3زندگیاں آدثات کی بھینٹ چڑھ گئیں، نوجوان قتل، 2افراد کی خودکشی

3زندگیاں آدثات کی بھینٹ چڑھ گئیں، نوجوان قتل، 2افراد کی خودکشی

رحیم یار خان،گگومنڈی،تلمبہ، مبارکب پور (نمائند گان)ٹریفک کے مختلف حادثات میں3افراد جاں بحق ہوگئے۔رشتے کے تنازع پر نوجوان کو قتل کردیا گیا،دو افراد نے خودکشی کرلی۔لڑکی کی سربریدہ لاش نہر سے برآمد ہوئی۔رحیم یار خان سے بیورو نیوز کے مطابق خانپور کارہائشی تئیس سالہ محمد(بقیہ نمبر34صفحہ7پر )

عامرموٹرسائیکل پرگھرسے رشتہ داروں کے گھرواقع ظاہرپیرجارہاتھاکہ راستے میں قومی شاہراہ پرموڑکاٹتے ہوئے اسے تیزرفتارمسافربس نے بے قابوہوکرکچل دیاجس سے وہ شدیدزخمی ہوگیاجسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبرنہ ہوسکااوردم توڑگیاہسپتال انتظامیہ نے کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی۔موضع غازی پور کے رہائشی محمد نواز نے پولیس کواپنی شکایت میں بیان کیا کہ اس کانوجوان بیٹا صلاح الدین اپنی موٹرسائیکل پرسوار ہوکر شہر جارہاتھاکہ قومی شاہراہ پرتیز رفتار ٹرالرنے بے قابو ہوکر کچل ڈالا جس کے نتجہ میں اس کابیٹا صلاح الدین شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی ہونے والے نوجوان کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقلی کے دوران ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا۔ملزم ڈرائیور انیس احمدٹرالر موقع پر چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ پولیس نے ٹرالر تحویل میں لیکر والد محمد نواز کی رپورٹ پر مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی۔گگومنڈی سے نامہ نگار کے مطابق گزشتہ روز نواحی گاؤں 169۔ای ۔بی کا رہائشی 15سالہ لڑکا مظہر عباس موٹر سائیکل پر سوار عارف والہ روڈ پر جا رہا تھا کہ سامنے سے آ نے والے منی ٹرک نے اسے ٹکر مار دی جس کے نتیجہ میں مظہر عباس ولد غلام عباس سکنہ چک نمبر 169۔ای ۔بی جاں بحق ہو گیا ۔تلمبہ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق تلمبہ کے نواحی چک حیدر آباد کے رہائشی عبدالستار، محمد رفیق اور محمد نعیم ، محمد وسیم اقوام راجپوت کے درمیان رشتہ کا تنازعہ تھاجس پرگزشتہ روزپردونوں پارٹیوں کے درمیان تصادم ہوگیا ۔اس دوران نعیم ، وسیم وغیرہ نے مشتعل ہو کر کلہاڑی کے وار کر کے 18سالہ محمد رفیق ولد عبدالستار کو قتل کر دیا اور اس کے تین بھائیوں ادریس،شفیق اور عبدالرحمن کو شدید زخمی کر دیا۔ پولیس تھانہ تلمبہ نے لاش کو قبضہ میں لے کر رورل ہیلتھ سنٹر تلمبہ پہنچا دیا جبکہ زخمیوں کو رورل ہیلتھ سنٹر تلمبہ میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ قاتل اور مقتول دونوں کاتعلق راجپوت برادری سے ہے اور آپس میں رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔ پولیس تھانہ تلمبہ مصروف تفتیش ہے۔رحیم یار خان سے بیورو نیوز کے مطابق بے روزگاری سے تنگ آکراوباڑوکے رہائشی تیس سالہ محمداشرف نے گھرمیں موجودخواب آورگولیاں بھاری مقدارمیں کھالیں جس سے اس پرغشی طاری ہوگئی جسے معلوم ہونے پرورثاء نے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیاجہاں وہ جسم میں زہرپھیل جانے کے باعث جانبرنہ ہوسکااوردم توڑگیاہسپتال انتظامیہ نے کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی جبکہ اقدام خودکشی کرنے والی سنی پل کی مائی نسرین اورصادق آباد کے محمدمنیرکوہسپتال منتقل کردیاگیاجہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔رحیم یار خان سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق گزشتہ روز خانپو رکی رہائشی21سالہ سدرہ بی بی نے آئے روز کی گھریلوناچاقی سے دلبرداشتہ ہوکر بھاری مقدار میں زہریلی گولیاں کھالیں حالت تشویشناک ہونے پر ورثاء نے طبی امداد کے لئے رحیم یارخان ہسپتال منتقل کیا جہاں منتقلی کے دوران راستے ہی میں دم توڑگئی جبکہ اقدام خودکشی کرنے والے تین افراد جن میں اوباڑو کی رہائشی22 سالہ فوزیہ بی بی، صادق آبادکی25سالہ تاج بی بی اور اڈاگلمرگ کا15سالہ تنویراحمد احمد شامل ہیں۔ ان افراد کو حالت غیرہونے پر ورثاء نے طبی امداد کے لئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔مبارک پور سے نامہ نگار کے مطابق نواحی موضع گرواں کا رہائشی عبدالجلیل جو کہ تین بچوں کا باپ تھا مبینہ نشے کا عادی تھااور نفسیاتی مریض تھا گھر کے قریب بیٹھک میں رہتا تھا کمرہ میں جا کر ٹیلی فون کی تار لوہے کے گاڈر سے باندھ کر گلے میں ڈال کر جھول گیا ،اس کے سگے بھائی جمیل احمد ولد محمد قاسم کمرے میں داخل ہو تو دیکھا کہ اس کا بھائی لٹکا ہو اہے شور کرنے پر سب گھر والے جمع ہو گئے اور تار کاٹ کر نیچے اتاراور ہسپتال لے ائے جہاں ڈاکٹر نے اس کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ۔بعد ازاں پولیس تھانہ نوشہرہ جدید کی کاروائی پر نعش کا پوسٹ مارٹم کر کے نعش ورثا کے حوالہ کردی ۔گگومنڈی سے نامہ نگار کے مطابق نواحی گاؤں 273۔ای ۔بی کے قریب اہلیان دیہہ نے الف صبح نہر میں لاش تیرتی دیکھی تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش نکال لی تو لاش نو معلوم نوجوان لڑکی کی تھی جس کا سر دھڑ سے کٹا ہوا تھا.پولیس نے لاش ٹی۔ ایم ۔اے کے حوالے کر دی ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر