مایوس میڈیا، سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ

مایوس میڈیا، سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ
مایوس میڈیا، سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ

  

بلاشبہ الیکٹرانک میڈیا نے سماجی شعور کی آگاہی میں اپنا کردار ادا کیا، لیکن دوسری طرف سیاست دانوں کو مرضی کے مطابق نچوایا اور جی بھر کر بدنام بھی کیا ۔پرویز مشرف دور میں میڈیا نے عوام کو باور کروایا اگر ڈکٹیٹر کو رخصت کر دیا جائے تو پاکستان راکٹ کی سی رفتار سے ترقی کے سفر پر گامزن ہو جائے گا۔

لوگ لٹھ لے کر مشرف کے پیچھے پڑ گئے۔مشرف دور اختتام پذیر ہوا۔ نئے الیکشن کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ کچھ عرصہ سکون رہا۔ میڈیا کے بڑوں نے اپوزیش جماعتوں سے ساز باز کی۔ اب عوام کو باور کروایا جانے لگا زرداری حکومت پاکستان کی بدترین دشمن ہے۔

یہ حکومت ایسے افراد پر مشتمل ہے جو آج سے بیشتر برف میں جمے سیاستدانوں کی مانند تھے۔ اب ان کی بری خصلتیں، اقتدار کے سورج تلے آتے ہی انگڑائیاں لینا شروع ہو گئی ہیں۔ اگر انہیں گھر نہ بھیجا گیا تو جوں جوں اقتدار کا نشہ بڑھے گا توں توں پاکستان تباہ ہوتا چلا جائے گا۔

لوگوں نے میڈیا کا تراشیدہ لٹھ دوبارہ ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ سیاستدانوں کو کوسنے کا عمل نئے سرے سے شروع ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کے قائدین اقتدار کو وراثتی حق سمجھنے والے مطعون حکمران قرار پائے۔ ٹاپ پارٹی لیڈر شپ کی ٹی وی پروگراموں میں توہین کی گئی۔

انہیں طعنے مارتے ہوئے باور کروایا گیا ان کی بکھرتی سلطنتیں گمنامی کی نذر ہونے کو تھیں۔ میڈیا نے انہیں نئی شناخت بخشی۔ ان کے بوسیدہ اجسام اپنے قصبوں، دیہات اور گوٹھوں تک محدود ہو چکے تھے، میڈیا نے انہیں لمبی حیات کے مشروبات پیالوں میں بھر بھر کر پیش کیے۔

ان کی متروک، پسماندہ اور نسلوں کی تباہیوں پر مشتمل سوچیں اپنی فیکٹریوں، ملوں، مربعوں ، مزارعوں اور گھریلو ملازمین تک محدود ہوچکی تھیں، میڈیا نے انہیں تاریکیوں سے نکال کر ہیرو بنایا۔ ۔۔پیپلز پارٹی کے پاس ان حملوں کو کاؤنٹر کرنے کا کوئی پلان نہیں تھا۔

پورے پانچ سال پیپلز پارٹی نے میڈیا کے ہاتھوں اپنی تذلیل برداشت کی، لیکن ایک مرتبہ بھی اس عالمگیر ضابطہ اخلاق کو متعارف کروانے کی ہمت نہیں کی، جو ترقی یافتہ ممالک نے اپنے میڈیا پر نافذ کر رکھا ہے۔

آج کا الیکٹرانک میڈیا پاکستانی سماج کو یرغمال بنا چکا ہے۔پسند، ناپسند، گروپنگ اور مفادات کی جنگ نے پاکستانی معاشرے کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ چینلز مالکان، کم و بیش ہر جگہ فوائد کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔ بہت سارے ایسے اینکرز ہیں جو ’’سچ‘‘ کے نام پر براہ راست ریاستی مفادات پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

اینکر پرسن کا کیا کام کہ سیاسی اور جنگی شطرنج کی چالوں میں پیادوں کی پوزیشنز کو تبدیل کرتا پھرے اور پھر اینکر بھی ایسے جو افلاطون کی مانند خود کو ہر سبجیکٹ پراتھارٹی سمجھتے ہوں۔ دنیا کا کوئی سماج ایسا نہیں جو مکمل طور پر خوبصورت یا بدصورت ہو۔ لیکن پاکستانی میڈیا چن چن کر ایسی بدصورتیاں پیش کر رہا ہے جسے دیکھ کر پاکستان بھر کے گھرانوں کا سکون غارت ہو چکا ہے۔

کیا امریکہ میں قتل نہیں ہوتے، کیا برطانیہ میں عزتیں تار تار اور تیزاب گردی نہیں ہوتی، کیا جرمنی ، سپین، اٹلی، یونان میں بے روزگار خودکشیاں نہیں کرتے۔ دنیا بھر میں سبھی کچھ ہو رہا ہے۔

لیکن وہاں کا میڈیا ایک خاص حد سے زیادہ انسانی جبلتوں میں چھپے جرم کو کوریج نہیں دیتا ۔ پاکستانی میڈیا جس بے دردی سے سیاستدانوں، اداروں، تجارتی گروپوں کو چور ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، اسے دیکھ کر یقین رکھنا چاہئے ایک وقت آئے گا جب سماج کو آگے بڑھانے والے یہ ستون مکمل طور پر اپنی وقعت کھو بیٹھیں گے۔ آج چینلز فخریہ کہتے ہیں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہے۔

کئی اینکرز ببانگ دہل اقرار کرتے ہیں انہیں پروگرام کے موضوع ’’بڑے گھر‘‘ سے فراہم کئے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب عوام سیاستدانوں اور اداروں سے متنفر ہو جائیں گے تو ملک سے محبت کون کرے گا؟۔ انویسٹر جب پے در پے دلخراش واقعات پر مبنی رپورٹنگ دیکھیں گے تو انہیں بیرون ملک بزنس امیگریشن حاصل کرنے سے کون روک پائے گا؟۔

ذرا اعداوشمار اٹھا کر دیکھ لیجئے۔

گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی، کراچی سمیت کئی شہروں کے ہزاروں بڑے انویسٹر اپنا کاروبار لپیٹ کر بیوی ، بچوں سمیت کینیڈا، امریکہ، برطانیہ، جا بسے ہیں۔ دو سے پانچ کروڑ روپے میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک چند مہینوں میں پوری فیملی کو بزنس امیگریشن کی سہولت فراہم کر دیتے ہیں۔

یہ ایسے خوفناک حالات ہیں جن کی پاکستانی میڈیا کو رتی بھر بھی پرواہ نہیں۔ انویسٹر خالی سرمایہ دار ہی نہیں ہوتا، بلکہ اسے اللہ تعالی نے ایسی خوبیوں سے بھی نوازا ہوتا ہے جو معاشرتی حسن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر سرمایہ بھی پاکستان سے باہر چلا گیا ، خوبصورت ذہن بھی ٹھنڈے دیسوں میں جا بسے تو باقی کیا بچے گا؟۔

غریب اور اوسط درجے کی ذہانت کے حامل افراد۔ ایسے افراد کیا کریں گے؟۔ بچی کھچی امیر آبادیوں پر حملے اور اکا دکا سرمایہ داروں کے بچے اغواء کرنے کے منصوبے۔ میڈیا نے مشرف کے خلاف محاذ بنایا۔ آمریت کو ذلیل و رسوا کرکے ہی دم لیا۔

زرداری صاحب کی حکومت آئی تو خوفناک قصے گھڑ کر ان سے نجات کو پاکستان کی بقاء سے نتھی کیا گیا۔ میاں محمد نواز شریف آئے تو فلگ شگاف چیخیں مارتے ہوئے انہیں بھی رخصت کروادیا گیا۔ آمریت بھی فیل ، جمہوریت بھی ناقابل قبول، اب کوئی میڈیا سے پوچھے انہیں طرز حکمرانی کے لئے کون سا ماڈل چاہئے۔

میڈیا کو جرم کی بھرپور کوریج سے ٹین ایجرز کے ذہنوں پر پڑنے والے منفی اثرات سے کوئی غرض نہیں، میڈیا کو سیاسی جماعتوں کو آپس میں لڑواتے ہوئے معاشرے میں ابھرتی سختی کی کوئی پرواہ نہیں۔ میڈیا کو نہایت ہی اہم ریاستی ستون بیوروکریسی پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے اس کی بوسیدگی کی کوئی فکر نہیں۔

میڈیا کو سنسنی خیزی دکھانے کے نتیجے میں بلڈ پریشر، قلب اور شوگر کے مرض میں مبتلا ہوتے شہریوں کی کوئی خبر نہیں۔

جب سیاستدان اور ادارے مسترد ہو جائیں گے تو نظام مملکت کون چلائے گا؟۔ آج ہر پاکستانی سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ سوال کرنے سے پہلے ہی جواب آ جاتا ہے کہ جی یہ تو چوروں کے ٹولے ہیں۔

سیاستدان برے، بیوروکریسی ڈاکو، پولیس عوام دشمن، کنٹریکٹر چور، اور پٹواری دیہاڑی باز۔۔۔ میڈیا ہر قابل ذکر ریاستی ستون اور معاون کو دو نمبر ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ خدشہ ہے اگر پاکستانی میڈیا کی یہی روش رہی تو ایک وقت آئے گا جب عام گھروں میں پاکستانی ریاست کے ڈوبتے مستقبل بارے صلاح و مشورے شروع ہو جائیں گے۔

یہی وہ وقت ہوگا جب ہر شہر سے مالدار افراد کی اکثریت سرمائے سمیت ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گی۔یاد رہے میڈیا پر پیش کی جانے والی اتنی مایوس کن اور حوصلوں کو توڑتی ریاستی منظر کشی کے بعد شائد ہی کوئی دل جگرے والا ہوگا جو پاکستان میں رہنا پسند کرے گا۔

پھر ایک وقت ایسا آئے گا جہاں گلیوں میں غربت اور سڑکوں پر ڈاکوؤں کا راج ہوگا۔ کیا سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ بھی ایسا ہی چاہتے ہیں؟۔ اگر نہیں تو وقت آچکا ہے جب تمام ریاستی ادارے سر جوڑ کر بیٹھیں اور میڈیا پر ضابطہ اخلاق لاگو کرنے کی سبیل نکالیں۔ ریاستیں مثبت جھوٹ پر چلتی ہیں۔ میڈیا پلانٹڈ سٹوریز کے ذریعے عوام کو ریاست پر اعتماد کی ترغیب دیتا ہے۔

اگر آج مغربی میڈیا اپنے سماج بارے پورا سچ دکھلانا شروع کر دے تو کہرام بپا ہو جائے۔ وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ انہیں معلوم ہے پورے سچ کا نتیجہ ملک سے سرمائے کا فرار اور سماجی اکائیوں میں دشمنی کی بنیاد ہوگا۔ اب بھی وقت ہے پاکستانی سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو بگڑنے سے پہلے روک لیں۔ پاکستانی سماج کیا تھا اور کیا ہوچکا ہے؟۔ ذرا پندرہ سال پیچھے چلے جائیں۔ کیا گھر گھر میں ایسی بے چینی تھی؟۔

کیا گھروں میں سات بجے شام سے لے کر نو بجے تک ایک اچھی بھلی ریاست کو ناکام ثابت کرنے کی کوششیں ہوتی تھیں؟۔کیا عزیز و اقارب ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے سے اجتناب برتتے تھے؟۔ یہ کیسی سچائی پیش کی جا رہی ہے جس نے عام شہری کو ریاست سے مایوس ، اداروں سے متنفر اور باہمی رابطوں کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

سچائی کے نام پر دکھائی جانے والی پاکستانی سماج کی تصویر کا حقیقت سے تعلق نہیں، یہ ساری منافع کی دوڑ ہے۔ ایسی دوڑ جس میں پاکستانی ریاست اور اداروں کو جی بھر کر روندا جا رہا ہے۔ اگر سبھی خاموش رہے تو وہ وقت دور نہیں جب عام فرد سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو اول دشمن قرار دیتے ہوئے برملا نفرت کا اظہار کرے گا۔

مزید : کالم