حامد خان جیسا ماہر قانون دان سیاسی مصلحتوں کے تاریک راستے میں مارا گیا

حامد خان جیسا ماہر قانون دان سیاسی مصلحتوں کے تاریک راستے میں مارا گیا

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

عدالتوں میں موکل اپنے وکیل تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ یہ نہ کوئی انہونی ہے اور نہ کوئی ایسی بات ہے جس پر کسی کو اعتراض ہو، لیکن جس انداز میں حامد خان جیسے سینئر قانون دان کو جو اپنی اصول پسندی کی شہرت رکھتے ہیں، تحریک انصاف کی لاابالی سیاست کی قربان گاہ پر قربان کیا گیا ہے اس سے یہ تاریخی حقیقت پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور بعض اوقات تو وہ غیرت و حمیت جیسے اوصاف سے بھی تہی دامن ہو جاتی ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ حامد خان اس مقدمے میں اپنی پارٹی سے کوئی فیس لے رہے تھے یا نہیں لیکن ایسے مقدمات میں حامد خان جیسے پائے کے وکیل لاکھوں روپے فیس لیتے ہیں۔ موکل نے اگر انہیں تبدیل کیا ہے تو لازماً ان کے ذہن میں کوئی بہتر متبادل بھی ہوگا لیکن کسی بہتر سے بہتر اور قابل سے قابل متبادل کے پاس دلائل کی کوئی ایسی ’’گیدڑ سنگھی‘‘ شاید ہی ہوگی جسے کام میں لاکر وہ ایک کمزور مقدمے کو جیت سکے، وکیل نے عدالت میں وہ شواہد اپنے دلائل کے ساتھ پیش کرنے ہوتے ہیں جو اس کا موکل اسے فراہم کرتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان نے اپنے وکیل کے سپرد کون سے ایسے شواہد کئے تھے جو انہوں نے عدالت کے روبرو نہیں رکھے، اگر وکیل کو ثبوت کے طور پر متنازعہ اور مسترد کتاب اور اخبارات کے تراشے ہی فراہم کئے جائیں گے تو اس کے پاس کون سا ایسا منتر ہے جسے پھونک کر وہ اسے وزنی دلائل میں تبدیل کرسکے جنہیں فاضل عدالت بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو۔ جمعرات کی سماعت کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جس طرح یہ مقدمہ لڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ شاخ نازک پہ بنے ہوئے آشیانے سے مختلف نہیں ہوگا۔ عدالت چاہتی ہے کہ مقدمے کو لندن فلیٹس پر فوکس کیا جائے اور وکیل وزیراعظم کی تقریروں کے اقتباسات سنا رہا ہو۔ حیرت تو ہوگی کہ حامد خان کے پائے کا وکیل ایسا اپنی قانونی مہارت کی بنیاد پر کر رہا ہے یا موکل کی ہدایت پر، کیونکہ جب وزیراعظم کو مخاطب کرکے یہ کہا جا رہا ہو ’’تم مجرم ہو، تمہارا جرم ثابت ہوگیا ہے‘‘ تو پھر وکیل اسی طرح کی بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جائیگا۔ حامد خان نے بالکل درست کہا کہ وہ عدالتوں میں مقدمہ تو لڑ سکتے ہیں میڈیا میں نہیں لڑ سکتے۔

حامد خان نے ایک گھنٹے تک عدالت میں وزیراعظم کی جن دو تقریروں کے اقتباسات پڑھے وہ ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کی گئی تھیں۔ تیسری تقریر وہ تھی جو پارلیمنٹ میں کی گئی ان سے اگر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ان میں تضادات موجود ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تقریریں عدالت کے ریکارڈ پر ہی نہیں ان کے اندر اگر تضادات ہیں تو وہ مقدمے کو کس طرح متاثر کرتے ہیں، ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ مقدمے کو سیاسی انداز میں لڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی اور قانونی دلائل کا سہارا کم لیا جا رہا تھا۔ غالباً حامد خان یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ بطور ایک وکیل کے اس کے حق میں دلائل نہیں لاسکتے۔ اس لئے انہوں نے اس مرحلے پر ہی کیس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ شروع ہوا تو انہوں نے اس کیس کو سیاسی مقدمے کے طور پر لڑنے کا فیصلہ کیا، جبکہ قانونی ماہرین کی رائے تھی کہ اس کیس کو اگر سیاست کو ایک طرف رکھ کر کریمنل کیس کے طور پر لڑا جائے تو یہ کیس جیتا جاسکتا ہے، لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور یحییٰ بختیار کی رائے ان سے مختلف تھی، بھٹو صاحب خود بیرسٹر تھے۔ سندھ مسلم لاء کالج میں قانون کی تعلیم دیتے رہے تھے۔ یحییٰ بختیار ان کی حکومت میں اٹارنی جنرل تھے اور قانون کے پیشے میں ان کا ایک مقام تھا۔ موکل اور وکیل اس سلسلے میں ایک ہی رائے رکھتے تھے کہ کیس کو سیاسی بنایا جائے اور اس بنیاد پر لڑا جائے۔ بیگم نصرت بھٹو سے اس سلسلے میں بعض قانونی ماہرین نے رابطہ کیا اور انہیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ اگر اپنے شوہر کا مقدمہ کریمنل کیس کے طور پر لڑنے کی اجازت دیں تو جیت کے امکانات ہیں، چنانچہ بیگم صاحبہ نے اپنے وقت کے فوجداری قانون کے معتبر وکیل غلام علی میمن سے رابطہ کیا جو مقدمے میں بھٹو صاحب کی طرف سے پیش ہوئے۔ ابھی صرف ایک پیشی ہوئی تھی کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے عدالت میں کہہ دیا کہ ان کا مقدمہ غلام علی میمن نہیں، یحییٰ بختیار ہی لڑیں گے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ مقدمہ یحییٰ بختیار ہی نے لڑا اور لاہور ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک ایک ہی فیصلہ ہوا، مقدمے کو سیاسی ضرور بنایا گیا کیونکہ کریمنل کیس لڑتے ہوئے غالباً ذوالفقار علی بھٹو اپنی ہتک محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ مقدمے کا فیصلہ بھی ہوا اور اس پر عملدرآمد بھی ہوگیا۔ آج تک اس پر بحث مباحثے کا سلسلہ جاری ہے، بھٹو کی حکومت ختم ہونے کے بعد دو مرتبہ ان کی بیٹی اور ایک مرتبہ ان کے داماد کی حکومت رہی، کیس کو ری اوپن کرنے کی بڑی باتیں ہوئیں لیکن آج تک اس ضمن میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ پارٹی کے بعض وکلاء بڑی شد و مد سے کیس ری اوپن کرنے کی وکالت کرتے رہے، دلائل بھی لاتے رہے، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں، اب شاید پارٹی کی کسی اگلی حکومت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

حامد خان نے تو اچھا فیصلہ کیا کہ خود کیس سے الگ ہوگئے۔ علیحدگی کی بنیاد انہوں نے یہی بتائی کہ وہ میڈیا میں نہیں لڑ سکتے لیکن حامد خان کے فیصلے کے بعد میڈیا میں بعض وکیل اس انداز میں دلائل دے رہے ہیں جیسے عمران خان کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہوں ’’ساڈے ول تک سجناں‘‘ یعنی حامد خان وکالت نہیں کرتے تو نہ کریں ان سے بڑے بڑے وکیل چشم براہ ہیں، انہیں موقع دیا جائے۔ اب ظاہر ہے کوئی نہ کوئی وکیل تو کرنا ہی ہے، کسی اچھے وکیل کا انتخاب ہی ہوگا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ نئے شواہد کہاں سے آئیں گے؟ کیونکہ حامد خان تو عدالت میں کہہ چکے تھے کہ ثبوتوں کی مد میں ان کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ عدالت کے روبرو پیش کرچکے، اب ان کے پاس مزید ثبوت نہیں ہیں، لیکن نئے وکلاء تو نئے ثبوتوں سے لدے پھندے ہوئے ہیں، وہ ایک شان دلربائی کے ساتھ میدان میں ہیں۔ بس عمران خان انہیں ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق فیس ادا کرکے انہیں وکیل کرلیں اور کیس تو ثابت ہے ہی کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں ’’تم مجرم ہو‘‘ مزید کیا ثابت کرنا ہے؟ حامد خان بیچارے تو پارٹی کی محبت میں مارے گئے، بغیر فیس کے مقدمہ بھی لڑ رہے تھے اور پارٹی کے بدتمیز چیتوں کی گالیاں بھی سن رہے تھے۔

مزید : تجزیہ