پاکستان مخالف بھارت اسرائیل قربتیں

پاکستان مخالف بھارت اسرائیل قربتیں
پاکستان مخالف بھارت اسرائیل قربتیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر:غلام نبی مدنی،مدینہ منورہ

اسرئیل  دنیا بھر میں سب سے زیادہ حقارت سے دیکھا جانے والا ملک ہے۔جس کے خلاف دنیا بھر میں لوگ احتجاج کرتے رہتے ہیں۔باوجود امریکہ اور دیگرمغربی ممالک کی سپوٹ کےعوام کی اکثریت اسرائیل  سے بہت نفرت کرتی ہے۔اقوام متحدہ کے 31ممبر ممالک آج بھی اسرائیل کو الگ ریاست تسلیم نہیں کرتے،بلکہ اسرائیل کو فلسطین پر قابض سمجھتے ہیں۔نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد امریکہ میں مسلسل مظاہرے ہورہے ہیں،ان میں کچھ وہ لوگ  ہیں،جو ٹرمپ کو اس لیے پسند نہیں کرتے کیوں کہ ٹرمپ "پرواسرائیلی" ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام ٹرمپ کی حکومتی ٹیم میں شامل سٹیو بینن،جیسن گرین بالٹ،فریڈ مین،کوشنر اور ایونکا ایسے "اسرائیل نواز"یہودیوں کی شمولیت پر سخت نالاں ہیں۔امریکی اور یورپی عوام کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان بھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔اسرائیل سے نفرت  کی بنیادی وجہ فلسطین اور مسجدا قصی پرصہیونیوں کا قبضہ کرنا اور فلسطینی  عوام پر ظلم ڈھانا ہے۔

ایک طرف اسرائیل   سے دنیا بھر کے لوگوں کی نفرت کا یہ عالم ہے دوسری طرف بھارت کی اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی قرابتیں ہیں۔اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات  کی تاریخ طویل ہے۔باضابطہ طور پر 1950ء میں بھارت  کے وزیراعظم جواہر لال نہرونے یہ کہہ کر کہ" اسرائیل ایک حقیقت ہے" اسرائیل کوخودمختارریاست  تسلیم کرلیاتھا۔لیکن عوامی دباؤاور سیاسی مفادات  کی وجہ سے باقاعدہ سفارتی تعلقات 42 سال تک  خفیہ رکھے۔چنانچہ 1992ء میں بھارت نے پہلی مرتبہ اسرائیل میں سفارت خانہ کھولا،جس کے بعد مستقل سفارتی ،اقتصادی اور دفاعی تعلقات بڑھنا شروع ہوئے۔1997 میں اسرائیل کے ساتویں صدر عیزوایزمان  پہلے اسرائیلی صدر تھے جنہوں نے بھارت کا دورہ کیا اور انڈیا کے ساتھ اسلحے  کی بہت بڑی ڈیل کی۔اس کے بعد 1999 میں کارگل جنگ کے موقع اسرائیل نے کھل کر بھارت کی حمایت اور مددکی، جس کا اقرار 2008ء میں اسرائیلی سفیر نے بھی کیا۔2000ء میں اسرائیلی نیوی نے بھارتی نیوی کے ساتھ مل کر بحیرہ عرب میں سمندری مشقیں کیں اور اسرائیل نے بھارت کو پانی کے اندر ہتھیار لے جانے والے میزائل فروخت کیے۔2005ء میں انڈیا نے 220 ملین ڈالر کے 50 ڈرون طیارے اسرائیل سے خریدے۔2007ء میں بھارت نے اسرائیل سےڈھائی بلین ڈالر کے عوض اینٹی میزائل  سسٹم بھی خریدا۔2008ء میں بھارت کے فوجی سربراہان نے اسرائیل کا دورہ کیا اور مل کر جدید اسلحے کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے پر اتفاق کیا۔2009ء میں اسرائیل کے چیف آف آرمی سٹاف نے  پہلی مرتبہ انڈیا کا دورہ کیا اورانڈیا کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ میں مدد کی یقین دہانی کروائی۔اس کے علاوہ بھارتی خفیہ ایجنسی" را  " بھی شروع سے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔

1968ء میں جب را کو بنایا گیا تو اس کے پہلے ڈرائیکٹر "R.N Kao"نے بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کو مشورہ دیا کہ پاکستان اور چائنا کے خلاف کام کرنے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ تعلقات بنانا بہت ضروری ہے۔90 کی دہائی میں پاکستان نے را اور موساد کے پاکستان مخالف خفیہ تعلقات پر اس وقت آواز اٹھائی جب سیاحت کے نام پر دو اسرائیلی  خفیہ ایجنسی کے اہلکار مقبوضہ کشمیر میں  آئے،ان میں سے ایک کو کشمیری مسلمانوں نے مار دیا اور ایک کو اغواکرلیا تھا۔1996میں انڈین خفیہ ایجنسی کے سابق افسر  "آر کے یادیو" پر کرپشن  کرکے پراپرٹی خریدنے کا الزام لگا،جس کی تحقیقات کے دوران  پتہ چلا  کہ دراصل وہ پراپرٹی انڈین خفیہ ایجنسی  را نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے خریدی تھی۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 2015 میں جب  مودیG20کانفرنس میں شرکت کرنے ترکی گئے  تو اس وقت موساد اورMI5کےخفیہ اہلکارمودی کا تحفظ کررہے تھے۔

نریندرمودی حکومت کے آنے کے بعدسیاسی اور دفاعی سطح پر اسرائیل کے ساتھ  بھارتی تعلقات میں ماضی کی بنسبت دوگنا اضافہ ہوا ہے۔انڈین میڈیا کے مطابق 2006 میں مودی اسرائیل کا وزٹ کرچکے ہیں اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ گہرے مراسم رکھتے ہیں۔اس کااندازہ اس لگایا جاسکتاہےکہ 2014 میں یہودیوں کے خاص تہوار" چانوکا"کےموقع پرمودی نے عبرانی زبان میں نیتن یاہو کوٹوئٹر پر مبارکبادی ،جواب میں نیتن یاہو نے ہندی میں مودی کا شکریہ بھی ادا کیا۔اس کے علاوہ 2014ءمیں مودی حکومت کی وزیر خارجہ ششماسوراج نے اسرائیل کا دورہ کیااور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سےملاقات کی۔2014ء ہی میں بھارت کے صدر پرناب مکھرجی پہلے بھارتی صدر تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا۔2014 ہی میں پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیردفاع بھارت آئے۔اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے بعد تین بھارتی وزارائے خارجہ سمیت کئی حکومتی اور ملٹری عہدیدار اسرائیل کا دورہ کرچکے ہیں۔15نومبر 2016کو اسرائیل کے سابق صدر ریووین رویلن  چھ روزہ دورے پر بھارت پہنچے،جنہوں نے بھارت کے ساتھ دفاع،تجارت،زراعت،ٹیکنالوجی،سائبر کرام اور انٹیلی جنس  ایسے شعبوں میں باہمی تعاون کے معاہدے کیے۔

انڈین میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر کا یہ دورہ دراصل مودی کے آئندہ سال اسرائیل دورے کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہے۔بھارت اسرائیل دوستی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ اسرائیل  ہی سے خریدتاہے،2014ء میں مودی حکومت نے 525 ملین ڈالر کے صرف میزائل اسرائیل سے خریدے۔دونوں ملکوں کی دوطرفہ تجارت 1992 میں 200 ملین ڈالر سے شروع ہوئی تھی جو اس وقت 5 بلین ڈالر ز تک بڑھ گئی ہے۔اس کے علاوہ سیاحت اور تعلیم کے نام پربھی  دونوں ملکوں میں بہت زیادہ قرابت ہے۔حالیہ دورے میں اسرائیلی صدر ریووین ویلن نے  کہا کہ اسرائیل میں پڑھنے والے غیرملکی طلبہ میں سے 10 فیصد بھارتی طلباء ہیں اور بہت سے اسرائیلی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مطالعہ بھارت کوبطور مضمون پڑھایا جارہاہے۔ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق 40 ہزاراسرائیلی ریٹائرڈ فوجی سالانہ انڈیا کا وزٹ کرتے ہیں۔جب کہ 2015 میں انڈیا سے43439 لوگ سیاحت کے نام پر اسرائیل گئے۔

اسرائیل کے ساتھ  انڈیا کی قربتوں کی اس مختصر داستان کے بعد ایک نظر دونوں کے مشترکہ اہداف پر بھی ڈال لی جائے تو اس دوستی کی گہرائی مزید کھل کر سامنے آجائے گی۔برطانیہ نےاسرائیل  کومسلمانوں کی زمین فلسطین پر قبضہ کرواکے بنوایا،دوسری طرف ہندوستان  میں مسلمانوں کی ساڑھے آٹھ سوسالہ حکومت ختم کرکے برطانیہ ہی نے بھارت کو ایک الگ ملک بنوایا۔دونوں کے الگ الگ ملک بننے میں نوماہ کا وقفہ ہے۔اسرائیل کو امریکہ کا بچہ کہا جاتاہے،جو آج بھی اسرائیل کو یومیہ10.2ملین ڈالرفوجی امداددیتاہے،جب کہ آئندہ دس سالوں میں 38 بلین ڈالر کی امداد اس کے علاوہ دے گا۔دوسری طرف اسرائیل کی طرح بھارت کی طرف بھی امریکہ کا جھکاؤ بہت زیادہ ہے۔چنانچہ "جارج بش نے کہا تھا کہ انڈیا جمہوریت کی بہترین مثال ہے،یہ بہت پرہیز گار ہے"۔

جون2002میں بھارت اسرائیل  اور امریکی حکام نے 16خفیے اجلاس کیے۔جس میں پینٹا گون ،موساد  ایف بی آئی  ،سی آئی اے تک شامل تھے۔نیزپاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے وقت امریکہ ہی تھا جس نے بھارت کے کہنے پر پاکستان پر سخت ترین دباؤ ڈالا اور بدلے میں بہت کچھ دینے کا کہا۔چائنا اور پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ ہمیشہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف منصوبے بناتا رہاہے۔بنگلہ دیش کی علیحدگی میں بھی بھارت کے ساتھ مل کر امریکہ نے پاکستان کو کمزور کیا ۔اسی طرح اسرائیل فلسطینی مظلوم مسلمانوں پر پچھلے ستر سالوں سے ظلم کررہا ہے،دوسری طرف بھارت  بھی ستر سالوں سے کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہاہے۔دونوں میں ایک اور مشترکہ پہلو یہ ہے کہ یہ دونوں پاکستان کے مخالف ہیں۔اس کا اندازہ 1999ء میں کارگل جنگ میں اسرائیل کی انڈیا کی مدد   اورپوکھران میں انڈیا کے ایٹمی دھماکوں پرانڈیا کا ساتھ دینے اور را اور موسادکے تعلقات سے لگایا جاسکتاہے۔

پاکستان مخالف بھارت اسرائیل کا یہ گٹھ جوڑاور پھر مودی حکومت کے آنے کے بعد اس اتحاد میں پختگی اور اضافہ پاکستان کو بہت کچھ سوچنے  پر مجبور کررہاہے۔ایک طرف بھارت پاکستان  کے خلاف اسرائیل کے ساتھ قربتیں بڑھارہاہے،دوسری طرف سی پیک کے خلاف  بھارت امریکہ ،اسرائیل،افغانستان اورایران کے ساتھ مل کر لابنگ کررہاہے۔کشمیر میں چارماہ سے جاری بھارتی جارحیت،ایل او سی پر بھارتی بزدلانہ کاروائیاں،پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی،بلوچستان میں بدامنی   پھیلانے کے لیے  منصوبہ سازی   اور گواد کے مقابلے میں چاہ بہارپورٹ میں 500 ملین سے زائد کی سرمایہ کاری کا مقصد صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔اسرائیل کی طرح ایران کے ساتھ بھارتی قربت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2003ء میں ایران نے بھارت کے ساتھ یہ معاہد ہ کیا کہ اگر پاکستان یا کوئی دوسرا ملک  بھارت کے ساتھ جنگ کرے گا تو ایران اس کے ساتھ مل کرلڑے گا۔پاکستان مخالف بھارتی گٹھ جوڑسے نمٹنے اورسی پیک کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے تعلقات کوچائنا ،جاپان،روس اور اسلامی ملکوں  ترکی ،خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اوریورپی ممالک کے ساتھ مضبوط کرے اور تجارتی،اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے۔

gmadnig@gmail.com

مزید : بلاگ