ہمارے معاشرے میں بے روزگاری اور قرضے کے بحران بدعنوانوں نے پیدا کئے ہیں: اقتصادی ماہرین

ہمارے معاشرے میں بے روزگاری اور قرضے کے بحران بدعنوانوں نے پیدا کئے ہیں: ...
ہمارے معاشرے میں بے روزگاری اور قرضے کے بحران بدعنوانوں نے پیدا کئے ہیں: اقتصادی ماہرین

  


جدہ(محمد اکرم اسد) سعودی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے روزگاری  اور قرضے کے بحران بدعنوانوں نے پیدا کئے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف اعلیٰ سطحی مہم نے بساط الٹ دی، اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔

دوسسری طرف مقامی شہریوں نے سبق ویب سائٹ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بدعنوانی کی بیخ کنی کیلئے جاری مہم پر مسرت کا اظہار کیا۔ انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11شزادے اور 38وزیر اور انکے نائب حراست میں لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بدعنوانی معاشرے کو گھن کی طرح لگ جاتی ہے اور اس کی جڑیں اکھاڑ ڈالتی ہے۔ مقامی شہریوں نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ بدعنوانی کے انسداد کی کارروائی شہزادوں ، وزراء، نائبین اور اول درجے کے سرمایہ کاروں سے شروع کی گئی ہے۔ اس سے پورے معاشرے کو یہ پیغام ملا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

بدعنوانی کوئی معمولی شخص کرے یا اول درجے کی شخصیت ہو کسی میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ جو بھی غلطی کریگا اسے اپنے کئے کا خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ سعودی اسکالر اور پائدار ترقی کے امور کے ماہر ڈاکٹر فیصل العتیبی نے کہا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں بدعنوانی کا دور دورہ نہ ہو۔ یورپی ممالک ہوں یا پسماندہ ممالک ہو ںہر جگہ بدعنوانی کا سلسلہ پایا جاتا ہے۔ سعودی عرب کا نمبر بدعنوانی کے تناسب کے لحاظ سے عرب ممالک میں چوتھا ہے۔ ایک اور ماہر اقتصاد عبدالحمید العمری نے کہا کہ بدعنوانی کا دائرہ بڑھنے کی وجہ سے ہمارے یہاں مکان، غیر منقولہ جائدادوں ، بے روزگاری اور قرضے جیسے بحرانوں نے جنم لیا تاہم اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ اول درجے کے بدعنوانوں کے خلاف کارروائی نے معاشرے کے ہر طبقے کو پیغام دیا ہے کہ ہوش میں آجاﺅ وگرنہ بدعنوانی کا خمیازہ بالاخر بھگتنا ہوگا۔

مزید : عرب دنیا