نوازشریف کی روانگی

نوازشریف کی روانگی

  



پاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف کو عدالت عالیہ لاہور نے بیرون ملک روانگی کا پروانہ دے دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے ضروری حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔ امکان غالب ہے کہ جب یہ سطور قارئین کی نظر سے گزریں گی تو وہ ایئرایمبولینس کے ذریعے لندن روانہ ہو چکے ہوں گے۔ ایک دن پہلے تک حکومتی وزیروں اور ترجمانوں کا زورِ بیان تھمنے میں نہیں آ رہا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان بھی ترکی بہ ترکی جواب دینے میں لگے ہوئے تھے۔ ثابت یہ کرنا مقصود تھاکہ ہماری مونچھ نیچی نہیں ہوئی۔ ایک وزیر صاحب نے تو عدالتی فیصلے پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت سے اپیل دائر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پھر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان خم ٹھونک کر ایک پریس کانفرنس میں بیٹھے اور میڈیا کو عدالتی فیصلے سے طرح طرح کے نکات نکال کر دکھائے۔ ان کا اصرار تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ حکومتی موقف کی جیت ہے۔ ہائیکورٹ کی شرائط حکومت کے مجوزہ بانڈ سے بھی سخت ہیں۔ نوازشریف کی واپسی کی جو یقین دہانی چاہیے تھی،وہ ان کی اور محمد شہبازشریف کی انڈرٹیکنگ کی صورت میں مل گئی ہے۔ دونوں بھائی عدالت کے پاس گروی ہو گئے ہیں۔ واپس نہ آئے تو عدالتی مجرم ہوں گے۔ نوازشریف جس بھی ملک میں جائیں گے، ہم وہاں کے حکام کو بتا دیں گے کہ یہ کن شرائط پر یہاں پہنچے ہیں۔دونوں صاحبان کا کہنا تھا کہ عدالت نے کابینہ کے فیصلے کی روح کے مطابق اجازت دی ہے، یہ چار ہفتے تک محدود ہے اور ایک ہی مرتبہ کے لئے ہے۔ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کی ہائی کمیشن سے تصدیق کی شرط بھی عائد کر دی گئی ہے۔ اگر علاج طویل ہونے کی صورت میں نوازشریف مقررہ مدت میں واپس نہ آ سکے تو انہیں پھر عدالت سے رجوع کرنا ہو گا۔ اس پر دوبارہ سماعت ہو گی اور پتہ چل جائے کہ وہ کوئی بہانہ تو نہیں کر رہے۔ اٹارنی جنرل کا ارشاد تھا کہ کابینہ نے تو صرف شہبازشریف سے انڈیمنٹی بانڈ طلب کرنے کا کہا تھا، لیکن عدالت نے دونوں بھائیوں سے انڈر ٹیکنگ لے لی ہے۔ یہ بانڈ سے زیادہ سخت ہے کہ ہمیں تو بانڈ پر عملدرآمد کرانے کے لئے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا، کیس فائل ہوتا۔ اب عدالت اپنے طور پر کارروائی کر سکے گی، اگر یہ واپس نہیں آتے تو ان پر توہین عدالت کا قانون لاگو ہو گا۔ شہزاد اکبر نے اپنا تڑکا یہ کہہ کر لگایا کہ بعض جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ نوازشریف کو غیر مشروط طور پر جانے کی اجازت دینی چاہیے تھی، ہمارا یہ اصولی موقف تھا (اور ہے) کہ امیر غریب کے لئے دو قوانین نہیں ہونے چاہئیں۔

ایک طرف یہ دعوے کئے جا رہے تھے تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت عمران خان کے بغض اور عناد کی شکست ہے۔ حکومت کو 7ارب کا بانڈ وصول کرتے کرتے پچاس روپے کے اشٹام پیپر پر اکتفا کرنا پڑا۔ مریم اورنگزیب نے وزراء پر الزام لگایا کہ وہ فیصلے کی من مانی تشریح کرکے توہین عدالت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ حکومت اپنی حد میں رہے عدالت نہ بنے۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حکومت کے ہاتھ میں کسی کے لئے خیر نہیں رکھی تو (کم از کم) اس کے وزراء منہ ہی بند کر لیں تاکہ مزید رسوائی سے بچ سکیں۔

یہ بیان بازیاں پڑھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کرتی چلی جا رہی تھیں۔ سیدھی بات یہ تھی کہ سابق وزیراعظم ایک تشویشناک بیماری میں مبتلا ہیں۔ حکومت کے اپنے قائم کردہ ڈاکٹروں کے بورڈ نے اس کی تصدیق کے بعد یہ تجویز کر دیا تھا کہ اس مرض کی تشخیص اور علاج بیرون ملک ہی ممکن ہے۔ نوازشریف بیرون ملک اپنے مطالبے یا تقاضے پر نہیں جا رہے تھے، نہ ہی حکومت اس حوالے سے ان کی کوئی خواہش پوری کررہی تھی۔ ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق یہ مجبوری بن چکی تھی، اس کے سوا کوئی اورچارۂ کار نہیں تھا۔ اگر ان کی پیچیدہ بیماری کی تشخیص اور علاج پاکستان میں ممکن ہوتا تو ان کے بیرون ملک سفر کا کوئی جواز بھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں امریکہ جانا پڑ سکتا ہے کہ ان کے مرض کے علاج کی جو سہولت وہاں میسر ہے، وہ برطانیہ میں بھی نہیں ہے۔ اس بات پر ان سب لوگوں کو بھی غور کرنا چاہیے جو اٹھتے بیٹھتے یہ کوسنے اور طعنے دیتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں ایسا ایک بھی ہسپتال کیوں نہیں بنایا گیا جہاں نوازشریف کا علاج ممکن ہوتا۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار کا شائد کوئی بھی سرکاری ہسپتال موجود نہ ہو، لیکن بعض بیماریوں کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے علاج کے لئے برطانیہ جیسے ملک میں بھی اعلیٰ ترین انتظامات نہیں ہیں، اسی لئے وہاں سے بھی (بسا اوقات) مریضوں کو امریکہ کا رخ کرنا پڑ جاتا ہے…… بہرحال، اس سے قطع نظر اہم ترین بات یہ ہے کہ نوازشریف کوئی پکنک منانے بیرون ملک نہیں جا رہے۔ حکومت نے جب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کو باہر جانے کی اجازت دے ہی ڈالی ہے تو اس کے بعد چونکہ، چنانچہ کی ضرورت نہیں۔ معاملہ عدالت تک جانا ہی نہیں چاہیے تھا، اگر پہنچ گیا تو پھر بغلیں بجانے یا نکتے تلاش کرنے کی داد نہیں دی جا سکتی۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ جس طرح کا بانڈ حکومت کو مطلوب تھا،وہ دیا نہیں جا رہا۔ اسے ہار جیت کا مسئلہ بنانے کے بجائے حوصلے اور تدبر سے کام لے لیا جاتا تو کسی کا کچھ بھی بگڑ نہیں سکتا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت عالیہ نے جو فیصلہ جاری کیا ہے، وہ عبوری ہے۔ مقدمے کی باقاعدہ سماعت بعد میں ہو گی اور عدالت نے سزا یافتہ افراد کا نام ای سی ایل میں رکھنے اور نکالنے کے حکومتی اختیار کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں، ان کے حوالے سے فریقین کا موقف سن کر بعدازاں فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس کے بعد اس طرح کے معاملات میں پایا جانے والا ابہام ختم ہو سکے گا۔ پاکستان اس وقت معاشی اور انتظامی طو رپر بڑی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کو جہاں وقت درکار ہے، وہاں سازگار ماحول بھی ضروری ہے۔ سیاسی دھینگا مشتی میں سب سے پہلے جو شے متاثر ہوتی ہے،اسے معیشت کہا جاتا ہے۔ بے یقنی اور افراتفری میں معاشی ترقی کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔ سرمایہ ایسے مقامات سے پَر لگا کر بھاگ جاتا ہے، جہاں بے یقینی کے سائے گہرے ہو رہے ہوں۔ اہلِ اقتدار اگر ہر بات کو اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیں تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اپنی ہی راہ میں کانٹے بچھا کر منزل کو قریب نہیں لایا جا سکتا۔

مزید : رائے /اداریہ