صنعتکاروں نے توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے حکومتی اقدامات کو خوش آئند قراردیدیا

صنعتکاروں نے توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے حکومتی اقدامات کو خوش آئند ...

لاہور (اسد اقبال) ملک سے لو ڈشیڈنگ ختم کر نے کے لیے موجودہ حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے پانی اور ہوا کے آٹھ منصوبے 2018تک مکمل ہو جائیں گے جن سے مجموعی طور پر 11ہزار 892میگا واٹ بجلی نیشنل سسٹم میں آئے گی ۔پانی اور ہوا سے شروع کیے گئے یہ منصوبے وفاقی حکومت واپڈا کی معاونت سے شروع کیے ہوئے ہیں جن کو آپریشنل کر نے کے لیے تعمیراتی سر گر میاں جاری ہیں ۔صنعتکار وں نے حکومت کی جانب سے توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو خو ش آئند قرار دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حکومت عوام سے کئے گئے وعدے کے مطابق اپنے دور اقتدار میں ہی ملک سے بجلی کی لو ڈشیڈنگ کا خاتمہ کر کے اپنے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی ۔تفصیلات کے مطابق ملک میں بجلی کا بحران ختم کر نے کے لیے واپڈا پانی اور پن بجلی کے وسائل کو ترقی دینے کیلئے پرعزم ہے اوراس وقت واپڈا پن بجلی کے 6مختلف منصوبے تعمیر کررہاہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 4 ہزار 792 میگاواٹ ہے۔ ان منصوبوں میں 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم، 1410 میگاواٹ کا تربیلا کا چوتھا توسیعی منصوبہ،106 میگاواٹ کا گولن گول، 128 میگاواٹ کا کیال خواڑ، 2160میگاواٹ کا داسو(سٹیج I- ) اور 18.9 میگاواٹ کا کرم تنگی ڈیم (سٹیجI-)شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق ان منصوبوں میں سے تین منصوبے جن کی پیداواری صلاحیت 2 ہزار 485 میگاواٹ ہے کو 2018 ء میں مکمل کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب سے پانی سے بجلی پیدا کر نے کے لیے بونجی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور دیا مر بھاشا ڈیم قابلِ ذکر ہیں۔بونجی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت 7100میگاواٹ ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی پیداواری صلاحیت 4500میگاواٹ اور پانی ذخیرہ حاصل کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1ملین ایکڑ فٹ ہے۔علاوہ ازیں زیرتعمیر منصوبوں میں کچھی کینال(فیز I- )، نائے گاج ڈیم، رائٹ بنک آؤٹ فال ڈرین اور مظفرگڑھ اور تونسہ۔پنجند لنک نہروں کی پختگی شامل ہیں ۔پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے پیاف کے چیئر مین عرفان اقبا ل شیخ ،وویمن چیمبر آف کامرس کی صدر شازیہ سلیمان ، لاہور چیمبر آف کامرس کے ایگزیکٹو ممبر عدنان خالد بٹ اور طاہر جاوید ملک نے کہا کہ حکومت توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے او ر بجلی پیدا کر نے کے لیے شر وع کیے گئے پراجیکٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد جہاں بجلی کے بحران کا خاتمہ ہوگا وہیں صنعتی پہیہ مسلسل رواں دواں رہنے سے ملک خوشحالی و ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگا ۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے صنعتکاروں کی مشکلات کے پیش نظر اوگرا کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں36فیصد اضافہ کی منظوری نہ دے کی صنعتکاربرادری و عوام کے دل جیت لیے ہیں ۔

صنعتکار وں

مزید : صفحہ آخر