بھارت، یتیم خانے کا باحجاب مسلم لڑکی کو نوکری دینے سے انکار

بھارت، یتیم خانے کا باحجاب مسلم لڑکی کو نوکری دینے سے انکار

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں ایک ادارے کی جانب سے حجاب پہننے اور مسلمان دِکھنے پر مسلم لڑکی کو نوکری دینے سے انکار کر دیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق متاثرہ مسلمان لڑکی ندال زویا نے بیاتا کہ انہیں دارالحکومت نئی دہلی کے یتیم خانے میں صرف اس لیے نوکری نہیں دی گئی کیونکہ میں نے حجاب پہنتی ہوں اور حلیہ سے مسلمان دکھائی دیتی ہوں۔ٹاٹا انسٹیٹوٹ آف سوشل سائنسز ممبئی کی طالبہ ندال زویا نے بتایا کہ یتیم خانے میں نوکری کیلئے ای میل پر سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن کچھ روز پہلے مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں تحریر تھا،’ہم معذرت خواہ ہیں کیونکہ آپ ایک کلو میٹر دور سے بھی ایک مسلمان خاتون معلوم ہوتی ہیں‘دوسری جانب ہریش ورما کی جانب سے نجی ٹی وی کو بتایا گیا کہ وہ اپنے ادارے کیلئے ایک سیکولر ذہن رکھنے والی لڑکی کی تلاش کر رہے تھے اور زویا کو نوکری پر نہ رکھنے کا فیصلہ اہلیت پر کیا گیا۔زویا نے اس حوالے سے کہا میں سمجھتی ہوں کہ یہ واقعہ بھارت میں اسلام فوبیا کی ایک مثال ہے جو بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔اس حوالے سے عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر سورابھ بھردواج نے کہا کہ اگر زویا نے اس حوالے سے باقاعدہ شکایت کی تو حکومت ہریش ورما کے خلاف ایکشن لے گی۔سورابھ بھردواج نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کے ساتھ اس کے عقائد کی بنیاد پر امتیاز برتا جائے۔

مزید : صفحہ آخر