پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیراعظم پر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، پرویز مشرف

پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیراعظم پر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، پرویز مشرف

لندن (آئی این پی)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نوازشریف پر بہت زیادہ الزامات لگ چکے ہیں انہیں اب استعفیٰ دے دینا چاہیے، میں ہوتا تو مستعفی ہوجاتا ، تحریک انصاف کو اپنا دھرنا جاری رکھنا چاہیے تھا،میں نے مارشل لاء4 نہیں لگایا تھا ، اپنے دور حکومت میں حمزہ شہباز کو تنگ نہ کرنے کا حکم دیا تھا، کراچی میں سندھی اور بلوچوں کی ایم کیو ایم کے ساتھ لڑائی کو پیپلزپارٹی سپورٹ کرتی تھی ، ایم کیو ایم تیس سال چلی مگر اب نہیں چل سکتی ، اس پارٹی کو ہی ختم کر دینا چاہیے ، بغیر اختیارات کے میئر کا کام کرنا آسان نہیں ہوتا ،۔ وہ جمعہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایم کیو ایم کو ختم ہوجانا چاہیے کیونکہ اس کا نام خراب ہو گیا ہے ، ایم کیو ایم تیس سال چلی مگراب نہیں چل سکتی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ کراچی میں سندھی بلوچوں کی ایم کیو ایم کے سا تھ لڑائی کو پیپلزپارٹی سپورٹ کرتی تھی ، سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا سانحہ 12مئی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ 2007میں جب مصطفی کمال مشیر تھے تو انہیں پارٹی چھوڑ دینی چاہئیے تھی ، بغیر اختیارات کے میئر کا کام کرنا آسان نہیں ہوتا۔سابق صدر نے کہا کہ تحریک انصاف کو اپنا دھرنا جاری رکھنا چاہیے تھا، پانامہ کے ثبوت تفصیل سے نہیں دیکھے ، اپنے دور حکومت میں حمزہ شہباز کو تنگ نہکرنے کا حکم دیا تھا، میں نے مارشل لاء نہیں لگایا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2009تک بیرون ملک میرے پاس ایک اینٹ کی بھی جائیداد نہیں تھی ، میرے پاس اپنی بیرون ملک جائیداد کے تمام ثبوت اور کاغذات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت جتنی بدنام ہوگئی ہے اب نوازشریف کو استعفیٰ دے دینا چاہیے ، نوازشریف کی جگہ میں ہوتا تو ضرور استعفیٰ دے دیتا۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز مشرف نے کہا کہ متنازع خبر کی تحقیقاتی کمیٹی سے کچھ نہیں نکلے گا، ہوسکتا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو جائے ، پہلے نوازشریف کشمیر کا ایشو اتنا نہیں اٹھاتے تھے مگر اب ان کی پالیسی اس حوالے سے بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا مگر لگتا یہی ہے کہ بارڈر پر فائرنگ نوازشریف کو بچانے کے لئے کی جاتی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول