زرعی پیداوار انسانی زندگی اور ملکی معیشت کیلئے نہایت لازم جز ہے :سکندر شیر پاؤ

زرعی پیداوار انسانی زندگی اور ملکی معیشت کیلئے نہایت لازم جز ہے :سکندر شیر ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے آبپاشی و سوشل ویلفےئر سکندر حیات خان شیرپاؤ نے محکمہ ہائے آبپاشی و سمال ڈیمز کے حکام پر زور دیا ہے کہ صوبہ کے طول وعرض میں پائی جانے والی بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے جاری منصوبوں پر کام تیز کیا جائے تاکہ صوبے کی زرعی پیداوار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اضافہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار انسانی زندگی اور ملکی معیشت کیلئے نہایت لازم جز ہے جس کو مزید بڑھانے اور ترقی دینے میں آبپاشی نظام کو کلیدی مقام حاصل ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ایریگیشن صوابی اور سمال ڈیمز ڈائریکٹوریٹ جنرل کے الگ الگ منعقدہ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر آبپاشی نے محکموں کی کارکردگے اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کی تکمیل میں جدید دور کے تقاضوں اور ان سے منسلک کاشتکاروں کی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ سکندر حیات خان نے دونوں محکموں کے اعلیٰ حکام اور ٹیکنیکل ماہرین سے کہا ہے کہ آبپاشی سے متعلق نئے منصوبوں کی بھی بروقت نشاندہی کریں تاکہ وہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے جائیں۔صوبائی سینئر وزیر کو مختلف منصوبوں پر جاری کام کی نوعیت سے متعلق تفصیلات سے آگا ہ کیا گیا اور محکموں کو درپیش بعض مشکلات کی نشاندہی بھی کی گئی جن کو فوری طور پر حل کرنے کیلئے کی اقدامات کی منطوری دی گئی۔سکندر حیات شیرپاؤ نے جاری منصوبوں کی فوری مانیڑنگ اور فالو اپ پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام جاری اور نئے منصوبوں میں متعلقہ علاقوں کے عوام کی تجاویز کو اہمیت دی جائے ۔دریں اثناء جمعہ کی صبح پاک ترک سکول ٹیچرز کے ایک نمائندہ وفد نے سینئر وزیر سکندرحیات شیرپاؤ سے پشاور میں ملاقات کی اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا ۔سینئر صوبائی وزیر نے وفد کے ارکان کو اپنے تعاون کا یقین دلایا اور وفاقی حکومت سے پرزور اپیل کی کہ انہیں د ی گئی ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور اس کے مذکورہ اساتذہ کو اتنا وقت ضرور دے کہ وہ اپنے بچوں اور خاندانوں کو احسن طریقے سے منتقل کرسکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیڈ لائن دیتے وقت مذکورہ اساتذہ کے بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچانے کی کوشش کی جانی چاہئیے۔

مزید : کراچی صفحہ اول