ماں اور بچے کو بچا لو

ماں اور بچے کو بچا لو
ماں اور بچے کو بچا لو

  

اچھی اور صحت مند زندگی کا تعلق رویوں سے ہے ۔صحت سے متعلق معلومات لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں ا ہم کردار ادا کرتی ہے۔انہی معلومات سے بیماریوں کی روک تھام کی جاسکتی ہے اور قیمتی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے ۔لیکن ہمارے ہاں اس سے گریز کیا جاتا ہے۔دنیا میں ہر سال 10 ملین بچے موت کے شکار ہو تے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی سالانہ اموات آٹھویں نمبر پر ہیں ۔پاکستان میں پانچ سال سے کم بچوں کی صحت کا معیار قابل قبول سطح سے نیچے ہے اور یہاں شیر خوار بچوں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات فی ہزار میں بالترتیب 78اور 98 ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ پاکستان میں ماں اور نوازئیدہ کی صحت کی صورت حال یہ ہے کہ ماؤں کی شرح اموات ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 50 ہے ۔اس کی زیادہ وجوہات بچوں کی پیدائش میں نامناسب وقفہ، ماہر مڈوائف کی عدم موجودگی۔شرح،ناخواندگی میں کمی،خوراک کی کمی اور زچہ کی دیکھ بھال کی ہنگامی خدمات تک ناکافی رسائی بیان کی جاتی ہیں ۔زچگی کے بعد زیادہ خون کا اخراج،زیادہ بلڈ پریشر کی وجہ سے دورے پڑنا اور بعد از زچگی انفیکشن اور بخار ماؤں کی اموات کی براہ راست اہم وجوہات ہیں۔ بچے کی پیدائش کے موقع پر ماہر مڈوائف کی موجودگی 39فیصد ہے۔ شہری علاقوں میں یہ شرح زیادہ ہے جہاں نجی شعبے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ھے ۔مراکز صحت میں ہونیوالی 34% زچگیوں میں 27% نجی شعبے میں قائم اداروں میں ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ بچوں کی پیدائش میں نامناسب وقفہ ہے۔ ہمارے ہاں ایک تہائی سے بھی کم شادی شدہ جوڑے خاندانی منصوبہ بندی کیلئے جامع اور جدید طریقہ استمال کرتے ہیں۔

روایتی طریقہ جات میں ناکامی کی صورت حال میں خواہش کے خلاف پیدا ہونے والے بچوں کی شرح فی صد زیادہ ہے جب کہ پوشیدہ اسقاط حمل کی شرح بھی بہت خطرناک ہے۔ یہ صورت حال تولیدی امراض اور پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔ اسقاط حمل کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کیلئے موزوں خدمات کی دستیابی ، رسائی اور معیار کے حوالے انتہائی ناکافی ہے۔ بچوں کی پیدائش میں نامناسب وقفے سے ماؤں میں خون کی انتہائی کمی غذائیت کا فقدان، نوزائیدہ کے کم وزن ہونے اور حمل کے ضائع ہونے کا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ زچہ وبچہ کی اہم خدمات کے کم استعمال کی سب سے بڑی وجہ آگہی کی کمی ہے۔ وہ خواتین جو کبھی دوران حمل معائنہ کیلئے مراکز صحت جانے سے گریز کرتی ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح حمل،زچگی اور بعداز زچگی،زچہ و بچہ کو درپیش خطرناک علامات کے بارے میں بہت کم آگہی پائی جاتی ہے۔کمیونٹی کے متحرک کئے جانے کے عمل کو سرکاری شعبے کے پروگراموں کا کمزور ترین حصہ تصور کیا جاتا ھے ۔اس حوالے سے MNHکے ایک سروے میں یونیسف۔یو این ایف پی اے،اور عالمی ادارہ صحت میں بھی خدمات کی طلب کی جانب غیر مساوی اورکم سرمایہ کاری کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ خواتین اور ان کے بچوں کی بہتر صحت کیلئے ضروری ھے کہ وہ حمل کے دوران کم از کم چار مرتبہ حمل کے دوران مراکز صحت میں اپنا معائنہ کرائیں۔ اچھی خوراک کے ساتھ اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے طاقت کی گولیاں بھی استعمال کر یں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ