پرنٹ میڈیاپر پھر سے عروج آئے گا

پرنٹ میڈیاپر پھر سے عروج آئے گا
پرنٹ میڈیاپر پھر سے عروج آئے گا

  



انسانی تاریخ کا یہ سبق صدیوں سے رائج ہے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ انسان اکثر ترقی کی منازل طے کرتا اس بلندی تک پہنچ جاتا ہے، جہاں سے زوال کے سفر کا آغاز ہوجاتا ہے۔ یہ بھی قانونِ فطرت ہے کہ بجھتی ہوئی شمع کا دھواں آخر اپنے مرکز کی جانب لوٹ کر آتا ہے۔ یہ معاملہ صرف بجھتی ہوئی شمع کے ساتھ ہی نہیں،بلکہ ترقی کی ہر اس اکائی کے ساتھ ہے جس نے صدیوں کو عروج بخشااور وہاں تک لے آئی جہاں اپنی مٹی سے رشتے کمزور پڑنے لگے۔ ہم نے اپنی آسائش کے لئے روبوٹ تیار کئے، مشینیں بنائیں اور نہ جانے کیا کچھ ایجاد کرکے سمجھ لیا کہ اب کائنات فتح ہو چکی۔ ہم فطرت سے بھاگنے کی کوشش میں خود اپنے آپ سے دور نکل آئے۔ اس سہل پسندی نے ہمیں سبق دیا کہ شاید یہ ترقی کا وہی عروج ہے۔جہاں سے اب زوال کے سوا کوئی راہ نہیں ملتی۔ ہم نے جتنی آسائشیں کمائیں، ہمارے وجود میں اتنی ہی بیماریوں نے گھر کر لیا۔ ہم جتنے متحرک رہے اور اپنے وجود کو کھیت کھلیان یا مشقت کے تابع رکھا، زندگی بھی اتنی ہی خوشحال اور صحت مندرہی۔ خدا نخواستہ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہمیں تمام آسائشیں ترک کر کے پھرسے پتھر کے دور میں چلے جانا چاہیے یا گاڑیاں کباڑیوں کو دے کر خچر،گدھے یا گھوڑے کی سواری کرنی چاہیے۔ کمپیوٹر توڑ کر فائلوں کا بوجھ پھر سے کلرکوں کی پشت پر لاد دینا چاہیے۔ میرا موقف یہ ہے کہ ہمیں ترقی کی اتنی ہی منازل تک سفر کرنا چاہئیے، جہاں سے نکتہ زوالقریب نہ ہو۔ تبھی انسان بہتر زندگی گزار سکتا ہے۔

آج ایک اہم معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ خیال آیا کہ شاید وہ شعبہ جس سے میرا رزق وابستہ ہے، یعنی میڈیا بھی اب ایسی بلندی پر آن پہنچا ہے جہاں سے اب اس کے زوال کا سفربھی شروع ہو چُکا۔ بظاہردکھائی بھی یہی دے رہا ہے کہ برساتی کیڑوں کی طرح نمودار ہونے والے ٹی وی چینل اور ان کی غیر فطری اولادوں نے میڈیا کا جو حشر کیا ہے،اس کے بعد رفو گری کی گنجائش شاید کم ہی ہے۔جھوٹ اور پروپیگنڈے کی اس مچھلی منڈی میں دلیل اور خبر دینے والوں کی آواز جیسے دب سی گئی ہے۔ شروع شروع میں یہ نیوزچینل دلچسپ لگتے تھے، ایسا لگتا تھا جیسے اب اخبارکا دور تو جیسے ماضی کا حصہ بن جائے گا۔

نیوز چینل کچھ اس لئے بھی مقبول ہوئے کہ موجودہ نسل نے براہ راست سیاسی مناظرے نما سرکس پہلی باردیکھے تھے۔ سیاستدان ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے، پگڑیاں اُچھالی جاتیں، تماشا ہوتا تو وہ عام آدمی جو ان کے مظالم سہتا تھا،اسے ایک عجیب سی تسکین ملتی۔ اس سرکس میں بڑے بڑے سیاسی لیڈر بے نقاب ہوئے، بہت سوں کے ساتھ وہ ہوا جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اس میڈیا سرکس نے ایسے برساتی مینڈک بڑی تعداد میں پیدا کئے جو حالات دیکھ کر شور مچاتے۔ ایک دور ایسا بھی گزرا، جب ان برساتی مینڈکوں کے شور میں مانوس صحافی اور خوشگوار آوازیں بھی دب کر رہ گئیں۔ کبھی کبھی تو یہ بھی محسوس ہوا کہ شاید حکومت گرانے اور بنانے میں جو کردار ان کا ہے،وہ اُن ووٹروں کا بھی نہیں جو ہر انتخاب میں لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں۔

چونکہ یہ لوگ اپنی حدود سے تجاوز کر رہے تھے اور بات دلیل سے ہوتے ہوئے من گھڑت تاویلوں تک آن پہنچی تھی، سو اس غیر فطری ترقی کو زوال آنا ہی تھا۔ ان برساتی مینڈکوں کا زوال آیا بھی تو کن کے ہاتھوں، اُن بھانڈوں کے ہاتھوں جو اسٹیج پر سطحی جگتیں لگا کر اپنا روزگار کمایا کرتے تھے۔سیاسی سرکس سے زیادہ ریٹنگ یہ بھانڈ لینے لگے،اور رفتہ رفتہ وہ دوکانیں ٹھنڈی پڑنے لگیں، جہاں بیٹھ کریہ پیرا شوٹرزاورنام نہاد دانشور دوسروں کی پگڑیاں اُچھال کر روز تماشا کیا کرتے تھے۔

نیوز چینلوں کا مزاج بدلا توناظر کبھی سیاستدانوں کے مزاحیہ خاکے دیکھتا اور کبھی بھانڈوں کی سیاسی جگتیں سُنتا۔ اسے اپنی تسلی کے لئے یہاں سے خوب مواد ملنے لگا۔ اب ملکی پالیسی بھانڈوں کے ہاتھوں بے توقیر ہونے لگی۔میڈیا کی ہر شاخ پر یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی نہ کوئی جُگت باز اُلّو بیٹھا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کی سکرین پر بیٹھے یہ بھانڈ بھی اپنی اہمیت کھونے لگے۔ان بھانڈوں کے ”رِنگ ماسٹروں“ کو یہ گمان ہونے لگا تھا کہ وہ کوئی بڑی توپ چیز ہیں، رفتہ رفتہ ناپاک پانی کی جھاگ کی طرح بیٹھتے چلے گئے۔ اب ٹی وی سکرین پرکہیں کہیں ایک بار پھر وہی مہذب اور جاندار مواد دکھائی دینے لگاہے جس کی بنیاد دلیل پر ہوتی ہے، یعنی جگت بازی کی شمع بجھنے لگی اور برساتی مینڈکوں کا شور بھی تھمنے لگا،دھواں اپنے مرکز کی طرف بڑھنے لگا اور بات وہیں آن ٹھہری ہے جہاں دلیل اور مدبرانہ گفتگو کی بنیاد پڑتی ہے۔وہ تصور مٹ جاتا ہے،

جسے تصویر تک لانا ممکن نہ ہو…… یا پھر یوں کہہ لیجئے کہ حقیقت کی تصویر کا تصور باندھنا تو درست ہے،لیکن غیر تصور کو تصویر سمجھ لینا دیوانگی ہے۔ دلیل انسانی فطرت کا حصہ ہے اور دلیل کے ذریعے ہی دوسرے کو قائل کیا جا سکتا ہے۔ اب یہی معاملہ اس بوگس تصور کا بھی ہے جس میں یہ خیال کر لیا گیا تھا کہ شاید آنے والے وقت میں اخبارات موجود نہیں رہیں گے اور تمام تر میڈیا الیکٹرانک سے ہوتا ہوا ڈیجیٹل میڈیا تک اپنا سفرطے کرکے اپنا عروج دیکھے گا۔اس کے برعکس اب مجھے ایساہوتا دکھائی نہیں دیتا، جس طرح موبائل فون کی سکرین میں وقت کے اعشاریے موجود ہوتے ہیں، لیکن لوگ ایک بار پھر کلائی پربندھی گھڑی کی طرف لوٹ رہے ہیں، اسی طرح آنے والے وقت میں ایک بار پھر کی بورڈ کی جگہ قلم اور نام نہاد الیکٹرانک میڈیا کی جگہ پھرسے پرنٹ میڈیا لے گا۔اس کی بنیادی وجہ وہی دلیل سے گفتگو کی تکمیل تک کا سفر ہے، جس میں دوسرے کو قائل کرنا آسان رہتا ہے۔ آپ اخبارات میں مصنوعی بحران پیدا کرنے والی بات ہی چھوڑیں،خود اپنی آنکھوں سے مغربی دنیا کو دیکھئے تو سمجھ میں آئے گا کہ وہ واپس پرنٹ میڈیا کی طرف لوٹ رہی ہے۔

خودہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت الیکٹرانک کی نسبت بڑھ رہی ہے۔ ہم چونکہ دونوں سے ترقی کے سفر میں پیچھے ہیں، سو آنے والے وقت میں ہماری اکثریت بھی پرنٹ میڈیا کی طرف واپس لوٹے گی۔ ممکن ہے ابھی کسی کو میری رائے سے اختلاف ہو اور بہت سے لوگ اسے دیوانے کا خواب سمجھیں، لیکن دنیا کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ مصنوعی ترقی ہو یا مصنوعی بحران، وہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتے۔آپ اخبارات کو مصنوعی طریقے سے کمزور تو بنا سکتے ہیں، لیکن ان کا قتل نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے آئندہ کچھ روز میں مزید گفتگو رہے گی، ابھی اتنا ہی کہنا ہے کہ جو دیپ مولانا ظفر علی خان یاشورش کاشمیری جیسے بڑے لوگوں نے جلایا اور بعد میں اس کی حفاظت ضیاء شاہد اور مجیب الرحمان شامی جیسے لوگوں نے کی، وہ ابھی بجھا نہیں ہے۔آندھیوں کا زور ٹوٹ چکا، اب اس کی تھر تھراتی لو پھر سے زور پکڑے گی اور بہت سی نا بالغ سوچوں سے جنم لیتے بے ہودہ تاریک خیالات کا سینہ چاک کر دے گی۔

مزید : رائے /کالم