کراچی ،میئر کراچی کا سندھ اسمبلی پہنچنے پر شاندار استقبال

کراچی ،میئر کراچی کا سندھ اسمبلی پہنچنے پر شاندار استقبال

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے نومنتخب میئر وسیم اختر جیل سے اپنی رہائی کے بعد جمعہ کو جب سندھ اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے مہمانوں کی گیلری میں پہنچے تو اسپیکر آغا سراج درانی اور ایوان میں موجود ارکان نے ان کا خیر مقدم کیا ۔ اس موقع پر آغا سراج درانی نے میئر کی سندھ اسمبلی آمد پر ان کو خوش آمدید کہا اور اسپیکر کا کہنا تھا کہ وسیم اختر جیل میں رہنے کے بعد زیادہ اسمارٹ ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وسیم اختر کو میئر بننے اور جیل سے رہائی پر میں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اس موقع پر سینئر وزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے بھی میئر کراچی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ وسیم اختر کی سندھ اسمبلی آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وہ اسپیکر سندھ اسمبلی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وسیم اختر واقعی اسمارٹ ہو گئے ہیں ۔ جس پر اسپیکر کا کہنا تھا کہ جیل میں رہ کر سب ہی اسمارٹ ہو جاتے ہیں ۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ وسیم اختر کو سندھ اسمبلی آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وسیم اختر کی یہ دلی خواہش تھی کہ وہ میئر منتخب ہونے کے بعد سب سے پہلے اس اسمبلی میں جائیں ، جہاں وہ ایک عرصے تک رکن رہے ہیں اور انہوں نے سندھ میں وزیر بلدیات اور وزیر داخلہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں ۔ انہوں نے حکومت سندھ سے درخواست کی کہ وہ میئر کراچی کے ہاتھ مضبوط کریں ۔ یہ شہر ترقی کرے گا تو کریڈٹ صوبائی حکومت کے کپتان سید مراد علی شاہ کو ملے گا ۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم نہ لوکل گورنمنٹ ہیں نہ سندھ حکومت ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان ایک پل کا کردار ضرور ادا کر سکتے ہیں ۔ ایک طرف ایک بااختیار حکومت ہے اور دوسری طرف بے اختیار بلدیاتی حکومت ہے ۔ اسے بااختیار بنانے کے لیے ہم رابطے اور پل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں ۔ اس موقع پر سینئر وزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ میں ایک طویل عرصے کے بعد بلدیاتی الیکشن ہوئے ہیں ۔ سندھ حکومت نے بلدیاتی نظام کے راستے میں کبھی کوئی رکاوٹ حائل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ صوبے میں بلدیاتی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ہم نے ایک قانون بنایا ۔ اس پر اعتراض ہوا تو دوسرے قانون کے لیے قانون سازی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بحث ایک بااختیار اور بے اختیار حکومت کی نہیں ہے بلکہ بلدیاتی اختیارات سے متعلق سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قانون موجود ہے ۔ قانون کے مطابق بلدیاتی اداروں کو جو اختیارات حاصل ہیں ، حکومت انہیں دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اور قانون کے مطابق انہیں تمام اختیارات دیئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 2008 سے لے کر 2013 تک کے پی کے اور پنجاب سمیت کسی بھی دوسرے صوبے میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی لیکن سندھ میں بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی ثمر علی خان نے امید ظاہر کی کہ بلدیاتی نظام کے باعث لوگوں کے بنیادی مسائل حل ہوں گے اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ، جن کا تعلق قبضہ مافیا اور چائنا کٹنگ سے ہے ۔ انہوں نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول