’’ انگریز بچہ قوم پرستی میں باپ سے دو ہاتھ آگے نکل گیا ‘‘ بھارت چھوڑنے سے پہلے انگریزافسرجب اپنے وائسرائے لارڈ ویول کے مجسمہ کو سلیوٹ کرکے گھر آیا تو بیٹے نے ایسا سوال پوچھ لیاکہ باپ بغلیں جھانکنے پر مجبور ہوگیا

’’ انگریز بچہ قوم پرستی میں باپ سے دو ہاتھ آگے نکل گیا ‘‘ بھارت چھوڑنے سے ...
’’ انگریز بچہ قوم پرستی میں باپ سے دو ہاتھ آگے نکل گیا ‘‘ بھارت چھوڑنے سے پہلے انگریزافسرجب اپنے وائسرائے لارڈ ویول کے مجسمہ کو سلیوٹ کرکے گھر آیا تو بیٹے نے ایسا سوال پوچھ لیاکہ باپ بغلیں جھانکنے پر مجبور ہوگیا

  

لاہور(ایس چودھری)تقسیم ہندوستان کے بعد بھی انگریزوں کی ہندوستان میں اپنے مشاہیر سے محبت قائم رہی اور جب بھی کوئی انگریز بھارت جاتا تو خود بھی اور اپنی اولاد کو ان مقامات پر لے جاتا جہاں انکے بڑوں کی یادگاریں قائم ہوچکی تھیں۔اس حوالہ سے روزنامہ زمیندار نے برسوں پہلے یہ واقعہ شائع کیا تھاکہ انگریزوں کو اپنے مشاہیر پر بے شک فخرہوتا تھا لیکن انکے بچوں کو اپنی تاریخ سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی ۔مونٹ بیٹن سے پہلے لارڈ ویول ہندوستان کے وائسرائے اور گورنر جنرل تھے۔برطانوی فوج میں فیلڈ مارشل تک کے عہدے تک پہنچے ،تقسیم ہندوستان کے وقت ایک پارک میں ان کا مجسمہ نصب کیا گیا جس میں وہ ایک گھوڑے پر بیٹھے ہوئے دکھائے گئے تھے ۔یہ مجسمہ آزادی کے بعد بھی خاصے عرصے تک اس پارک میں موجود رہا تھا ۔

تقسیم کے بعد ایک انگریز کا بھارت میں کسی ملازمت کے سلسلے میں آنا ہوا۔ ایک دن وہ اپنے بیٹے کو اس پارک میں جہاں لارڈ ویول کا مجسمہ نصب تھا، گھمانے لے گیا۔ بیٹے کو وہ مجسمہ بے حد پسند آیا اور وہ اکثر اپنے باپ سے فرمائش کرکے اسی پارک میں جانے لگا اور مجسماتی گھوڑے کو بڑے لاڈ اور احترام سے چھوتا۔

جب انگریز کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو اس نے وطن واپس جانے کی ٹھانی۔ واپسی والے دن اس کے بیٹے نے باپ سے لارڈ ویول کا مجسمہ آخری مرتبہ دیکھنے کی فرمائش کی۔ باپ بیٹے کو لے کر اس پارک میں پہنچا۔ بیٹا ویول کا مجسمہ دیکھ کر اس سے بولا’’پیارے ویول ، شاید یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ اب میں وطن واپس جا رہا ہوں۔‘‘

باپ، بیٹے کی یہ قوم پرستی دیکھ کر بے حد خوش ہوا۔ جب وہ گھر پہنچے تو بیٹا اچانک بولا’’ڈیڈی ، یہ تو بتائیے کہ ویول کے اوپر جو شخص بیٹھا ہوا ہے اس کا نام کیا ہے؟‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس