شریف خاندان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے عدالتی فیصلے پر عمل ہوگا، وجیہہ الدین احمد

شریف خاندان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے عدالتی فیصلے پر عمل ہوگا، وجیہہ ...

اسلام آباد (آن لائن) جسٹس (ر)وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے عدالتی فیصلے پر عمل ہوگا۔شریف خاندان سے پلی بارگین نہیں ہو سکتا۔ ہائی پروفرائل مقدمات میں ریکوری نہیں سزا اہم ہوتی ہے۔ جہانگیر ترین کا کیس خراب جبکہ عمران خان بچ سکتے ہیں۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ عدالت نے مریم کو ایک ماہ نواز شریف کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔ نیب وزارت داخلہ کو ناموں کو ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے درخواست کرے گا۔ جس کو وزارت داخلہ رد بھی کر سکتی ہے اور تسلیم بھی کر سکتی ہے۔ ای سی ایل میں نام ڈالا بھی جائے تو عدالتی حکم پر عمل ہو گا۔ جیسے مشرف کیس میں ہوا۔ اسحق ڈار ملک کے وزیر خزانہ ہے۔ ایسا تاثر نہیں تھا کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہونگے۔ نواز شریف کے بچوں کو ملک وپاس لانے کے لئے ادارے بے بس نہیں ہیں۔ بس ذرا سی مستعدی دکھانی پڑے گی۔ مگر پرویز مشرف کے معاملے م یں ہوا وہ ملک سے باہر بیٹھا ہے اور مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔ اور پاکستان میں مختلف سیاسی اتحاد بھی بن رہا ہے۔ عدالتوں کو ملزم کی جائیداد ضبط نہیں کرنی چاہیئے۔ بلکہ اس کو فروخت بھی کرنا چاہئیے جس سے اثر پڑے گا۔ نواز شریف کے بچے بھی باہر بیٹھ کر مقدمات لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس بہت اہم کیس ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سامنے غلطی سے کیس جانے سے کیس میں ملزمان کو فائدہ ہوا ہے۔ نواز شریف کی ریفرنس اکٹھا کرنے کی درخواست رد کیا جانا درست تھا۔ ریفرنس اکٹھے ہوں تو معاملات جلد نمٹ جاتے ہیں مگر عدالتی فیصلے کے مطابق کیسز مختلف نوعیت کے تھے اس لئے اکٹھے نہیں کئے جا سکتے تھے۔

وجیہہ الدین احمد

مزید : صفحہ آخر