اقلیتوں کے مذہبی عقائد میں مداخلت مناسب نہیں

اقلیتوں کے مذہبی عقائد میں مداخلت مناسب نہیں
اقلیتوں کے مذہبی عقائد میں مداخلت مناسب نہیں

  



یادشِ بخیر!پاکستان کے آئین میں، جس پر کسی اقلیتی رُکن کے دستخط نہیں، اقلیتوں کے حقوق کے ضمن میں متضاد قوانین اور شقیں موجود ہیں، جن میں اُنہیں اپنے مذہب، عقیدے اور مذہبی روایات کے مطابق زندگی کے شب و روز گزارنے کی آزادی اور گنجائش موجود ہے۔باایں ہمہ پھر بھی اقلیتوں، خصوصاً مسیحیوں کو وطنِ عزیز میں کئی ناروأ قوانین، جبری تبدیلی مذہب، ایذا رسانی اور دیگر سماجی اور معاشرتی مشکلات و مسائل کا سامنا قیامِ پاکستان سے تادمِ تحریر کرنا پڑ رہا ہے اور اب تو ریاست اور عدالتیں بھی اِس میں شامل ہو گئی ہیں۔گذشتہ دنوں خیبرپختونخوا کے گورنر نے مسیحیوں کے زرخرید130برس قدیم تعلیمی ادارے ایڈورڈ کالج پشاور پر جبری قبضہ کر کے اُسے سرکاری تحویل میں لے لیا اور ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جب مسیحیوں نے پشاور ہائی کورٹ میں اس ناانصافی کے خلاف رٹ دائر کی تو عدالت نے بھی خیبرپختونخوا کی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا۔

مسیحی اداروں کو سرکاری تحویل میں لینے کا یہ سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو دور میں شروع ہوا تھا جس کے بعد سرکاری تحویل میں لئے گئے اداروں کی حالت ابتر ہو گئی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن دنوں خیبرپختونخوا میں مفتی محمود اور نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت تھی، انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اُس پالیسی پر عمل نہیں کیا تھا۔ بعدازاں مسلم لیگ (ق) کے دور میں کچھ ادارے ڈی نیشنلائز ہوئے، جن میں ایف سی کالج لاہور بھی شامل تھا، جو اب یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر کے ایک عظیم ادارہ بن گیا ہے،جبکہ گورڈن کالج راولپنڈی، مرے کالج سیالکوٹ اور کئی دیگر ادارے آج بھی سرکاری تحویل میں ہیں اور اُن کی عمارتوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ اسی طرح ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی اور علامہ اقبال روڈ لاہور میں قائم بے سہارا بزرگ خواتین و حضرات کی اقامت گاہ گوشہئ امن تباہ شدہ حالت میں آج بھی نوحہ کناں ہے۔ ہم یہاں کس کس کی بات کریں۔

تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کُجا کُجا نہم

اِن زمینی حقائق کے ساتھ موجودہ حکومت نے اپنے نامزد اقلیتی اراکین اسمبلی کے تعاون سے مسیحیوں کے شادی اور طلاق کے قوانین میں بھی انسانی حقوق کے نام پر ترمیم و اضافے پر مشتمل بل کابینہ اور اسمبلی سے منظور کرانے کے لئے تیار کر لیا ہے،جبکہ یہ بل بائبل مقدس میں شادی اور طلاق کے حوالے سے صاف و شفاف ہدایات کے قطعی منافی ہے۔ اِس سے چند سال قبل لاہور ہائی کورٹ نے بھی انسانی حقوق کے نام پر کسی جوڑے کو طلاق دینے کا حق، ناحق دے دیا تھا، جبکہ انجیلِ جلیل میں یسوع المسیح کے واضح ارشادات اور فرمان موجود ہیں، جن کے مطابق خدا نے آدم اور حوا کی جوڑی بنائی اور خدا اگر چاہتا تو آدم کو اور بھی حوائیں بیوی کے طور پر بنا دیتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بائبل مقدس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جنہیں خدا نے جوڑا ہے، اُنہیں دنیا کی کوئی طاقت اور قانون جدا نہیں کر سکتا، صرف موت ہی اُن کو جدا کر سکتی ہے۔ خداوند یسوع المسیح کے فرمان کے مطابق جو شخص طلاق یافتہ، یعنی چھوڑی ہوئی خاتون سے بیاہ کرتا ہے، وہ زنا کا مرتکب ہوتا ہے، جس کی سزا بائبل مقدس میں مرقوم ہے، لہٰذا مسیحی نکاح دیگر مذاہب کی طرح ایک ساتھ زندگی گزارنے کا محض معاہدہ نہیں،بلکہ ایک مقدس رسم ہے۔

نکاح کے دوران ہونے والے میاں بیوی باقاعدہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے حالات، تنگ دستی،مشکلات اور ہر قسم کے دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کے وفادار رہیں گے اور تاحیات ایک دوسرے کے ساتھ نباہیں گے اورکبھی جدا نہیں ہوں گے۔ یہ قول و قرار کتابِ مقدّس کی موجودگی میں کئے جاتے ہیں، جس سے کوئی مسیحی روگردانی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا، لہٰذا مسیحیوں کے پرسنل لاء کے تحت شادی اور طلاق کے قوانین میں کسی قسم کی ترمیم اور اضافہ کھلے الفاظ میں مداخلت فی الدین ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اسی طرح ہے کہ کل کلاں کوئی سرا پھرا یا سرپھری خاتون انسانی مساوی حقوق کے نام پر خواتین کے لئے چار نکاحوں کی اجازت مانگ لے یا اس نوع کا کوئی اور غیر شرعی اور خلافِ دین مطالبہ کر دے تو یقینا اُسے مسترد کر دیا جائے گا اور مذمت بھی کی جائے گی۔

لہٰذا اس مرحلے میں ہم حکومتِ وقت اور اُس کے نامزد اقلیتی حاشیہ برداروں اراکینِ اسمبلی کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر بائبل مقدس اور مسیحیوں کے عقائد و مقدس روایات کے خلاف کوئی بل پاس کیا گیا تو اُسے قطعی تسلیم نہیں کیا جائے گااور اِس مذموم اقدام کی مذمت اور اُس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔ اس سلسلے میں مسیحیوں کے مختلف مکاتب فکر جن میں کاتھولک، پروٹسٹنٹ اور پیرا چرچ آرگنائزیشن بھی شامل ہیں، کے سرکردہ اور مقتدر مسیحی علمائے دین ملک بھر میں مختلف مقامات پر احتجاجی جلسوں، ریلیوں اور پریس کانفرنسوں میں اپنے نقطہ نظر کا اظہار کر کے مجوزہ بل کو مسترد کر چکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس طرح پاکستان میں مسلمانوں کے حوالے سے شرعی قوانین یا دیگر امور میں اسلامی نظریاتی کونسل کے علمائے دین سے مشورہ اور رائے لی جاتی ہے، پھر انہیں آئینی اور قانونی حیثیت دی جاتی ہے،

اُسی طرح مسیحی علمائے دین سے بھی راہنمائی لی جاتی، لیکن مسیحیوں کے بارے میں یہ طریقہ اپنانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ غالباً مسیحی علمائے دین کو اس قابل ہی نہیں سمجھا گیا کہ اُن کی رائے لی جائے۔ محولا بالا گزارشات کی روشنی میں دیکھا جائے تو مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کو اب بھی ویسے ہی مسائل و مشکلات کا سامنا ہے،جن کا متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وطنِ عزیز پاکستان کی اقلیتیں پاکستان کا پارٹ اینڈ پارسل، یعنی جزو لاینفک ہیں۔

قومی پرچم میں سفید رنگ اِس کا غماز ہے اور مسیحیوں نے قیامِ پاکستان کے لئے عملی جدوجہد کی اور پاکستان کے حق میں باؤنڈری کمیشن کے سامنے ووٹ بھی دیا تھا، لیکن آج اُنہیں دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری سمجھ کر اُن کے پرسنل لاز اور دینی عقائد کے خلاف قوانین بنائے جا رہے ہیں، جس سے وطنِ عزیز کی دُنیا بھر میں جگہ ہنسائی ہو گی، لہٰذا حکومتِ وقت کو چاہیے کہ وہ وطنِ عزیز کے تمام شہریوں کے پرسنل لاز کا احترام کرے اور اُن کے صلاح و مشورہ کے بغیر اُن میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کی جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ حکومت مسیحیوں کے تمام مسالک اور مکاتب فکر کے علمائے کرام سے اس بل کے حوالے سے راہنمائی حاصل کرنے کے اقدامات کرے۔ یوں کوئی قابل ِ قبول حل اور بِل تیار کیا جا سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم