دھرنے کے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم

دھرنے کے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم

سینیٹ نے انتخابات(ترمیمی) بل2017ء کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے، قومی اسمبلی پہلے ہی بل منظور کر چکی ہے، اب صدرِ مملکت کے دستخطوں کے بعد بل باقاعدہ قانون کے طور پر لاگو ہو جائے گا، ترمیمی بل کے تحت ختم نبوتؐ کی قانونی شقوں کو بحال کر دیا گیا ہے، قادیانی اور لاہوری گروپوں کی غیر مسلم حیثیت جس طرح آئین کے اندر موجود ہے وہ برقرار رہے گی۔پارلیمینٹ کی جانب سے بل کی منظوری کے بعد اب اِس سلسلے میں ہر قسم کا ابہام اور احتجاج ختم ہو جانا چاہئے، اسلام آباد میں جو دھرنا گزشتہ ایک عشرے سے دیا گیا ہے اس کا بھی خاتمہ ہو جانا چاہئے۔اِس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ فیض آباد دھرنے والوں سے خالی کرائیں اور عوام الناس کے لئے راستے کھول دیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو ایف سی اور رینجرز کی مدد لینے کا اختیار حاصل ہے، انتظامیہ آئین کے تحت عوام کو حاصل بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، اظہارِ رائے یا نقل و حرکت کی آزادی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ دیگر شہریوں کو مظاہرین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔مظاہرین گیارہ روز سے فیض آباد انٹر چینج پر موجود ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ڈیمو کریسی پارک اینڈ سپیچ کارنر میں جانے کی گارنٹی کے بغیر مظاہرین اسلام آباد میں کیسے داخل ہوئے؟ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مظاہرین کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے عدالتی احکامات تسلیم نہ کرنے اور گھٹیا زبان کے استعمال پر سخت برہمی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ مظاہرین کو پارلیمینٹ کی جانب سے متعدد مطالبات کی منظوری کے بعد اِس توقع کے ساتھ حکم دیا کہ وہ دھرنا ختم کر دیں گے،مگر انہوں نے عدالتی احکامات کو نہ صرف ماننے سے انکار کیا،بلکہ گھٹیا زبان بھی استعمال کی،عدالت نے آبزرویشن دی کہ ضلعی انتظامیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہو چکی ہے، قرائن سے لگتا ہے کہ یہ دھرنا ملکی صورتِ حال کو خراب کرنے کے لئے دلوایا گیا ہے۔

چند برس سے ہمارے ہاں احتجاج کا جو چلن رواج پا چکا ہے، فیض آباد کا یہ دھرنا اس کی ایک بُری مثال ہے اِس سے پہلے تحریک انصاف نے اسلام آباد میں 126 دن تک جو دھرنا دیا تھا اس کے اثرات نہ صرف دھرنے کے دِنوں میں،بلکہ اس کے کئی ماہ بعد تک سی ڈی اے انتظامیہ کو بھگتنے پڑے،پاکستان عوامی تحریک بھی2012ء اور پھر 2014ء میں دو دھرنے دے چکی ہے، پہلا دھرنا تو چار دن بعد ہی اُٹھا لیا گیا تھا،لیکن دوسرا دھرنا76دن تک چلا، اپنی رائے کے اظہار کے لئے احتجاج کے جو طریقے بھی اختیار کئے جائیں وہ مادر پدر آزاد نہیں ہوتے کہ جس کا جو جی چاہے کرتا پھرے اور سڑکوں کو غلاظت سے بھر دے،ہر قسم کا احتجاج چند شرائط سے مشروط ہوتا ہے،لیکن گزشتہ چند برس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ احتجاج کرنے والے ہر حدود و قیود کو عبور کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور انتظامیہ بھی اُن کو اِس حد تک کھلی چھٹی دے دیتی ہے کہ اس سے لاکھوں دوسرے شہریوں کے حقوق بُری طرح مجروح اور متاثر ہوتے ہیں،جن کی حفاظت انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔موجودہ دھرنے کے سلسلے میں تو خاص طور پر نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ شرکاء کی تعداد بھی زیادہ نہیں تھی اور پولیس کی تھوڑی سی نفری ان سے بخیرو بخوبی نپٹ سکتی تھی،لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ چند سو لوگوں کے ہجوم کو دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کے لاکھوں لوگوں کو یرغمال بنانے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے یہاں تک کہ ہائی کورٹ کے فاضل جج کو اسلام آباد کی انتظامیہ کے بارے میں بھی سخت ریمارکس دینے پڑے، اِس وقت بھی جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کئے جا رہے ہیں اور معلوم نہیں اس میں کتنا وقت لگے۔فاضل جج نے تو انتظامیہ کو ایف سی اور رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کابھی حکم دے دیا ہے، اِس لئے اب اس ضمن میں کسی قسم کی تاخیر کا کوئی جواز نہیں، پھر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دھرنے کے لئے جس قانون میں ترمیم کا سہارا لیا گیا تھا،وہ اپنی جگہ بحال ہو چکی ہے۔حلف اور اقرار نامے کے الفاظ سے جس تنازعے نے جنم لیا تھا وہ بھی خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا ہے اب مظاہرین کی منشا کیا ہے اور وہ کیا چاہتے ہیں،اب تو فاضل جج کے ان الفاظ کی معنویت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے کہ لگتا ہے کہ یہ دھرنا ملکی صورتِ حال کو خراب کرنے کے لئے دلوایا گیا ہے۔

دھرنوں کا جو کلچر بعض سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں نے متعارف کرا دیا ہے وہ مُلک اور عوام کے لئے ایک مستقل عذاب کی شکل اختیار کر گیا ہے،حکومت اِن سے تنگ ہے،لیکن اس کے ادارے اس کا مستقل حل تلاش کرنے میں ناکام ہیں جونہی کوئی ایسی صورت پیدا ہوتی ہے وہ عضوِ معطل ہو کر ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں،وہ کوئی اقدام نہیں کر سکتے اور ’’کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے‘‘ کی تصویرِ مجسم بن کر رہ جاتے ہیں،اِن دھرنوں نے ہمارے سیاسی اور مذہبی کلچر کو بھی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے،دھرنے دینے والوں کے سامنے جو خطابات ہوتے ہیں اُن کی زبان نہ صرف قابلِ اعتراض ہوتی ہے، بلکہ ہر لحاظ سے قابلِ گرفت بھی ہوتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج نے تو کھل کر کہہ دیا ہے کہ فیض آباد کے دھرنے میں گالیوں تک کا استعمال کیا گیا،اب کیا انتظار کِیا جا رہا ہے، کیا انتظامیہ مزید گالیوں کی منتظر ہے یا اس کے اعصاب جواب دے گئے ہیں کہ وہ کوئی اقدام کرنے سے اجتناب کر رہی اور اب بھی مذاکرات کا کمزور سہارا لے رہی ہے،دھرنے کے دوران کتنے ہی ایسے مقام آ گئے تھے جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ یہ معاملہ مذاکرات سے حل ہونے والا نہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کھل کر کہہ دیا تھا کہ اچھے مقصد کے لئے بھی غلط راستے کے انتخاب کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے جو لاکھوں شہری اس عرصے میں عذاب کی سی صورتِ حال سے دوچار رہے ہیں، وہ سوال کرتے ہیں کہ انتظامیہ اپنے فرائض سے غافل کیوں ہے اور اس نے اتنی سنگین صورتِ حال کو کیوں اتنی خاموشی سے برداشت کر لیا؟اب بھی اگر اس معاملے کا کوئی مستقل حل تلاش نہ کیا گیا تو کل کو چند سو لوگوں کا کوئی دوسرا گروہ دھرنے کی داستاں دہرانے کا اعلان کر دے گا،اِس لئے حکومت اِس معاملے کو مستقل بنیادوں پر حل کرے،بے عملی سے کچھ حاصل نہیں ہوا،اب عمل کر کے ہی مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔

مزید : اداریہ