یہ دونوں مسلمان بچے کون ہیں اور ان کی یہ حالت کس نے کی؟ اس تصویر کی حقیقت جان کر ہر مسلمان اپنی خاموشی پر شرمندہ ہوکر ڈوب مرے

یہ دونوں مسلمان بچے کون ہیں اور ان کی یہ حالت کس نے کی؟ اس تصویر کی حقیقت جان ...
یہ دونوں مسلمان بچے کون ہیں اور ان کی یہ حالت کس نے کی؟ اس تصویر کی حقیقت جان کر ہر مسلمان اپنی خاموشی پر شرمندہ ہوکر ڈوب مرے

  



ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک)روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی خبریں ہم روز سنتے ہیں لیکن افسوس کہ باقی دنیا کا کیا ذکر، مسلمان ممالک کے حکمران نے بھی ان مظلوموں کے لئے آواز اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ عالمی برادری کی ایسی بے حسی کا نتیجہ کیا ہے، یہ آپ ان مظلوموں کے جلے ہوئے جسموں اور کٹے ہوئے اعضاءکی بھیانک تصاویر کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران لاکھوں بدنصیب روہنگیا خاندان اپنی عزت اور جان بچانے کے لئے میانمر سے بنگلہ دیش کا رُخ کر چکے ہیں۔ ان میں سے ہر شخص اپنے ساتھ اس ظلم و بربریت کی رونگٹے کھڑے کردینے والی کہانیاں لارہا ہے جس کا انہیں میانمر میں سامنا کرنا پڑا۔

چٹاگانگ میڈیکل کالج ہسپتال میں 261 ایسے افراد کو لایا گیا جن کے جسموں پر گولیاں برسائی گئی تھیں، ان کے جسم جلائے گئے تھے یا اعضاءکاٹ دئیے گئے تھے۔ کاکسز بازار کے صدر ہسپتال میں ایسے 1667 افراد کو لایا گیا۔ ان میں سے اکثر کو چھروں سے زخمی کی گیا تھا، ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ان کے جسم کے مختلف حصوں کو خنجروں کے ساتھ چھیدا گیا تھا۔

عجمان کے حکمران نے 2 بچوں کو گود لے لیا، یہ کون ہیں؟ جان کر آپ بھی اس اقدام کی تعریف کئے بغیر نہ رہ پائیں گے

انہی مظلوموں میں دو کمسن بھائی ہارون اور اختر بھی شامل ہیں۔ چھ سالہ ہارون اور چار سالہ اختر کے گھر پر میانمر کی فوج نے راکٹ داغا جس کے نتیجے میں پورا گھر جل کر خاکستر ہوگیا اور یہ بچے بری طرح جھلس گئے۔ اس واقعے میں ان کے دو بھائی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے زخمی باپ کو فوجی پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے، اور پھر اس کا کچھ اتا پتا نہیں مل سکا۔

ایسی بے شمار اور داستانیں بنگلا دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں بکھری پڑی ہیں۔ ان میں سے ایک 36 سالہ خاتون انورہ بیگم نے بتایا کہ ان کی آنکھ کھلی تو اپنے گھر کو آگ کے شعلوں میں لپٹے ہوئے دیکھا۔ وہ باہر نکلنے کی کوشش کررہی تھیں کہ گھر کی چھت گرگئی اور اسی دوران ان کے کپڑوں میں بھی آگ بھڑک اُٹھی۔ ان کا خاوند آٹھ دن تک انہیں زخمی حالت میں اپنے بازوﺅں میں اٹھائے ہوئے جنگلوں اور ندی نالوں میں بھٹکتا ہوا بنگلہ دیش کی سرحد تک پہنچا۔

حسین نامی روہنگیا مسلمان کی عمر 42 سال ہے اور اس کا جسم بھی بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔ سفاک حملہ آوروں نے اس کے دائیں بازو سے گوشت ادھیڑ دیا۔ وہ ایک مدرسے میں پڑھانے کے بعد گھر واپس جارہا تھا کہ جب بدھ بلوائیوںنے اس پر وحشیانہ حملہ کیا۔

اکیس سالہ محمد زبیر کے گھر کو بھی میانمر کے فوجیوں نے بم سے اُڑادیا۔ وہ اس حملے میں اپنے ہوش و حواس کھوبیٹھا اور اس کا جسم بھی بری طرح جھلس گیا۔ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ کئی دن تک اس کی بصارت بحال نہ ہوئی اور وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ تھا۔

نوعمر لڑکے نور کمال کو فوجیوں نے اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہ جان بچانے کے لئے اپنے گھر کے ایک کمرے میں چھپا ہوا تھا۔ نور کمال نے بتایا کہ فوجیوں نے اس پر بدترین تشدد کیا اور خنجر سے اس کے سر پر زخم لگائے۔ وہ اپنے چچا کو خون میں لت پت اور بے ہوش حالت میں ملا، جس نے فوری طور پر اسے اٹھایا اور اس کی جان بچانے کی کوشش کی۔

مختصر یہ کہ بنگلہ دیش پہنچنے والے یہ پناہ گزین کسی طرح اپنی جان بچانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن ان پر ہونے والے ظلم کے گہرے نشان ان کے جسموں اور روحوں پر ہمیشہ کے لئے ثبت ہوگئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس