یہ ملک کس کے لئے ب ایا گیا تھا……؟

یہ ملک کس کے لئے ب ایا گیا تھا……؟
یہ ملک کس کے لئے ب ایا گیا تھا……؟

  



ایک بات کی ہمیں سمجھ ہیں آتی یا پھر ہمارے بڑے یہ بات سمجھ ے سے قاصر ہیں کہ اس ملک میں ہر بات پر ایک یا معاملہ کیوں کھڑا کر لیا جاتا ہے؟ جیسے اب واز شریف یا پا اما کے مقدمے کا ڈراپ سی ہو ے جا رہا ہے اور ”سوال چ ا جواب گ دم“ کی صورت حال پیدا کر لی جاتی ہے۔ اس طرح ہم عوام اپ ے بڑوں کی ا اؤں اور لڑائیوں کی بھی ٹ چڑھ کر بد سے بدتری حالات کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ابھی وازشریف کی بیماری اور علاج پر جو تماشہ ب ایا گیا ہے، پوری د یا اس پر ہ س رہی ہوگی۔ جس ملک کی اکا ومی ہچکولے کھا رہی ہو، جس ملک میں 5 سے 16 برس کی عمر کے 47 فیصد بچے تعلیم کے زیور سے مرحوم ہوں،

جس ملک کی آبادی کا 65فیصد وجوا ہو اور ا کی اکثریت بے روز گار اور بے ہ ر ہو، جس ملک میں تحقیق و تحریر کا قحط ہو، جس ملک کی لاکھوں ایکڑ زمی غیر آباد اور کروڑوں لوگ بے روزگار ہوں، جس ملک کے قا و افذ کر ے والے اداروں کے کسی بھی اہل کار کو قا و کے معا ی کا پتہ ہ ہو، جس ملک کے ججوں کے فیصلوں سے زیادہ ا کے ریمارکس کے چرچے ہوں، جس ملک کی 70 فیصد آبادی صاف پا ی سے محروم ہو، جس ملک کی خواتی کو اپ ے حقوق کا علم ہو، ہ ا کے حقوق دیئے جاتے ہوں، جس ملک کی آبادی خود رو جھاڑیوں کی طرح بڑھ رہی ہو، جس کی سرے سے کوئی م صوبہ ب دی ہ ہو، جس ملک میں ٹاؤ پلا گ سے لے کر گاڑیوں کی پارک گ تک کی کوئی پلا گ ہ ہو، اس ملک کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میاں واز شریف کا ام ای سی ایل سے کالا جائے یا ہیں؟ واز شریف شخصی ضما ت پر باہر جائیں یا شیورٹی با ڈز جمع کروا کر جا ے اور واپس آ ے کی ضما ت دیں؟ واز شریف ڈیل کر کے جا رہے ہیں یا بیماری کا بہا ہ ب ا کر، واز شریف کی ڈیل فوج سے ہوئی ہے یا عمرا خا سے، چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی واز شریف کو باہر بھیج ے کی سفارش کر کے خود کیا فائدہ اٹھا ا چاہتے ہیں؟

یز یہ کہ واز شریف ایئرایمبول س پر جائیں یا کمرشل فلائٹ پر؟(یہ کوئی ہیں پوچھتا کہ علاج کے لیے باہر جا ا کیوں ضروری ہے، جبکہ پاکستا میں کئی جی ہسپتال یورپ سے بھی بہتر ہیں۔ یز ایک ایئر ایمبولی س کے ل د تک کے خرچ سے میڈیس کے کئی آلات خریدے جا سکتے ہیں۔ باہر سے کئی ڈاکٹر لائے جا سکتے ہیں، واز شریف باہر ہ گئے اور ا کی جا کو خطرہ ہوا تو عمرا خا کی سیاست کا کیا ہوگا؟ اگر ہم ے واز شریف کو کھو دیا تو اس ملک کا کیا ہوگا…… کیو کہ پھر م ی لا ڈر گ آدھی رہ جائے گی، آخرکار لاہور ہائیکورٹ ے اس قضیے کو حل کیا ہے۔ اللہ کرے میاں واز اس کالم کے شائع ہو ے تک جہاز کے ا در بیٹھے ہوں یا وی آئی پی لاؤ ج میں بیٹھے ہوں، تاکہ ہم کوئی اور خبر بھی س سکیں، ایسی خبر جس میں کچھ عوام کے لیے بھی ہو، ہم اس ملک کے ظام کو ٹھیک کر ے کسی کوشش کی خبر س سکیں، اپ ے بچوں کی تعلیم اور وجوا وں کے روزگار کی کوئی خبر س سکیں۔ آج ہی ایک خبر س کر دل دہل گیا ہے، کلیجہ م ہ کو آ رہا ہے۔ ہمارا آزادکشمیر کا ایک وجوا، جو اس ریاست سے مایوس ہو کر اپ ے اور اپ ے خا دا کے بہتر مستقبل کے خواب آ کھوں میں سجائے غیر قا و ی طریقے سے ترکی پہ چ ے کی کوشش میں راستے ہی میں اپ ی جا جا آفری کے حوالے کر گیا ہے۔

پہلے مسافت کی سختیوں سے آدھ موا ہوا اور آخری سا س ایرا ی فورسز کی گولیوں ے تمام کی۔ یہ ایک اور پہلا وجوا تو ہیں تھا۔ ہم اپ ے ہزاروں وجوا وں کو ا ہی راستوں کی بھی ٹ چڑھا چکے ہیں۔ کچھ کو سم دروں کی بے رحم لہروں کے حوالے کیا اور باقیوں کو ترک اور ایرا ی فورسز کی گولیوں کا شا ہ ب وایا ہے، لیک ا کی جا وں کے چلے جا ے سے واز شریف کی سیاست کو کچھ ہوا تھا، ہ آصف علی زرداری کی سیاست اکام ہوئی تھی اور اب ئے پاکستا کے ئے کپتا کے کھلاڑیوں میں بھی کوئی کمی آئی ہے، ہ کسی کو اپ ی ذمہ داری کا احساس ہوا کہ ہم ے 50 لاکھ ئے گھروں اور ایک کروڑ وکریوں کا جو وعدہ کیا تھا، اس کا کیا ب ا؟

بتایا جائے کہ مَیں کس کے ہاتھ پر اپ ے وجوا وں کا خو تلاش کروں؟ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ہمارے وجوا بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس طرح ملک سے فرار ہوں اور ایسے پُر خطر راستوں سے دوسرے ممالک میں داخل ہو ے کی کوشش میں جا کی بازی ہار جائیں؟ کوئی چھ ماہ پہلے میرے ایک مرحوم دوست کے بیٹے کا مجھے پتا چلا کہ وہ بھی یہاں سے بھاگ کر یو ا پہ چ ے کے لیے چھ لاکھ روپیہ ایج ٹ کو دے کر چلا گیا ہے۔ لگ بھگ ڈیڑھ ماہ بعد وہ واپس آگیا۔ مَیں ے اس سے جب سفر کی روداد س ی تو کا پ اٹھا، وہ وجوا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہا تھا اور کر ا بھی چاہیے تھا کہ وہ ز دہ واپس آگیا، جبکہ اس کے کئی ہمراہی اس کی آ کھوں کے سام ے تڑپ تڑپ کر ز دگی سے م ہ موڑ کر دارفا ی کی طرف کوچ کر چکے تھے۔ ا کو پائپوں کے ذریعے سے کئی دی الوں کو کراس کرایا گیا۔ فورسز سے ڈ ڈے کھائے اور دوسری یا تیسری بار ترکی کا بارڈر کراس کر ے کی کوشش میں گولیوں کی بوچھاڑ کا سام ا کر ا پڑا۔

علامہ اقبالؒ ے جس کھیت کو جلا ے کی بات کی تھی؟ کیا ہمیں ماچس کی ایک تیلی بھی میسر ہیں کہ اس کھیت کو جلا ہی سکیں، جس سے میسر ہیں دہقاں کو روزی؟ کیا اب بھی اس ملک میں ا قلاب لا ا مشکل ہے؟ تو پھر یہ ملک صرف ایلیٹ کلاس ہی کے لیے ب ایا گیا تھا۔ گو کہ تب بھی جا یں اور عزتیں صرف غریبوں ہی ے قربا کی تھیں۔ اب اس ملک کے مالک صرف جاگیردار، سرمایہ دار، مذہبی ٹھیکیدار، بیوروکریٹ اور فوجی ج رل ہیں، ہم ا کے غلام ہیں۔ ہمارا کام ا کی بلا معاوضہ خدمت کے سوا کچھ ہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم