مسلم لیگ ن اپنے منشور کیمطابق صوبہ کمیشن تشکیل دے‘ ظہور دھریجہ

مسلم لیگ ن اپنے منشور کیمطابق صوبہ کمیشن تشکیل دے‘ ظہور دھریجہ

ملتان(جنرل رپورٹر) پارلیمانی صوبہ کمیشن صوبے کے نام اور حدود کا فیصلہ کرے ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے روٹری کلب ملتان کے اجلاس میں سرائیکی صوبے کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ا ستقبالیہ کلمات میں کلب کے صدر راؤ جمشید علی خان نے کہا کہ صوبہ خطے میں بسنے والے سب (بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

لوگوں کی ضرورت ہے ، صوبے کے نام پر نان سرائیکیوں کے تحفظات ہیں ، صوبے کی حدود کا مسئلہ پیپلز پارٹی کی تنظیم جنوبی پنجاب نے بھی حل نہیں کیا ، جب تک وسیب کے سٹیک ہولڈرز متفقہ آواز بلند نہیں کریں گے ، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ ن لیگ ، پنجاب اسمبلی کی قرارداد ، اپنے منشور اور اپنے انتخابی وعدے کے مطابق صوبہ کمیشن تشکیل دے جو صوبے کی حدود اور نام کا مسئلہ حل کرے ۔ وسیب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ لڑایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ہے ۔آئینی طور پر صوبے کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی تعیناتی میں سرائیکی وسیب کے ساتھ ظلم کیا گیا ۔ وکلاء برادری بجا طور سراپا احتجاج ہے اور پورا وسیب ان کے ساتھ ہے، لاہور ہائیکورٹ 150سالہ جشن منانے کی بجائے وسیب کی 150 سال کی حق تلفیوں کا حساب دے۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ سی ایس ایس میں وسیب کا کوٹہ الگ نہ ہونے کے باعث ڈی ایم جی میں وسیب کے لوگ آٹے میں نمک برابر ہیں ۔ فوج اور فارن سروسز میں وسیب کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔وسیب میں خام مال اور افرادی قوت سب سے زیادہ ہے مگر صنعتیں لاہور، فیصل آباد اور گجرانوالہ میں لگائی جاتی ہیں ۔این ایف سی ایوارڈ سے حصہ نہیں ملتا، راہداری منصوبے سے وسیب کو آؤٹ کر دیا گیا ہے ۔ نئے منصوبے تو کجا رہے یوسف رضا گیلانی دور کے جاری منصوبوں کا فنڈ روک لیا گیا ، حالانکہ ان پر اربوں خرچ ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وسیب کا قدم قدم پر استحصال ہو رہا ہے۔ پوسٹ گریجویٹ جناح ہسپتال کو 212 سیٹیں ملیں جبکہ نشتر ملتان کو صرف 9 ، حالانکہ نشتر اس سے بڑا ہسپتال ہے، نشتر کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کی پنجاب اسمبلی متفقہ قرارداد پر 10 سال گزرنے کے باوجود عمل نہیں ہوا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر