ماضی میں بلدیاتی اداروں کو بری طرح تباہ کیا گیا ،جام خان شورو

ماضی میں بلدیاتی اداروں کو بری طرح تباہ کیا گیا ،جام خان شورو

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا ہے کہ ماضی میں بلدیاتی اداروں کو اس طرح تباہ کیا گیا کہ وہ نہ تو بجلی کے بل ادا کرنے کے قابل تھے اور نہ ہی ان میں اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے کی مالی سقط باقی رہی تھی ۔ لیکن اب حکومت سندھ ان معاملات کو درست کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو سندھ اسملبی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان صوبائی اسمبلی صابر حسین قائم خانی اور دلاور قریشی کے مختلف پوائنٹس آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ۔ ان ارکان کا کہنا تھا کہ حیدر آباد میں بجلی کی فراہمی سے متعلق ادارہ بغیر کسی نوٹس کے بجلی کی فراہمی منطقع کر دیتا ہے ۔ واسا اور حیسکو کی آپس کی چپقلش سے لوگ محرم ، عید اور دیگر تہواروں پر پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم رہتے ہیں ۔ صابر قائم خانی کا کہنا تھا کہ آج جمعہ کے دن گھروں اور مساجد میں وضو کے لیے پانی بھی دستیاب نہیں ۔ حکومت حیسکو کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اس طرح اچانک بجلی کی فراہمی منقطع رکے لوگوں کی زندگی کو عذاب میں نہ ڈالے ۔ اس لسلے میں صوبائی حکومت کو وفاق سے بھی رابطہ کرنا چاہئے ۔ رکن صوبائی دلاور قریشی نے کہا کہ حیدر آباد میں فلٹر پلانٹ موجود ہے لیکن کرپشن کے باعث پانی فلٹر نہیں ہو رہا ہے ۔ جس کے باعث ہیپاٹائٹس اور دوسرے امراض بڑھ رہے ہیں جبکہ ادارہ ترقیات حیدر آباد کی گورننگ باڈی کی تشکیل بھی ابھی تک نہ ہو سکی ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ حیدر آباد کے مسائل پر توجہ دیں اور حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے ارکان سے ملاقات کریں ۔ اس موقع پر وزیر بلدیات جام خان شورو نے بتایا کہ واسا اور حیسکو کے درمیان واجبات کا تنازع بہت پرانا ہے ۔ تاہم پہلی مرتبہ حکومت سندھ حیدر آباد میں واسا کو 80 کروڑ روپے کی رقم دی ہے ۔ تاکہ وہ حیسکو کے واجبات وقت ادا کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدر آباد میں فلٹر پلانٹ کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ لوگوں کو پینے کا صاف ستھرا پانی میسر آ سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ حسین آباد اور لطیف آباد میں 36 انچ قطر کی نئی پائپ لائن ڈالی جا رہی ہے تاکہ حیدر آباد کے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت دور ہو سکے ۔ محکمہ بلدیات نے ایچ ڈے اے کو خصوصی گرانٹ بھی دی ہے ، جس سے اس کے ملازمین کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر