میڈیکل کالجوں میں سنٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق نیا حکم جاری

میڈیکل کالجوں میں سنٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق نیا حکم جاری

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے میڈیکل کالجز میں طلبہ کے داخلے کے لئے سنٹرل ایڈمشن پالیسی کیخلاف حکم امتناعی میں ترمیم کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو ایم کیٹ والے طلبہ کے داخلوں کے عمل اور میرٹ لسٹیں آویزاں کرنے کی اجازت دیدی، سیٹ ٹو کے تحت داخلے کے امیدواروں کی نشستیں عدالتی فیصلے تک خالی رکھی جائیں گی ۔جسٹس شمس محمود مرزا نے پی ایم ڈی سی کی متفرق درخواست پر سماعت کی، عدالت نے سنٹرل ایڈمیشن پالیسی سے متعلق نیا حکم جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ لاہور ہائیکورٹ کے جنت سردار کیس میں حکم امتناعی کا اطلاق ایم کیٹ والے داخلے کے امیدوار طلباء پر نہیں ہوگا، حکم امتناعی صرف سیٹ ٹو والے طلباء پر ہوگا جس کے تحت پی ایم ڈی سی کے وکیل کی یقین دہانی کے مطابق سیٹ ٹو والے طلباء کی درخواستوں کے مقابلے میں داخلے مکمل نہیں کئے جائیں گے اور یہ سیٹیں خالی رکھی جائیں گی، پی ایم ڈی سی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سنٹرل ایڈمشن پالیسی کیخلاف حکم امتناعی لینے والے طلبا سیٹ ٹو والے ہیں جنکی تعداد مجموعی طور پر داخلے کے خواہشمند امیدواروں میں سے صرف پانچ فیصد بنتی ہے، حکم امتناعی کی وجہ سے نوے فیصد سے زائد ایم کیٹ والے طلباء کنفیوژن کا شکار ہیں اور ان کے داخلے کرنے اور میرٹ لسٹیں آویزاں کرنے کا حکم بھی رک گیا،حکم امتناعی میں ترمیم کر کے وضاحت کی جائے ۔جس پر عدالت نے سنٹرل ایڈمشن پالیسی کیخلاف حکم امتناعی میں ترمیم کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو ایم کیٹ والے طلبہ کے داخلوں کے عمل اور میرٹ لسٹیں آویزاں کرنے کی اجازت دے دی۔

نیا حکم جاری

مزید : صفحہ آخر