مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ کا کوئی امکان نہیں!

مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ کا کوئی امکان نہیں!
مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ کا کوئی امکان نہیں!

  



پاکستانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے جو خطاب کیا تھا، اس کی بہت تعریفیں کی گئیں۔ جس طرح انہوں نے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا، اسلامو فوبیا کے انٹرنیشنل امیج کی جس طرح تکذیب کی، اسلام کو جس طرح امن و سلامتی کا دین بتایا وہ واقعی اس خطاب کے قابلِ ستائش حصے تھے اور پھر انہوں نے جس طرح مسئلہ کشمیر کو دو جوہری طاقتوں کے درمیان ایک خطرناک بارودی فلیتے کے طور پر پیش کیا اور عالمی ضمیر کو جس طرح جھنجھوڑنے کی سعی کی وہ حد درجہ اہم اور تفکر انگیز باتیں تھیں۔ ان کا یہ استدلال کہ اگر پاکستان اور انڈیا میں جنگ شروع ہوئی تو اس کا اختتام نہ صرف برصغیر کے لئے بلکہ ساری دنیا کے لئے بربادی کا باعث بن سکتا ہے، بڑا زور دار تھا۔ لیکن دنیا کی ان طاقتوں نے جن کے ہاتھوں میں امن یا جنگ کی کلید ہے،انہوں نے آیا عمران خان کی اس دھمکی (Threat) کا کوئی اثر لیا یا نہیں، اس کا اظہار سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل اراکین کی طرف سے نہ کیا گیا۔ اور تو اور ہمارے سب سے زیادہ گہرے اور بااعتماد دوست (چین) نے بھی کھل کر ہمارے وزیراعظم کی آواز میں اپنی آواز شامل نہ کی۔ پاکستان کے لئے یہ صورتِ حال پریشان کن ہے۔ پاکستانی جوہری تھریٹ کا سنجیدگی سے کوئی نوٹس نہ لینے کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں اس کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

1۔ عالمی طاقتوں کے نزدیک مستقبل قریب یا بعید میں کسی روائتی جنگ کی شروعات کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ان طاقتوں کو معلوم ہے کہ کوئی ملک جب کسی دوسرے ملک کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے کی بابت سوچتا ہے تو اسے بہت سی چیزوں کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ مثلاً کیا وہ ملک کسی قابلِ لحاظ دورانیئے کی جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے؟…… کیا اس جنگ میں اس کا ساتھ دینے کے لئے کوئی عالمی طاقت تیار ہو گی؟…… کیا اس روائتی جنگ کا دورانیہ اس ملک کے جنگی سٹیمنا کے اندر رہے گا یا اس سے باہر نکل جائے گا…… کیا اس کی قوم اس روائتی جنگ کے لئے تیار ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ جب بڑی عالمی طاقتیں ان سوالوں پر غور کرتی ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان، انڈیا کے ساتھ کسی دوبدو روائتی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اور نہ ہی انڈیا، پاکستان کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں ملوث ہو سکتا ہے۔

2۔ دوسرا سوال جو سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے ”بزرگوں“ (Elders) کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک نے کبھی ماضی میں کسی عالمی جنگ میں حصہ لیا ہے تو اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔

تقسیمِ برصغیر سے پہلے جنگ عظیم اول اور دوم میں برٹش انڈین آرمی سے جو نفری ان عالمی جنگوں کے لئے سمندر پار ممالک میں بھیجی گئی تھی وہ اس دور کے اعتبار سے جدید جنگ و جدل کے تجربات سے بالکل بے بہرہ تھی۔ برٹش انڈین آرمی نے یورپ، مشرق وسطیٰ اور برما میں ان جنگوں میں جو بھی حصہ لیا وہ برائے نام تھا۔ اگرچہ دوسری جنگ عظیم میں انڈین آرمی کی تعداد 26لاکھ ہو گئی تھی لیکن اس کثیر تعداد فوج نے گھمسان کے جنگی معرکوں میں کوئی زیادہ جوہر نہ دکھائے۔

اس برٹش انڈین آرمی کی حربی کارکردگی کا موازنہ اگر ان جنگوں میں شریک دوسری اتحادی افواج (برطانوی، روسی،امریکی، فرانسیسی، آسٹریلوی وغیرہ) سے کیا جائے تو کہا جائے گا کہ اتحادی کمانڈروں نے اس وجہ سے برٹش انڈین آرمی کو زیادہ گرم محاذوں اور گھمسان کے آپریشنوں میں حصہ لینے سے باز رکھا کہ انڈین سپاہی کو جدید جنگ و جدل کے اصولوں اور جدید اسلحہ جات کے استعمال کی کچھ خبر نہ تھی۔ تقسیمِ برصغیرکے وقت پاکستان کے حصے میں جو مسلم فوج آئی اس میں زیادہ تعداد انفنٹری کی تھی۔ آرٹلری کا پورا شعبہ برٹش افسروں کے پاس تھا۔ یہی حال آرمر، انجینئرز اور سگنلز کا تھا۔ اور انفنٹری کی بھی جو انڈین یونٹیں ان عالمی جنگوں میں استعمال کی گئیں وہ بیشتر پیادہ (Foot Infantry) تھیں۔ بکتر بند یا موٹر گاڑیوں میں سوار انفنٹری (Mounted Infantry)جو عالمی جنگوں میں استعمال ہوئی اس میں انڈین سپاہ کا حصہ برائے نام تھا۔

علاوہ ازیں جنگ کی دوسری سروسز (بحریہ، فضائیہ، میرین) میں بھی ہندوستانی سپاہ کا رول برائے نام تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انڈین سولجر کو جدید ہتھیاروں پر کسی نے سکھلائی ہی نہیں دی تھی۔ انگریزوں کی آمد سے پہلے مغل فوج میں ہاتھی،گھوڑے، تیر، کمان اور نیزے وغیرہ تھے۔ بابر نے 1526ء میں پانی پت کی پہلی لڑائی میں جو توپخانہ استعمال کیا اور جو ابراہیم لودھی کی کثیر تعداد فوج (بابر کے مقابلے میں) کی شکست کا باعث بنا اس کی مزید ڈویلپ منٹ کا کوئی ذکر اس دور کی تاریخ میں نہیں ملتا۔ مغلوں نے جو لڑائیاں بابر سے اورنگ زیب تک کے ادوار میں لڑیں وہ ان ہندوستانی راجوں مہاراجوں کے خلاف تھیں جن کی افواج میں صرف روائتی سلاحِ جنگ موجود تھے۔

ہندو حکمرانوں کی افواج بھی آرٹلری وغیرہ کے نام سے ناآشنا تھیں۔ اس لئے مغل افواج میں توپخانے کا شعبہ گہنایا رہا اور جب انگریزوں نے مغلوں اور دوسرے ہندوستانی حکمرانوں (سراج الدولہ، سلطان ٹیپو، مرہٹے اور نظام حیدرآباد وغیرہ) کے خلاف جنگیں لڑیں تو ان میں برٹش فتوحات کا دارومدار جدید وار ٹیکنالوجی پر رہا…… یہی وجہ تھی کہ جب انگریز نے برٹش انڈین آرمی میں دیسی / مقامی ٹروپس کو انڈکٹ کیا تو ان کو جدید اسلحہ جات کی تکنیکی باریکیوں اور جدید جنگی موشگافیوں کی کچھ خبر نہ تھی اور ویسے بھی برطانوی حکمرانوں نے انڈین ٹروپس کو جان بوجھ کر جدید جنگی اسلحہ جات کی ہوا نہ لگنے دی۔ چنانچہ جب برصغیر تقسیم ہوا تو ہمارے حصے میں جو فوج آئی اس کا زیادہ حصہ انفنٹری پر مشتمل تھا۔ فوج کے دوسرے حصوں کی شُد بُد پاکستان آرمی کو برائے نام تھی۔ اور یہی حال باقی دو سروسوں (نیوی اور ائر فورس) کا بھی تھا۔

پاکستانی افواج کے علی الرغم دنیا کے پانچوں بڑے ملکوں (امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین) کی افواج دونوں عالمی جنگوں کی آزمودہ کار تھیں۔ دوسری عالمی جنگ میں جوہری جنگ کا دورانیہ تو صرف تین دن کا تھا۔6اگست 1945ء کو ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا گیا اور اس کے تین دن بعد 9اگست کو ناگاساکی پر دوسرا جوہری حملہ کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں دوسری عالمی جنگ کا چھ سالہ دورانیہ صرف روائتی جنگ و جدال پر مشتمل تھا۔ اسی لئے بعض ماہرینِ جنگ یہ دلیل بھی لاتے ہیں کہ آئندہ کوئی عالمی جنگ اگر ہوئی بھی تو وہ 99% روائتی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی…… اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی اگر جنگ ہوئی تو اس کا دورانیہ خواہ چند دنوں تک محدود ہوگا، اس کا بیشتر حصہ روائتی جنگ پر مشتمل ہو گا اور یہ جو ہمارے وزیراعظم نے جوہری دہلیز تک جلد آ جانے کی بات کی ہے اس میں کوئی زیادہ وزن نہیں۔ جوہری جنگ کی شروعات کے لئے جو پیرا فرنیلیا (Parapharnalia)درکار ہوتا ہے اس کا تعلق جوہری جنگ و جدال کی بجائے روائتی جنگ سے متعلق ہو گا۔

یعنی جوہری وار ہیڈز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے، ان کو پرائم کرنے، لانچنگ پیڈز تک پہنچانے اور فائر کرنے کے لئے جو جنگی مشینری درکار ہو گی اس کا تعلق روائتی جنگ کی مشینری سے ہو گا۔ اگر بحریہ اور فضائیہ کو بھی جوہری جنگ میں استعمال کیا گیا تو ان دونوں سروسز کا غالب حصہ بھی روائتی جنگوں کی مشینری پر مشتمل ہو گا۔ ایسے نہیں ہو سکتا کہ پاکستان روائتی جنگ کا سٹیمنا ختم ہونے کے بعد فوراً جوہری حملے کی طرف چلا جائے گا۔ پاکستان اور انڈیا کی میزائل فورسز بھی ایکدم جوہری وار ہیڈز کے استعمال کی طرف نہیں نکل سکتیں۔ روائتی جنگ سے جوہری جنگ تک کے درمیان جو وقفہ ہو گا اس میں بڑی طاقتیں بیچ میں ”کود“ سکتی ہیں اس لئے پاکستان کی طرف سے جوہری جنگ کی شروعات کی جو تھریٹ استعمال کی گئی، اس کو کسی عالمی طاقت نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔

سرد جنگ کے دوران (1945ء سے 1990ء تک) جب بھی دونوں بلاکوں (ایسٹرن اور ویسٹرن) میں جوہری جنگ کے آثار ہویدا ہوئے ویسا منظر نامہ نہ پاکستان کے پاس ہے اور نہ انڈیا کے پاس۔ اس لئے ان کا خیال ہے کہ یہ دونوں ممالک کبھی جوہری جنگ کی طرف نہیں جائیں گے…… باہمی یقینی خودکشی (Mutual Assured Destruction) کا ڈراوا صرف لفظوں تک محدود رہے گا۔

کشمیر کے مسئلے پر اگر دونوں متحارب فریقوں میں جنگ ہوئی بھی تو اس کا احوال ماضی کی روائتی جنگوں جیسا ہو گا۔ یعنی شائد ہی ایسا ہو کہ کوئی جنگ چار ہفتوں سے زیادہ طول کھینچے۔ عالمی جنگیں اس وجہ سے برسوں پر محیط تھیں کہ وہ دو ملکوں کے مابین نہیں، دو بلاکوں کے مابین تھیں۔ پاکستان اور بھارت کے ساتھ جب تک دوسرے بڑے ممالک شامل نہیں ہوں گے، یہ جنگ زیادہ طول نہیں کھینچے گی اور جوہری دہلیز تک پہنچنے سے پہلے پہلے ختم کروا دی جائے گی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ جیسی واحد عالمی سپریم پاور بھی شمالی کوریا اور ایران کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتی ضرور ہے لیکن کر کچھ بھی نہیں سکتی۔ جب تک شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ دوسری بڑے ممالک (روس، چین وغیرہ) شامل نہیں ہوں گے، امریکہ ان پر حملہ کرنے کی جسارت (یا حماقت) نہیں کرے گا۔

القصہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ انڈیا نے جموں اور کشمیر کے متعلق جس خصوصی سٹیٹس کی تنسیخ کی ہے اس کے خلاف اول اول تو پاکستان نے بڑا ”واویلا“ مچایا تھا لیکن اب معاملہ ٹھنڈا پڑتا نظر آ رہا ہے۔ بڑی عالمی طاقتوں نے انڈیا کو یقین دلایا ہے کہ اگر پاکستان نے جنگ کا راستہ اختیارکیا یا اس کو از راہِ مجبوری بھی انڈیا کے ساتھ جنگ کرنی پڑی تو اس کا اختتام کسی جوہری تنازعے (Nuclear Conflict) پر نہیں حوگا۔ کوئی بھی عالمی طاقت، اب کسی تیسری عالمی جنگ کا تصور نہیں کر سکتی۔ اس لئے پاکستان اور انڈیا کو اپنا ہر تنازعہ خود ہی نمٹانا پڑے گا اور یہ ایک ایسا موضوع ہے جو آرٹیکل 370کی تنسیخ سے پہلے بھی موجود تھا اور مستقبلِ دیدہ میں بھی رہے گا۔ ہاں البتہ آنے والے پاک بھارت وار سنریو پر بحث کا دروازہ کھولا جا سکتا ہے جس پر انشاء اللہ اگلے کالم میں بات ہو گی!

مزید : رائے /کالم