آسٹریلوی حکومت کے تعاون سے بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت کا سروے، 4 ہزار خواتین کو غذا بڑھانے کی ہدایت

آسٹریلوی حکومت کے تعاون سے بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت کا سروے، 4 ہزار ...
آسٹریلوی حکومت کے تعاون سے بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت کا سروے، 4 ہزار خواتین کو غذا بڑھانے کی ہدایت

  

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آسٹریلوی حکومت اور ورلڈ بینک نے حکومت بلوچستان کی مدد سے بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے رواں ہفتے بلوچستان بھر میں 6 ہزار بچوں ،5 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین میں غذائیت کی کمی جانچنے کیلئے سروے کیا ہے ۔

سیکرٹری صحت بلوچستان نور الحق بلوچ کی سربراہی میں محکمہ صحت بلوچستان ، آسٹریلوی ہائی کمیشن اور ورلڈ بینک کے وفود نے 4 ہزار ماو¿ں کو اپنی اور بچوں کی غذا بڑھانے کے حوالے سے ہدایت کی۔ آسٹریلین حکومت ورلڈ بینک کے ذریعے بلوچستان حکومت کو ماں اور بچے کی غذا کے حوالے سے تعاون فراہم کر رہی ہے۔ اس پراجیکٹ کے تحت ماں اور بچے کو غذا کی فراہمی، بچوں کی صحت کی جانچ، زچہ بچہ کے بحالی مراکز کی تعمیراور ماو¿ں کو دودھ پلانے کے فوائد بتائے جارہے ہیں۔ آسٹریلین حکومت نے اس مقصد کیلئے 17 ملین آسٹریلوی ڈالرز کے فنڈز مخصوص کیے ہیں۔

آسٹریلوی ہائی کمشنر مار گریٹ ایڈمسن کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں غذائی قلت کا مقابلہ کرنے کیلئے 39 ملین ڈالر کے فنڈز سے کام کر رہی ہے۔ پاکستان کو ہر سال اپنے جی ڈی پی کا 4 فیصد غذائی قلت کی کمی دور کرنے کیلئے خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگر پاکستان کی اس حوالے سے مدد کی جائے تو آنے والی نسلوں کو فائدہ ہوگا اور پاکستانی معیشت بھی ترقی کرے گی۔اس موقع پر سیکرٹری صحت بلوچستان نور الحق بلوچ کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں تاہم بلوچستان میں صورتحال ابتر ہے جہاں 52 فیصد بچے غذائی قلت کے شکار ہیں۔

مزید : اسلام آباد