’بھارت سمجھتا ہے وہ کامیاب ہے لیکن دراصل وہ ISI کے اس جال میں پھنسا جا رہا ہے، بھارت سے ہی ISI کی تعریف میں ایسی آواز بلند ہو گئی کہ بھارتی بوکھلا کر رہ گئے

’بھارت سمجھتا ہے وہ کامیاب ہے لیکن دراصل وہ ISI کے اس جال میں پھنسا جا رہا ہے، ...
’بھارت سمجھتا ہے وہ کامیاب ہے لیکن دراصل وہ ISI کے اس جال میں پھنسا جا رہا ہے، بھارت سے ہی ISI کی تعریف میں ایسی آواز بلند ہو گئی کہ بھارتی بوکھلا کر رہ گئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) یوں تو ہر ملک خفیہ ایجنسیاں رکھتا ہے لیکن دنیا کی تاریخ میں شائد ہی کسی خفیہ ایجنسی کو پاکستان کی ISIجیسا مقام حاصل ہوا ہو۔ پاکستانی عوام تو بجا طورپر اس ادارے پر فخر اور ناز کرتے ہیں لیکن اس کی منفرد ترین خوبی یہ ہے کہ دشمن بھی اس کی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ ماضی میں بھی اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں اور ویب سائٹ Defence.tk پر شائع ہونے والا بھارتی مصنف ونود شرما کا مضمون اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ ونود شرما ISI کے سامنے بھارت کی شرمناک پسپائی کے بارے میں کیا لکھتے ہیں ، آپ بھی پڑھیے:

پاکستان کی تعریف کرنا پڑے گی۔ کیا دنیا میں اس کی کوئی اور مثال ملتی ہے کہ ایک چھوٹے سے ملک نے خود سے کئی گنا بڑے ملکوں کا بیک وقت مقابلہ کیا ہو ، جن میں سے ایک سپر پاور اور دوسرا اس فریب میںمبتلا کہ وہ سپر پاور بننے والا ہے۔ پاکستان کی دلیری، جس کا انحصار صرف قابلیت پر ہے، تاریخ ساز ہے۔ اس کے سول اور عسکری رہنماﺅں کیلئے یہ بات باعثِ فخر ہے کہ انہوں نے انٹرسروسز انٹیلی جنس( ISI )کی تخلیق کی ہے۔ فوج کے اس خفیہ بازو کی بنیاد 1980 کی دہائی میں رکھی گئی اور اس نے جنگ کے اصول ہی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ صرف اس ایک ادارے نے پاکستان کو یہ آسائش فراہم کر رکھی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے میدانوں میں اپنی مرضی سے جنگ لڑتا ہے ، اپنی افواج کو دشمن کے سامنے لائے بغیر۔

پاکستان ISI کو اپنے دفاع کی پہلی لکیر تصور کرتا ہے۔ امریکا اور بھارت جہاں پاکستان کو حدود سے تجاوز کرتا محسوس کرتے ہیں وہیں پاکستان کے سول و عسکری رہنما سمجھتے ہیں کہ ISI ان محاذوں پر اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے حب الوطنی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ اس کی طاقت میں جہاد کا بھی اضافہ کریں تو ایسے قابل اور جذبے سے بھرپور ذہن ملتے ہیں کہ جو صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی جذبے کے ساتھ اپنی جانیں قربا ن کرنے کیلئے ہمہ قت تیار ہیں۔

نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کی تو وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ جنگ اس کیلئے چہل قدمی جیسی ہو گی۔ شائد ایسا ہی ہوتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے صورتحال کا امریکیوں کی نسبت کہیں زیادہ درست تجزیہ کیا اور آج امریکی اس میدان میں شکست کھا چکے ہیں۔ اب وہ اس دلدل سے کم از کم نقصان کے ساتھ نکلنے کیلئے بے چین ہیں۔ اسی ISI نے سویت یونین کو عبرت ناک شکست دی اور افغانستان میں وہ تذویراتی گہرائی حاصل کی جس کی اسے تلاش تھی، اوریہ آج بھی اس کوشش میں کامیاب نظر آتی ہے۔ افغانستان کی مشکلات کے باوجود کشمیر کو فراموش نہیں کیا گیا۔ بد قسمتی سے ہمارے امن پسند دانشور بی جے پی کے خلاف سیاسی جنگ لڑ رہے ہیں ، جو خود کو یہ فریب دے چکے ہیں کہ ISI اتنی خطرناک نہیں اور پاکستان کو رعائتیں دے کر اس پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ بھارت کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے ، اسے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ اس کا سامنا ایک انتہائی ذہین ، بے رحم اور کبھی ہار نہ ماننے والی طاقت سے ہے، جو کشمیر کے معاملے میں بھارت کو جھکانے کیلئے ہر ممکن حربہ آزمائے گی۔ اگر افغانستان میں انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے تو ان کی پوری توجہ بھارت کی طرف ہو گی۔ جو سوویت یونین اور امریکا کے ساتھ ہو چکا، وہی خود کو کامیاب سمجھنے والے بھارت کے ساتھ ہو گا، لیکن ہم اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔

بھارت کی اپنی خفیہ تنظیم را بہت بڑے بجٹ کے ساتھ کئی دہائیوں سے ISI کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن اس میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ را کو پولیس افسران کی کمزور قیادت حاصل ہے اور اسے چلانے والے بابو کلچر سیٹ اپ میں سیاسی سمت ، پیشہ وارانہ مہارت اور اس جوش و جذبے کی کمی ہے جو ISI جیسی تنظیم کو شکست دے سکے۔

کیا بھارت کے پاس ان چیلنچوں کا سامنا کرنے کیلئے کوئی منصوبہ ہے جو یقینی طور پر اس کے سامنے آنیوالے ہیں ۔ پاکستانیوں نے بھارتیوں کے دماغ بہت اچھی طرح پڑھ لیے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن جواب میں بھارت اپنے عوام کے جذبات کی تسکین کیلئے شور مچانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ گزشتہ 3دہائیوں کے دوران جو سلوک کیا ہے اس کا زیادہ تر کریڈٹ اس کی فوج کی شاندار تخلیق ISI کو دینا پڑے گا۔

یہ خفیہ فوجی دستہ جنگ کا ایک اچھوتا اور طاقتور ہتھیار ہے ، نظر نہ آنیوالی لیکن خوفناک طاقت۔ بھارت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی امید ہے۔ مجھے اس کی تعریف کرنی پڑے گی جو پاکستان نے ، جو کہ حجم میں بھارت کا چھٹا حصہ ہے اور جس کا جی ڈی پی بھارت کا دسواں حصہ ہے ، ISI کے ذریعے سے حاصل کیا ہے ، جس کی کامیابیاں حیران کن رہی ہیں۔ کاش ہم وہ سبق سیکھ پاتے جو ISI ہمیں سکھانے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔

مزید : اسلام آباد