۔

مزید : تجزیہ