قلم کی خریدو فروخت کا کاروبار!

قلم کی خریدو فروخت کا کاروبار!
قلم کی خریدو فروخت کا کاروبار!

  



سونے کو آگ پر پرکھتے ہیں،اور انسان کو مصائب میں۔سیاست دان مگر سونا ہیں،نہ سیدھے سبھاؤ انسان!ان کی پہچان، مصیبت سے کہیں زیادہ اقتدار میں ہے،یا اقتدار کی غلام گردش سے نکل،نکال دیئے جانے پر! اختیار ملنے اور چھن جانے کی صورت میں کسی بھی شخص کی حقیقت و اصلیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔امیر المومنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ نے ارشاد فرمایا تھا: ”اقتدار و اختیار ملنے پر انسان تبدیل نہیں،بلکہ بے نقاب ہوتا ہے“۔اِس رعایت سے گویا اقتدار و اختیار سے محرومی کی شکل میں بھی اصل چہرے پر کوئی حجاب باقی نہیں رہتا!دیکھئے،سابقہ اور موجودہ حکمران مطلقاً بے نقاب و بے حجاب ہوتے جاتے ہیں!……مقامی اور بین الاقوامی سطح پر حالات کی رفتار کافی سے زیادہ تیز ہو گئی ہے۔واقعات کا بہاؤ، پلک جھپکتے ہی ایک نیا رُخ اختیار کر لیتا ہے۔ افغان امریکہ مذاکرات،روس ترکی تعلقات اور امریکہ ایران مناقشات! مقامی ماحول میں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری،احتساب جج ملک ارشد کی رنگین و سنگین وڈیو اور برطانوی اخبار ”ڈیلی میل“ میں چھوٹے میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان سے متعلق ہوشربا کہانی!

پورا ملک اور قوم،اگر اسے ملک اور قوم کہا جا سکے تو باقاعدہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہر واقعہ کو اپنے ذاتی اور طبقاتی مفادات کے تناظر میں ہی دیکھا گیا۔حامی و مخالف دھڑوں کی حمایت یا مخالفت کا نہ تو کوئی اصول ہے اور نہ تائید و تردید کے لئے دلیل!چونکہ ہم ایک پارٹی یا لیڈر سے جڑے ہوئے ہیں،لہٰذا سچ کو کسی صورت بھی سچ جاننا اور ماننا نہیں۔میرا لیڈر بہرحال پوتّر ہے،جبکہ آپ کی سیاسی قیادت پاپی! ایک قائد ”فرشتہ“ ہے تو دوسرا بلا شک و شبہ ”شیطان!“ یہ اندازِ گفتگو یا طریق ِ ترازو کسی پہلو سے جائز نہیں۔کوئی ایک آدمی بھی اپنے قائد کی خامی اور دوسرے کی خوبی بتانے کا روادار نہیں۔اس پلڑے میں فرشتے ہی فرشتے ہیں اور اُس میں شیطان ہی شیطان!واہ! کیا طرزِ انصاف ہے!پورے کا پورا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی مفاد پرستانہ خیال و حال رکھتا ہے!

سرشام ایسے ایسے مبصر، تجزیہ نگار اور دانشور پردہئ سکرین پر نمودار ہوتے،کاروبارِ صحافت کرتے، اپنے اپنے مطلب کا بھاشن سناتے اور وہ وہ درفنطنیاں چھوڑتے ہیں کہ سر چکرا کر رہ جاتا ہے۔ اے کاش! کبھی ان کے باطن کی تاریخ اور ذہنی جغرافیے کا بلا کم و کاست تجزیہ ہو! کِس کِس نے کِس کِس سے کیا کیا لیا اور اس کے عوضانے میں کیا کیا دیا؟ آغا شورش کاشمیری مرحوم کہا کرتے تھے: قلم کی آبرو فروت کرنا بھی دراصل قحبہ گری ہی کا ایک کاروبار ہے،بلکہ طوائفوں کی عصمت فروشی سے کچھ زائد!وہ جسم بیچنے کا دھندہ کرتی ہیں تو یہ ضمیرکا سودا۔

غور کیا جانا چاہئے کہ الفاظ و قلم کی خرید و فروخت کا مکروہ کاروبار کس کس کی شناخت ہے، کس کس کی شناخت نہیں؟ فریق ثانی کو انگلیوں پر گننا زیادہ آسان ہو گا۔واقعہ یہ ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے میک اَپ زدہ چہروں کا حسُن و قبح مکمل سامنے آ چکا ہوا ہے۔ کسی کے بارے میں ذرا بھر بھی اُلجھاؤ یا ابہام باقی نہیں رہا۔شرط بس یہ ہے کہ ہم مفاداتی رنگ کی عینکوں سے دیکھنے کی بجائے چشم حقیقت وا کریں!بدنیتی،بدعنوانی، عیاری اور بدکاری کے ثبوت چہار سو بکھرے پڑے ہیں،اثاثوں کے جغرافیے سے بڑھ کر اور کون سی دلیل درکار ہے؟رزق حلال تو صحیح معنوں میں محدودیت کا نام ہے۔ قوت لایموت! مَیں یہ نہیں جانتا کہ اندھا دھند وسائل ایمان داری اور خون پسینے کی کمائی سے بھی دستیاب ہو سکتے ہیں!یہ بھی ایک ناقابل ِ تردید حقیقت ہے کہ وطن ِ عزیز پاکستان بددیانتوں، بدقماشوں، بدمعاشوں،

چوروں،ڈاکوؤں،لٹیروں، ظالموں، بدکاروں اور وڈیروں کے لئے کل بھی جنت تھا، اور آج بھی ہے، جانے چوہے بلی کا یہ کھیل کب تک جاری رہے گا؟ اس بدقسمت ملک میں کبھی قانون کی حکمرانی نہیں رہی،ہال! حکمرانی کا قانون لیکن ابتدا سے جاری و ساری ہے! صورتِ حال یہ ہے کہ یہاں جو جتنا کرپٹ ہے، وہ اتنا ہی زیادہ شانت ہے،دُکھ تو عوام کا نصیب ہیں۔ کرپشن والے تو شادی میں آئے ہوئے ہیں، گویا صبح و شام ایک میلہ دیکھتے جاتے ہیں۔لوگو! کرپٹ مافیا اور دہشت گرد کا کوئی مذہب یا ملک نہیں ہوتا، وہ بس کرپٹ یا دہشت گرد ہیں، کیا کرپٹ،دہشت گرد نہیں ہوتے؟

مزید : رائے /کالم