’’ تحریری طور پر استعفیٰ دیا اور نہ ہی لیا گیا‘‘، ڈاکٹر عاصم

’’ تحریری طور پر استعفیٰ دیا اور نہ ہی لیا گیا‘‘، ڈاکٹر عاصم

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا ہے کہ وہ 6 ہفتوں کیلئے ملک سے باہر جارہے ہیں، اس لیے انہوں نے پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر کے عہدے پر کام کرنے سے معذرت کی۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ ’’آصف علی زرداری جو ہدایات دیں گے، میں اس پر عمل کروں گا‘‘۔استعفیٰ لیے جانے کے سوال پر ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ انہوں نے تحریری طور پر استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ہی ان سے استعفیٰ لیا گیا۔ایک رپورٹر نے ڈاکٹر عاصم سے سوال کیا کہ ’’کیا انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ فاروق ستار سے ملاقات کے بعد دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دیا؟‘‘جس پر ڈاکٹر عاصم نے جواب دیا، ’’تحریری طور پرمیں نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ خود نہیں دیا‘‘۔رپورٹر نے مزید سوال کیا، ’’تو کیا آپ کو پارٹی نے نکالا ہے؟‘‘جس پر ڈاکٹر عاصم نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا 'جو باتیں کررہے ہیں ان سے جاکے پوچھیں'۔دوسری جانب ڈاکٹر عاصم کی پارٹی عہدے سے سبکدوشی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق قیادت ڈاکٹرعاصم کی کراچی کی تنظیم چلانے کے طریقہ کارسے خوش نہیں تھی، وہ قائدین اور کارکنوں کو اہمیت نہیں دیتے تھے اور انہوں نیاہم فیصلوں سے قبل اکثر قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات ڈاکٹر عاصم کو ہٹانے کی بڑی وجہ بنی، انہوں نے پارٹی قیادت کواعتماد میں لیے بغیر فاروق ستار سے ملاقات کی اور قیادت کے سامنے وضاحت پیش کرنے کے بجائے ملاقات کی خبر میڈیا کو جاری کی۔واضح رہے کہ گذشتہ روز ڈاکٹر عاصم حسین پیپلز پارٹی کراچی ڈویڑن کے صدر کے عہدے پر کام کرنے سے معذرت کرتے ہوئے ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

ڈاکٹر عاصم

مزید : صفحہ آخر