مذکرات میں مثبت پیشرفت دھرنا جلد ختم ہوجائیگا ، وزیر داخلہ

مذکرات میں مثبت پیشرفت دھرنا جلد ختم ہوجائیگا ، وزیر داخلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں سے مذاکرات جاری ہیں اور ہم بہت پرامید ہیں ایک دو روز میں خوشخبری مل جائے گی۔گزشتہ رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں علماء و مشائخ سے ملاقات کے بعد صحا فیو ں سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا دھرنا ختم کریں اور انتظامیہ کو بھی کہا تھا جگہ کو فوری طور پر خالی کروایا جائے، دھرنے کو ختم کرنے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لائے اور جید علماء کرام کیساتھ دن بھر مذاکرات کے دور چلتے رہے۔ امید ہے ایک دو روز میں دھرنے کو پرامن طریقے سے ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دھرنے سے لاکھوں شہریوں کو روزانہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہفتہ کے روزبھی دھرنے کے باعث ایک مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ حکومت کوئی کارروائی کرے لیکن ہم کشیدگی کی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں معاملہ بات چیت کے ذریعے ختم کر دیا جائے۔وفاقی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا ہمیں بیرونی خطرات کا بھی سامنا ہے اور ایسی صورتحال میں اندرونی خطرات کے کسی بھی طور پر متحمل نہیں ہو سکتے، خوشی ہے جید علماء کرام بھی ملک میں امن و امان کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، جو قانون ختم نبوت ؐکے حوالے سے پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے اس پر تو ہمیں مبارکباد دینی چاہیے، پارلیمنٹ نے ختم بنوتؐ کا قانون پاس کر کے نئی تاریخ رقم کی، ہم نے سنجیدگی اور جذبے کیساتھ پرخلوص کوشش کی ہے، 2002سے فوت ہوئے قانون کو پاکستان کے آئین میں پکی جگہ دیدی ہے اور اب پاکستان میں ہمیشہ کیلئے ختم نبوتؐ کا مسئلہ حل کردیا گیا ہے، دھرنے کے شرکاء وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ٹھوس شواہد کے بغیر کسی سے بھی استعفیٰ نہیں لیا جا سکتا ۔عدالت سے بھی درخواست کروں گا ہمیں مزید ایک دو روز کی مزید مہلت دی جائے تاکہ ہم سب اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔قبل ازیں اسلام آباد میں راجہ ظفر الحق کی رہائش گاہ پر حکومتی نمائندوں اور علماء و مشائخ کا اجلاس ہوا جس میں فیض ااباد انٹرچینج پر جاری دھرنے سے متعلق امور زیر غور آئے۔اجلاس میں وزیرداخلہ احسن اقبال،وزیرمملکت مذہبی امورپیرامین الحسنات، حا جی حنیف طیب،پیرحبیب الحق،پیرحسان حسیب الرحمان، پیرنقیب الرحمان،پیرساجد الرحمان،علامہ اشفاق سعیدی، سیدغلام نظام الدین جامی، سیدحمادالدین سعدی جیلانی، پیر سید حسین الدین شاہ، پیرعطاء الرحمان اورپیرسعادت علی شاہ موجود تھے۔ملاقات کے دوران علماء و مشائخ نے حکومت کو مشورہ دیا وہ معاملات خراب کرنے سے گریز کرے اور کہا حکومت ہمیں دھرنا شرکاء کی طرف سے جرگہ تصورکرے۔ ا نہو ں نے دھرنا شرکاء کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کی اپیل کی اور کہا حکومت زاہد حامد سے متعلق شکوک وشبہات دورکرے۔علما ومشائخ نے حکومت سے معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کی درخواست کی اور مشورہ دیا کہ وہ طاقت کا استعمال نہ کرے کیونکہ اس کا فائدہ شرپسند عناصر اٹھاسکتے ہیں۔

وزیر داخلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد میں گزشتہ 14 روز سے جاری دھرنا پر امن طور پر ختم کرانے کیلئے حکومت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک کے درمیان ہونیوالے مذا کر ات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور دھرنے کی انتظامیہ وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے مطالبے سمیت اپنے مطالبات کو حتمی شکل دینا شروع کردی ہے جو کسی بھی وقت حکومت کو پیش کر دی جائیگی ، ذرائع کے مطابق دھرنا کمیٹی جو ڈرافٹ تیار کررہی ہے اس میں ایک کمیٹی کے ذریعے زاہد حامد کے کردار سے متعلق تحقیقات کرنے، گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی،قائدین اور کارکنان کیخلاف قائم مقدمات ختم،ترمیم کے ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی ضمانت اور راجہ ظفر الحق کمیٹی کو منظر عام پر لانے کے مطالبات شامل ہیں۔ترجمان دھرنا کمیٹی کا موقف ہے وزیر قانون زاہد حامد اگر بیگناہ ہیں تو دوبارہ وزیر بن سکتے ہیں، زاہد حامد کے استعفے کے بعد دیگر مطالبات حکومت کیسامنے رکھیں گے، حکو مت اورہمارے درمیان معاملات تحریری طور پر ہوں گے، ہم وزیر قانون کے استعفے کا متن تیار کر رہے ہیں،قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ حکومت اور مظاہرین کے نمائندوں کے درمیان راجہ ظفرالحق کے گھر میں ہونیوالے مذاکرات میں حکو مت نے دھرنے کے رہنماؤں کیخلاف مقدمات واپس لینے جبکہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے معاملے پر کمیٹی بنانے کی پیشکش کردی ہے۔دھرنا ختم کرانے کیلئے پیر آف گولڑہ شریف غلام نظام الدین نظامی کی ثالثی میں حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں۔بات چیت کے پہلے دور میں حکومتی ٹیم اور دھرنا مذاکراتی کمیٹی نے تحریری معاہدے کیلئے نکات کا اتفا ق کیا،راجا ظفر الحق کے گھر پر پیر آف گولڑہ شریف کی ثالثی میں ہونیوالے مذاکرات میں دھرنا مذاکراتی کمیٹی نے لچک دکھائی اور تحریری معاہدہ کرنے پر اتفاق ہو گیا ، فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے نکات دے دیے ۔ذرائع کے مطابق دھرنا مذاکراتی کمیٹی اب اپنی مجلس شوریٰ کی رضا مندی لے گی ۔ پیر آف گولڑہ شریف کی ثالثی میں ہونیوالے مذا کر ا ت میں حکومتی ٹیم میں راجہ ظفر الحق، وزیر داخلہ احسن اقبال اور پیر امیر الحسنات جبکہ دھرنا مظاہرین کی طرف سے شفیق امینی، مولانا وحید نور اور پیر اعجاز اشرفی نے حصہ لیا ۔قبل ازیں ہفتہ کے روز داخلہ احسن اقبال نے دھرنا شرکاء کو جب مزید 24 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے انہیں مذاکرات کی پیشکش کی تھی تو پیر آف گولڑہ شریف غلام نظام الدین نظامی ثالثی کیلئے دیگر علماء کے ہمراہ فیض آباد دھرنے میں پہنچے تھے اور وہاں انہوں نے دھرنا قائدین سے مذاکرات کیے اور ان کا پیغام لے کر حکومت کے پاس گئے تھے۔ذرائع کے مطابق پیر آف گولڑہ شریف نے راجہ ظفر الحق اور وزیر داخلہ احسن اقبال کو دھرنا قائدین کا پیغام پہنچایا تھا ،را جہ ظفر الحق نے پہلے مذاکرات کرنے سے معذرت کرلی تھی تاہم نواز شریف کے کہنے پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کا حصہ بن گئے ،ذرائع نے بتایا تھا راجہ ظفر الحق کاموقف تھا وہ اس معاملے میں پڑنا نہیں چاہتے،کیونکہ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ نوازشریف کو بھیج دی ہے جبکہ دھرنا قائدین زاہد حامد کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں تو وہ کس طرح ان مذاکرات کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب تک دھرنے والوں کیساتھ مذاکرات کے 4 دور ہوچکے ہیں جن میں سے پہلے تین بے نتیجہ رہے تھے،راجہ ظفر الحق نے مذاکرات کے چوتھے دور کے آغاز سے قبل کہا تھا ختم نبوت کی شقیں بحال ہو چکیں، دیگر تحفظات بھی دور کریں گے۔بعد ازاں نجی ٹی وی دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا مذہبی جماعت کی لیڈرشپ سے اچھی توقعات ہیں، ملک کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، ختم نبوت سب کا مسئلہ ہے اور یہ حل ہو چکا ہے۔

مذاکرات

مزید : صفحہ اول