قاتل ڈور، ایک اور جان لے گئی!

قاتل ڈور، ایک اور جان لے گئی!

  



مغل پورہ کے علاقے میں دو بچوں کا والد عامر ”قاتل ڈور“ کا شکار ہو کر راہی ملک عدم ہوا، بیوہ اور بچے اس مادہ پرستی کے دور میں بے سہارا رہ گئے حسب روائت یہ علم نہیں کہ یہ ڈور کس کی تھی جو جان لیوا ثابت ہوئی اور یہ مطالبہ کیا جانے لگا ہے کہ اس حوالے سے قانون بنا کر سزا وارکو موت کی سزا دی جائے۔ڈور سے گردنیں کٹنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب تک دو سو سے زیادہ افراد اس کا شکار ہو چکے ہیں،ابھی تک اس کھیل پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا کہ جس جس ڈور سے گردن کٹی اس کے ماخذ کا کبھی پتہ ہی نہیں چلایا گیا کہ حقیقی ذمہ دار کو پکڑا جا سکے۔ البتہ ہماری پولیس وقتاً فوقتاً ایسے خفیہ گوداموں یا دوکانوں پر چھاپے مار کر ڈور اور پتنگیں قبضہ میں لیتی اور بنانے والوں کو یا دکان داروں کو گرفتار کرتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں دکھ تو یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے والدین بھی دھیان نہیں رکھتے اور بچے برملا، پلاسٹک کے دھاگے پر مانجھا اور کیمیکل ملی ڈور استعمال کرکے ان حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی ڈور ان تھڑدلوں کے لئے ہوتی ہے جو اپنی پتنگ کٹنا ”برداشت“ نہیں کر پاتے۔ اس کے لئے بڑی ذمہ داری والدین پر ہے جب تک پولیس اپنے اپنے علاقے میں ان مکانوں کے مالکان اور مکینوں کو گرفتار نہیں کرتی۔ حالات درست نہیں ہوں گے، پولیس کو چاہیے کہ وہ دکان داروں اور ڈور بنانے والوں کے خلاف تو کارروائی جاری رکھے، تاہم ہر تھانے والے تھانے کی حدود میں جاری پتنگ بازی کا نوٹس لیں اور جو ایسا کر رہے ہوں ان کے خلاف نہ صرف مقدمہ درج کرے بلکہ ان کو عدالتوں میں پیش کرکے سزا دلائے۔

مزید : رائے /اداریہ