’’اُداس بھینسیں‘‘

’’اُداس بھینسیں‘‘
’’اُداس بھینسیں‘‘

  

جب سے ’’آسائشی بھینسیں‘‘ دریافت ہو کر نیلام ہوئی ہیں، ملک کے طول و عرض میں کوئی ہنگامہ سا برپا ہے۔ کوئی ’’ دانشور‘‘ بھینسوں کی نیلامی سے موصول ہونے والی رقم کو ’’ ڈیم فنڈ‘‘ میں ڈالنے کے مشوروں سے نواز رہا ہے تو کوئی ان ’’ آسائشی بھینسوں‘‘ کی موجودگی کو ملک میں آبی ڈیمز بنانے میں تاخیر کی وجہ گردان رہا ہے۔ الغرض ہر کوئی اپنی اپنی ہانک رہا ہے مگر ان ’’معصوم بھینسوں‘‘ پر جو گزر رہی ہو گی کوئی تجزیہ کار، دانشور یا لکھاری اس پر دھیان ہی نہیں دے پا رہا۔ وہ بھولی بھالی، چمکتی،دمکتی، کالی کالی خوبصورت بھنسیں اب کہاں اور کس حال میں ہیں، کسی کو ہوش نہیں۔

اب نہ وہ دن رہے اور نہ وہ بھینسیں، ہمیں تو وہ ’’ لااُبالی‘‘ سی جمہوریت ٹائپ ’’ کٹی‘‘ کی یاد بھی ستا رہی ہے جو نیلامی میں سب سے کم قیمت پر آگے لڑھکا دی گئی اور جو جاتے جاتے کچھ یوں فریاد کناں لگتی تھی، جیسے کہہ رہی ہو منی بدنام ہوئی، ظالماں تیرے لئے۔

بہر حال نیلام ہو کر اپنی اپنی ’’ منزلِ مراد‘‘ تک پہنچنے والی دیگر بھینسوں کا تو ہمیں کوئی علم نہیں کہ وہ کس ’’ حال زار‘‘ میں ہوں گی، مگر ایک ’’ متوالے‘‘ خریدار سے ہماری بھی کچھ یاد اللہ ہے، جس نے ایک نہایت ’’چمکتی دمکتی‘‘ بھینس انتہائی مہنگے داموں خریدی اور پورے میڈیا پر تشہیر کروائی کہ وہ اسے اپنے ’’محموب رہنما‘‘ کی ’’نشانی‘‘ کے طور پر سنبھال کر رکھے گا۔نیلامی کے چند روز بعد ہم نے اپنے ’’ متوالے دوست‘‘ سے رابطہ کیا اور ’’ شاہی بھینس‘‘ کے بارے دریافت کیا جواباً اس نے جو سنایا، آپ بھی سنیئے اور سر دھنیئے کہ

عشق میں کئی کٹھن مقام آتے ہیں

موصوف کہنے لگے جب قصر شاہی کی بھینس میری حویلی کے آہنی گیٹ سے اندر حویلی داخل ہوئی اس پر کوئی بے خودی کی سی کیفیت تھی اور ٹانگوں پر لرزہ سا طاری ہو گیا تھا میں نے اپنے ملازم کو آواز دی اور بھینس کو اس کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے حویلی کے پچھواڑے بھینسوں کے مخصوص باڑے تک پہنچا آئے۔

اُسے چارہ پانی کی خصوصی تاکید کر کے میں اپنی دیگر مصروفیات میں مگن ہوگیا لیکن سر شام ملازم بھاگا ہوا میرے پاس آیا اور جو کچھ اس نے بیان کیا وہ تو میرے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا،کہنے لگا ’’ چودھری صاحب!‘‘ یہ بھینس تو کسی خاص شاہی مزاج کی مالک لگتی ہے۔ اسے لے کر جب میں باڑے میں داخل ہوا تو اس نے ساتھ بندھی دیگر بھینسوں کو کچھ عجیب نظروں سے گھورنا شروع کر دیا۔ اس ’’ دلہن نما‘‘ بھینس کو ہماری دیگر بھینسوں نے پروٹوکول دیتے ہوئے چارے والی کھرلی تک مناسب انداز میں رسائی دی مگر اس نے تو چارے کو منہ ہی نہیں لگایا۔ بہر حال مجھے دیگر کام نمٹانا تھے، میں یہ سوچ کر باڑے سے نکل آیا کہ چلو شاید اسے ابھی بھوک نہیں۔ لیکن ابھی جب بھینسوں کا دودھ دھونے باڑے میں داخل ہوا تو نئی بھینس کسی قسم کی جگالی وغیرہ بھی نہیں کر رہی تھی یعنی اس نے کچھ کھایا پیا ہی نہ تھا اور ایک ’’ انداز بے لبی‘‘ کے ساتھ ٹانگیں پسارے دنیا کی بے ثباتی جیسی کسی گہری سوچ میں ڈوبی نظر آئی۔

میں نے اپنی عادت کے مطابق اسے ایک ٹھڈ مار کر اٹھانے کی کوشش کی مگر ٹس سے مس نہ ہوئی میں نے ایک اور زور دار ٹھڈ لگایا تو گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ میں نے دودھ والا برتن ایک طرف رکھا اور نیچے جھک کر کافی دیر بھینس کے تھنوں کو مسلتا رہا مگر وہ تو مرجھا چکے تھے۔ میں سمجھ چکا تھا کہ اس نے جب کچھ کھایا پیا ہی نہیں تو دودھ کہاں سے آئے گا؟ بہر حال میں اپنی پرانی بھینسوں کا دودھ دھو کر حویلی پہنچ کر سیدھا آپ کے پاس آ گیا ہوں کہ یہ آپ کیا خرید لائے ہیں میری سمجھ سے تو بالا تر ہے؟

ہمارے متوالے دوست کو بات کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گئی تھی۔ اس نے جلدی سے اپنے ایک سیاسی دوست کے توسط سے بھینسوں کے سابقہ مینجر کا رابطہ نمبر حاصل کر کے اسے اپنی خرید کردہ بھینس کے بارے تمام صورتحال سے آگاہ کیا کہ بھینس کوئی چارہ وغیرہ نہیں کھا رہی اور نہ ہی کسی اور بھینس کے قریب بیٹھنا پسند کرتی ہے دودھ وغیرہ کا توذکر ہی کیا کرنا تھا۔ وہ تو ظاہر ہے جب بھینس کچھ کھائے پیئے گی نہیں تو دودھ کیا خاک دے گی؟

مینجر نے ہمارے متوالے دوست کی بات سنی اور ہنستا چلا گیا۔ کہنے لگا ابھی تمہاری کال سے پہلے ایک اور دلارے متوالے کی بھی مجھے کال موصول ہوئی ہے۔ جس نے تمہاری طرح اپنے ’’ محبوب لیڈر‘‘ کی ایک بھینس ’’ نشانی‘‘ کے طور پر خریدی تھی وہ بھی کچھ ایسے ہی ’’مسائل‘‘ کا سامنا کر رہا ہے میرے بھائی؟ دراصل یہ بھینسیں کوئی عام بھینسیں نہیں ہیں جو گندہ مندہ بھوسا ٹائپ چارا کھائیں اور گندے جوہڑ کا پانی پی کر گزارہ کر تی ہوں۔ یہ بھینسیں انتہائی اعلیٰ نسل کی ہیں اور خاص قسم کی خوراک کھاتی ہیں، جس کی تفصیل بتانے کی مجھے اجازت نہیں ہے۔ بس یوں سمجھو کہ ان کی خوراک میں عام چارے کے ساتھ متعدد میوہ جات اور بادام، کاجو وغیرہ شامل کئے جاتے ہیں اور پینے کے لئے منرل واٹر استعمال کیا جاتا ہے۔ ا

ن سے دھویا گیا دودھ بھی کوئی عام دودھ نہیں ہوتا۔ برسبیل تذکرہ یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ ایک عام معدہ اس بھینس کا دودھ ہضم بھی نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے غلطی سے ایک دفعہ معمولی مقدار میں اس کا دودھ پی لیا تھا، جس کے بعد دو دن میں اپنی ڈیوٹی پر نہیں آ سکا تھا۔ خیر چھوڑو یہ تو ایک علیحدہ موضوع ہے تم یوں سمجھ لو کہ تم نے اپنے محبوب لیڈر کی محبت میں ایک نئی چمکتی مرسڈیز گاڑی خرید کر چند پھٹیچر قسم کی مہران گاڑیوں میں جا کھڑی کی ہے۔ جس کی وجہ سے تمہارے باڑے کا سارا منظر ہی گہنا گیا ہے۔ اس بھینس کے لئے تمہیں علیحدہ سے ایک ’’ خاص ملازم‘‘ کا انتظام کرنا ہوگا جو اس کی خوراک اور دیگر مشغولات سے مکمل آگاہ ہو۔ ویسے تمہاری سہولت کے لئے بتا رہا ہوں کہ جو بندہ ان کی نیلامی سے قبل انکی دیکھ بھال پر مامور تھا، وہ آجکل فارغ ہے۔

اگر پسند کرو تو اسے تمہارے پاس بھیج سکتا ہوں۔ دیگر تفصیلات تم خود اس سے طے کر لینا۔ ہمارے متوالے دوست نے جب یہ ہوشربا تفصیلات سنیں تو کچھ حواس باختہ ہو کر اس نے ملتجیانہ انداز میں مینجر سے دریافت کیا ’’ اس بھینس کی خوراک پانی اور دیکھ بھال پر اندازاً اخراجات کا تخمینہ کیا ہوگا؟‘‘ مینجر نے گہری سانس بھری اور بولا ’’ میری ڈیوٹی فقط ان بھینسوں کی نقل و حرکت تک محدود ہوتی تھی۔ ان بھینسوں پر اٹھنے والے اخراجات کا حساب کتاب تو ایک علیحدہ فنانس مینجر کے سپرد ہوتا تھا۔ لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک بھینس پر اٹھنے والا ماہانہ خرچہ تقریباً 3/4 لاکھ تک ہو سکتا ہے۔‘‘

ہمارا متوالا دوست متوحش ہو کر منمنایا ’’ دس پندرہ کلو دودھ روزانہ کے لئے اتنا لمبا خرچہ، جناب مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آ سکی؟‘‘ مینجر نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ’’ دیکھو بھائی اگر دوستی شیر سے نبھانی ہو تو دل بھی چیتے جیسا رکھنا پڑتا ہے۔ جیتے بنو اور اخراجات اٹھاؤ تم نہیں جانتے اس بھینس کا دودھ کیا کیا خاصیت رکھتا ہے اور اسے پینے والا انسان کتنا عقلمند، طاقتور اور خوبصورت ہو سکتا ہے؟‘‘ ہمارے متوالے دوست نے فوراً کہا ’’ابھی آپ کہہ رہے تھے کہ اس بھینس کا دودھ ہضم کرنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں اور آپ خود اسے پی کر دو دن بیمار رہے تو مجھے یہ کیسے ہضم ہو سکے گا؟‘‘ مینجر بولا ’’ یہ ٹھیک ہے کہ تمہارا معدہ ابتدائی طور پر اسے ہضم کرنے میں متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایسی چیزوں کو ہضم کرنے کے لئے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن اس ڈاکٹر نما انسان کو میں جانتا ہوں جو اکثر قصرِ شاہی آیا کرتا تھا یقیناً اسی کے پاس اس کے ہاضمہ کا نسخہ بھی ہوگا۔ تم چاہو تو میں اس کا کھوج لگا سکتا ہوں کیونکہ آجکل وہ بھی بیکار ہوگا۔‘‘

ہمارا متوالا دوست اتنے اخراجات سن کر پہلے ہی پریشان ہو چکا تھا۔ اس نے نحیف سی آواز میں مینجر صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ’’ کیا ہم اس بھینس کو عام بھینسوں جیسی خوراک کی طرف مائل نہیں کر سکتے؟‘‘ مینجر نے ایک قہقہہ لگایا اور استہزائیہ انداز میں بولا میرے دوست لگتا ہے تم نے جنون عشق میں یہ ’’ سودا‘‘ خرید لیا ہے۔ حقیقت سے آشنا ہوتے تو شاید کبھی ایسا نہ کرتے جیسے مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح یہ بھینس جس ماحول میں رہی اور جس خوراک پر پلتی رہی ہے۔ وہ اسے میسر نہ رہا تو چند روز کی مہمان ہو گی۔ یہ کہہ کر مینجر نے فون بند کر دیا۔

مزید :

رائے -کالم -