خیبرپختونخوا اسمبلی اور آئل آف مین ٹائنوالڈ میں معاہدہ اہمیت کا حامل ہے :اسد قیصر

خیبرپختونخوا اسمبلی اور آئل آف مین ٹائنوالڈ میں معاہدہ اہمیت کا حامل ہے :اسد ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی اور آئل آف مین کی پارلیمنٹ ٹائنوالڈ(TYNWALD)کے مابین صوبائی اسمبلی کے اراکین اور عملے کو بہتر طرز حکمرانی ،موثر قانونی سازی کے رموز سے روشناس اور پارلیمانی استعداد کار میں اضافہ اور ٹائنوالڈ کے ایک ہزار سال سے قدیم پارلیمانی تجربے سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے تعاون فراہم کرنے کی غرض سے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کر دئیے گئے۔اس سلسلے میں جمعہ کے روز سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر اور ٹائنوالڈ (Isle of Mann) کے صدر سٹیفن چالز روڈان ایم ایل سی اور ہاؤس آف کیز کے سپیکر جان پاؤل واٹرسن ایس ایچ کے نے معاہدے پر باقاعدہ طور پر دستخط کر دئیے ۔واضح رہے کہ یہ معاہدہ خیبر پختونخواا سمبلی اور برٹش کونسل کے درمیان 2014 میں صوبائی اسمبلی کے 124اراکین کے استعداد کار میں اضافے کیلئے ہونے والے معاہدے کا تسلسل ہے۔معاہدے کے تحت ٹائنوالڈ صوبائی اسمبلی کو پارلیمانی تعاون اور استعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی اور آئل آف مین کی پارلیمنٹ میں پارلیمانی روابط کو بھی مضبوط کیا جائیگا ۔اس معاہدے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین اور عملے کو آئل آف مین کے منفرد پارلیمانی نظام حکومت کو جاننے میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آئل آف مین کی پارلیمنٹ ٹائنوالڈ دنیا کی قدیم ترین پارلیمنٹ ہے جس کی پارلیمانی تاریخ ایک ہزار سال سے زائد پرانی ہے ۔معاہدے میں طے ہوا کہ برٹش کونسل کے تعاون سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے 124ممبران اور افسران کو آئل آف مین کی قانو ن ساز عمارتوں کے دورے کرائے جائیں گے ان دوروں کے دوران کلرک آف ٹائنوالڈ کا دفتر اپنے عملے اور ٹائنوالڈ کے سابقہ اور موجودہ ممبران کی ماہرانہ رائے اور تجربات سے متعلق مرحلہ وار معلومات اور دیگر تربیت کے مواقع فراہم کرے گا۔یہ معاہد ہ ایک سال پر محیط ہو گا جس میں دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے مزید توسیع بھی ہوسکے گی۔اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ معاہد ہ خیبر پختونخوا اسمبلی کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے جس سے صوبائی اسمبلی کے ممبران اور عملے کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھرپور مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کی بدولت نہ صرف دونوں قانون ساز اداروں کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے بلکہ ایک دوسرے کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر پارلیمانی روایات بھی قائم ہوں گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر